سوانح سیده زینب رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ - دفاعِ اہلِ سنت |…

سوانح سیده زینب رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 15 از 17

ناظرین کرام ! اپنے مہربان پیغمبرﷺ کی اولاد شریف کے حق میں ان لوگوں کا کی نفی نہایت نازیبا سلوک ہے۔ یہ لوگ بڑی بے باکی کے ساتھ ان صاحبزادیوں سے آنجنابﷺ کے نسب كى نفى كرتے ہیں اور اللہ سے بالکل نہیں ڈرتے اور ساتھ ہی ساتھ دعویٰ یہ ہے کہ ان بیبیوں کی کوئی فضیلت کتابوں میں نہیں ملتی نہ شیعہ کی کسی کتاب میں نہ کسی سنی کتاب ہیں۔ ہم نے یہ چند واقعات اسلامی کتب سے جمع کر کے ناظرین کی خدمت میں پیش کر دیئے ہیں ساتھ ساتھ شیعہ معتبرات کے بھی حوالے دے دیئے ہیں۔ اب باانصاف اور شریف با شعور آدمی اس چیز کا فیصلہ خود کر لیں کہ حق بات کون سی ہے؟ اور از خود تراشیدہ چیزیں کون سی ہیں؟ مزید کسی تبصرہ و تشریح کی حاجت نہیں رہے گی۔ قلیل سے خوفِ خدا کی حاجت ہے اگر کہیں سے دستیاب ہو جائے ، تو سبحان اللہ وہ ساتھ ملا لیں۔ اس کے بعد ازالہ شبہات کا عنوان درج کیا جاتا ہے۔

صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے متعلقہ شبہات کا ازالہ

 سردارِ دو جہاںﷺ کی حقیقی صاحبزادی سیدہ زینبؓ کے متعلقہ سوانح اور ان کے حالات، فضائل اور سیرت و کردار ہم نے بقدر ضرورت بیان کر دیئے ہیں۔ ان تمام حالات پر بشرط انصاف نظر کرنے سے اس بات کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ آنجنابﷺ کی تحقیقی صاحبزادی ہیں اوران کی والدہ محترمہ اُم المؤمنین سیدہ خدیجہ الکبریٰؓ بنتِ خویلد ہیں۔ صاحبزادی زینبؓ نہ لے پالک بیٹی ہیں اور نہ ہی اُم المؤمنین سیدہ خدیجہؓ کی خواہر زادی ہیں بلکہ رسالت مآبﷺ کی حقیقی دختر محترمہ ہیں اگر کوئی شخص ان گذشتہ مندرجات سے روگردانی کرتے ہوئے از راہ عناد اولادِ نبویﷺ کے ساتھ بعض اور تعصب اختیار کرتا ہے اور سیدہ زینبؓ کو ربیبہ ذکر کرتا ہے تو یہ تاریخی حقائق کی تکذیب ہے۔ اہلِ سنت کے حوالہ جات اس مسئلہ پر ہم نے سابقاً ایک ترتیب کے ساتھ ذکر کر دیئے ہیں اور شیعہ کے بھی ہر دور کے معتبر حوالہ جات ہم نے پیش کر دیئے ہیں اب فریقین کو اس مسئلہ پر غور و فکر کرنے کا پورا موقعہ حاصل ہے۔ اب اس چیز کے متعلقات ذکر کیئے جاتے ہیں جو لوگ سیدہ زینبؓ کو ربیبہ ثابت کرتے ہیں ان کے اس دعوے کی حقیقت کیا ہے؟ کیا ان کے پاس کوئی چیز قابلِ غور ہے۔ یا ان کے دلائل درجہ اعتبار سے بالکل ساقط ہیں؟ ناظرین کرام وہ چیزیں ملاحظہ فرمالیں جن کو وہ دلائل کا درجہ دیتے ہیں اس کے بعد ان کی اصل حقیقت پیش ہو گی۔ ناظرین کرام! ان چیزوں کے ملاحظہ کرنے کے بعد خود ایک نتیجہ پر پہنچ جائیں گے۔

 بعض اہلِ سیرت کا ایک قول

بعض لوگ سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں سے ایک قول پیش کرتے ہیں کہ اُم المؤمنین سیدہ خدیجة الکبریٰؓ کے سابق خاوند ابو ہالہ بن مالک سے ان کی جو اولاد ہوئی اس میں زینب بنتِ ابی ہالہ ایک لڑکی تھی اور ایک لڑکا ہند بن ابى ہالہ تھا۔ اس قول کی بناء پر مسئلہ تجویز کیا گیا ہے کہ صاحبزادی سیدہ زینبؓ نبی کریمﷺ کی حقیقی بیٹی نہیں بلکہ خدیجہ الکبریٰؓ کے سابق خاوند ابو ہالہ کی اولاد میں سے ہے اعتراض کا تمام مدار اسی قول پر ہے اس کے بغیر اور کوئی چیز ان کے پاس نہیں۔

