سوانح سیده زینب رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ - دفاعِ اہلِ سنت |…

سوانح سیده زینب رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 16 از 17

(المعارف لابن قتيبة الدينوري صفحہ 58 ،59 باب نسب سیدنا محمد بن عبدالله المصطفىﷺ ⁵- کتاب انساب الاشراف للبلاذري صفحہ406، 407 جلد، 1)

(جمهرة انساب العرب لابن حزم صفحہ143"142 210)

 (السنن الكبرىٰ للبيهقی صفحہ71جلد سابع كتاب النكاح باب تسمية بة ازواج النبيﷺ وبناته)

(مجمع الزوائد للهيثمی صفحہ219 جلد 9 تحت باب فضل خديجةؓ بنتِ خویلد)

 (الاستيعاب لابن عبد البر صفحہ 568 جلد3 تحت ہندبن ابي ہالہ مع الاصابة)

(الروض الانف للسيهلى صفحہ124 جلد1 فصل تزويجه عليه السلام خديجةؓ)

(اسد الغابه لابن اثیر جزری صفحہ434 جلد 5 تحت خديجه أم المؤمنين رضي الله عنها۔)

(البدايه لابن كثير صفحہ 293 ،294 جلد5 باب ذكر زوجاتهٖ صلوات الله وسلامه عليه ورضى الله عنهن واولادهٖﷺ)

(الاصابه لابن حجر صفحہ410 جلد4 تحت ہند بن عتیق)

(سيرة حلبيه صفحہ167 جلد1 الجزء الاول تحت باب تزوجهﷺ خديجه بن خويلد تصنيف علي بن برهان الدین حلبي طبع مصر)

مندرجہ بالا مصنفین نے ابو ہالہ اور عتیق کی اولاد جو خدیجہؓ سے ہوئی تھی ذکر کی ہے لیکن ان میں کسی جگہ بھی زینب نامی لڑکی کا ذکر نہیں کیا اس بناء پر ابنِ ہشام زینب کو سابق ازواج کی لڑکی ذکر کرنے میں منفرد نظر آتا ہے۔

 شیعی حوالہ جات

 مسئلہ ہذا کے متعلق شیعہ علماء و مجتہدین کے چند حوالہ جات تحریر کیئے جاتے ہیں تاکہ مسئلہ ہذا اپنے مقام میں پوری طرح واضح ہو سکے اور ہر ایک فریق اس پر غور کر سکے۔

علی ابنِ عیسیٰ اربلی نے کشف الغمہ جلد روم میں ذکر مناقب خدیجہ کے تحت لکھتا ہے:

 كانت خديجه قبل أن يتزوج بها رسول اللهﷺ عند عتيق بن مائز بن عبد الله بن عمرو بن مخزوم يقال ولدت له جارية وهي ام محمد بن صيفي المخزومي ثم خلف عليها بعد عتيق ابو هالة هند بن الزرارة التيمي فولدت له هند بن هند ثم تزوجها رسول اللهﷺ

(كشف الغمة في معرفة الأئمة بمع ترجمه فارسى ترجمة المناقب جلد ثانی صفحہ 76 تحت مناقب خدیجهؓ)

 شیخ نعمت الله الجزائری نے الانوار النعمانیہ ، جزء اول میں نور مولودی کے تحت لکھا ہے:

 فاول امراءة تزوجها خديجة بنت خويلدؓ وكانت قبله عند عتيق بن عائذ المخزومي فولدت للمجارية ثم تزوجها رسول الله ﷺ واله وربي ابنها هندا

(الانوار النعمانية جلد أول صفحہ 367 نور مولودي تحت حالات خدیجہ بنتِ خویلد)

ملا باقر مجلسی نے حیات القلوب جلد دوم باب 52 میں ذکر کیا ہے:

 و پیش از انکه حضرت او تزویج نماید عتیق بن عائذ مخرومی اور تزویج کرده بود و از او دختر بهم رسانید و بعد از او ابوهاله اسدی را تزویج کرد و هند بن ابی هاله را از بهم رسانید پس حضرت رسول اورا خواستگاری نموود هند پسر او را تربیت نمود

(حیات القلوب صفحک 768 جلد2 باب52 تحت ذكر ازواج نبیﷺ)

شیخ عباس قمی نے اپنی کتاب منتهی الآمال جلد اول فصل ششم میں لکھا ہے:

 وآل مخدره دختر خویلد بنی اسد بن عبد العزی بوده و نخست زوجه عتیق بن مائيد المخروی بودو فرزندے از او آورد که جاريه نام داشت و از پس عتيق زوجة ابوهاله بنى منذرالاسدى گشت و از دهند ین هاله را آورد

(منتهى الآمال صفحہ45 جلد1 فصل ششم دروقائع ایام و سینن عمر مبارک حضرت خاتم البينﷺ)