 توضیحات

 ناظرین کے افادہ کی خاطر یہاں چند چیزیں ذکر کی جاتی ہیں ان کو بغور ملاحظہ فرما لینے کے بعد اس مسٔلہ کے متعلق ان شاء اللہ تشغی ہو جائے گی۔ 

  1. ابو ہالہ کی لڑکی زینب جو اس قول میں ذکر کی گئی ہے اور اس کی ماں خدیجہ الکبریٰؓ بیان کی ہے یہ قول بعض سیرہ نگار مثلاً ابنِ ہشام نے لکھا ہے، اور اس کی کوئی سند پیش نہیں کی اور نہ ہی اس قول کے متعلق کہیں کوئی انتساب مذکور ہے کہ فلاں صحابی، تابعی یا تبع تابعی کا یہ قول ہے نہ ہی کسی باسند محدث اور سیرت نویس کا نام درج کیا گیا ہے مختصر یہ ہے کہ اس قول کے متعلق یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ یہ کس بزرگ کا فرمان ہے اور جس کا بھی یہ قول ہے وہ بغیر سند سے ہے جس کا کوئی وزن نہیں۔
  2.  اس سیرت نگار یعنی ابنِ ہشام سے یہ قول جس نے بھی نقل کیا وہ نقل در نقل چلتا رہا ہے ان ناقلین میں سے کوئی بھی اس کی سند پیش نہیں کر سکا ہے اور نہ ہی اس کے قائل کی طرف کوئی صحیح انتساب سامنے آیا ہے۔
  3. نیز قابل غور بات یہ ہے کہ سیدہ خدیجہؓ کے سابق خاوند کی اولاد بے شمار علمائے حدیث، سیرت نگار، علمائے انساب و علمائے تراجم و تاریخ نے ذکر کی ہے لیکن ان لوگوں نے ابو ہالہ کی اولاد جو خدیجہ الکبرىٰؓ سے ذکر کی ہے، اس میں کہیں زینب کا نام ذکر نہیں کیا یہ حضرات زینب نام کی کوئی لڑکی ابو ہالہ کی سیدہ خدیجہؓ سے تو تحرير نہیں کرتے یہ اس بات کا قوی قرینہ ہے کہ زینب کے نام کی کوئی لڑکی ابو ہالہ کی سیدہ خدیجہؓ سے نہیں ہوئی تھی ورنہ ابو ہالہ کی اولاد ذکر کرنے والے علماء اس کو ضرور اس مقام میں بیان کرتے اب ہم یہاں مذکورہ علماء کی تصانیف سے اس مسئلہ پر حوالہ جات نقل کرتے ہیں تاکہ ناظرین کرام کو تسلی ہو جائے ۔ پہلے اہلِ سنت علماء کے حوالہ جات پیش خدمت ہوں گے اس کے بعد شیعہ مصنفین اور شیعہ مجتہدین کے اقوال اس مسئلہ پر بطورِ تائید درج کیئے جائیں گے۔

حوالہ جات

طبقات ابنِ سعد میں مسئلہ ہذا اس طرح مذکور ہے 

فولدت خديجة لابي هالة رجل ايضا ثم خلف عليها بعد ابي هالة عتيق بن عابد بن عبد الله

(طبقات ابنِ سعد صفحہ8 جلد8 طبع لیڈن تحت تسمية النساء المسلمات والمهاجرات ... الخ)

واخوة ولد رسول اللهﷺ لا مهم هند بن عتيق بن عابدين عبد الله .. .. وهندبن ابي هاله ........ نباش بن زراه و هاله بنت ابي هاله.

ککتاب نسبِ قریش صفحہ 22 تحت والد عبدالله بن عبدالمطلب)

حوالہ جات کا مضمون یہ ہے کہ سیدہ خدیجہؓ کے سابق خاوند ابو ہالہ سے سیدہ خدیجہؓ کی اولاد میں ہند نامی ایک لڑکا پیدا ہوا اور بقول بعض ہالہ ابو ہالہ کی لڑکی تھی مختصر یہ ہے کہ زینب نامی لڑکی ابو ہالہ سے نہ تھی۔ اب ہم ذیل میں کتابوں کے صرف حوالہ جات اختصار نقل کرتے ہیں۔ عبارات پیش کرنے سے بڑی طویل ہو جاتی ہے ان حوالہ جات میں یہی مضمون موجود ہے۔

 (كتاب المحبر صفحہ 78 تحت ازواج رسول اللهﷺ)

 (كتاب المحبر لابی جعفر بغدادى صفحہ 452 تحت اسماء من تزوج ثلثة ازواج فصاعداً من النساء)

صفحہ 15 از 17