 مندرجہ بالا شیعی حوالہ جات کا خلاصہ یہ ہے کہ سیدہ خدیجہؓ کے سابق خاوند عقیق سے ایک جاریہ نامی لڑکی پیدا ہوئی اس کو امِ محمد بن صیفی بھی کہا گیا ہے پھر عتيق کے بعد ابو ہالہ کے ساتھ سیدہ خدیجہؓ کا نکاح ہوا اس سے ایک لڑکا ہوا جس کو ہند بن ابی ہالہ کہتے ہیں اس کے بعد رسالت مآبﷺ سے اُم المؤمنین سیدہ خدیجہ کا نکاح ہوا۔ ان تمام شیعہ حضرات نے خدیجہؓ کے سابق ازواج کی اولاد میں زینب نامی کسی لڑکی کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ابو ہالہ کی لڑکی زینب کے نام سے جس صاحب نے ذکر کی ہے وہ جمہور علماء اہلِ سنت اور شیعہ کے خلاف ذکر کیا ہے اور اس مسئلہ میں اس نے اپنا تفرد بیان کیا ہے اور اس پر کوئی سند پیش نہیں کی ظاہر ہے کہ منفرد اشیاء اپنے تفرد کی بنا پر قبول نہیں کی جاتیں اور علماء کی اصطلاح میں اس مسئلہ کو اس طرح ذکر کیا جاتا ہے کہ

 هذا قول شاذ لايتابع عليه

یعنی ابنِ ہشام کا یہ قول شاذ ہے اس کی متابعت نہیں پائی گئی۔ اس بناء پر عموماً علمائے محدثين میں اہلِ سیر، اہلِ تاریخ نے اس کو ذکر نہیں کیا فلہٰذا اس قسم کا شاذ قول قبول نہيں كيا جا سكتا كيونكہ قاعده يہ ہے

 "الثقة اذا شذ لا يقبل ما شذفيه"

 (مرقات شرح مشكٰوة صفحہ 328 جلد سادس باب العدة الفصل الاول تحت روايات فاطمه بنتِ قیس) 

یعنی اگر شذوذ اختیار کرنے والا آدمی ثقہ ہے تب بھی اس کی شاز چیز کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

 ایک تلبیس کا ازالہ

 آنجنابﷺ کی اولاد کے مخالفین نے کئی قسم کے شبہات مسلمانوں میں پیدا کر دیئے ہیں ان میں سے ایک شبہ آپﷺ کی صاحبزادی سیدہ زینبؓ کے متعلق یہ ہے کہ دور نبویﷺ میں زینب نام کی متعدد خواتین تھیں اور زینب نامی ایک لڑکی اُم المؤمنین سیدہ امِ سلمہؓ کی بھی تھی جو ان کے سابق خاوند ابوسلمہ سے تھی اس کا تذکرہ جب علماء تراجم نے کیا ہے تو اس کو ربیتہ الرسولﷺ کے نام سے لکھا ہے (سیدہ امِ سلمہؓ کی اس لڑکی کا نام "زینب" تھا اور سیدہ اُمِ سلمہ کی وجہ سے اس نے آنحضرتﷺ کے گھر میں پرورش پائی تھی اس وجہ سے ان کو ربیبہ رسول خداﷺ بھی کہا جاتا تھا محض اس لفظی مشابہت کی بناء پر معترضین نے آنجنابﷺ کی صاحبزادی سیدہ زینبؓ کی طرف اس کا انتساب کر دیا اور کہہ دیا کہ زینب تو رسول خداﷺ کی ربیبہ ہے حالانکہ اجتہادی سیدہ زینبؓ کی ماں حضرت خدیجہ الکبریٰؓ ہیں اور آنجنابﷺ کی نسب شریف سے ہے اور ربیبہ مذکورہ کی ماں ام سلمہؓ ہیں اور والد کا نام ابوسلمہ ہے۔

 اس چیز کی تصدیق اگر مطلوب ہو تو حافظ ابنِ حجر عسقلانیؒ کی کتاب الاصابہ ملاحظہ کریں۔

 (الاصابه صفحہ 310 جلد رابع تحت زينب بنت ابی سلمهؓ)

 (کتاب اسد الغابه صفحہ 468 جلد5 تحت زينب بنتِ ابی سلمہؓ ملاحظہ کریں ابنِ اثیر جزریؒ نے یہاں مزید یہ تصریح کر دی ہے کہ زینب ربیبہ کا نام عبداللہ بن زمعہ تھا۔

(اسد العابه صفحہ469 جلد، 5)

 اور ظاہر ہے کہ حضورﷺ کی صاحبزادی سیدہ زینبؓ کے خاوند کا نام ابو العاصؓ بن ربیع تھا۔

(انساب الاشراف للبلاذرى صفحہ 430 جلد اول)

صفحہ 16 از 17