سوانح سیده زینب رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ - دفاعِ اہلِ سنت |…

سوانح سیده زینب رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 14 از 17
  1. رسالت مآبﷺ کی صاحبزادیوں میں سیده زینبؓ سب سے بڑی صاحبزادی ہیں۔ 
  2. آنجنابﷺ کی عمر مبارک کے تیسویں سال ان کی ولادت ہوئی۔
  3. اپنی والدہ ماجدہ سیدہ خدیجہ الکبریٰؓ کے زیرِ تربیت ان کی پرورش ہوئی اور انہی والدہ شریفہؓ کی نگرانی میں انہوں نے ہوش سنبھالا۔ باشعور زندگی حاصل کی اور جوان ہوئیں۔ 
  4. ابو العاص بن ربیعؓ کے ساتھ سیدہ زینبؓ کا نکاح نبی کریمﷺ نے سیدہ خدیجہ الکبریٰؓ کے مشورہ سے کیا بعض اقوال کے اعتبار سے اس وقت تک نزول وحی شروع نہیں ہوا تھا۔
  5. جب آنجنابﷺ نے اظہارِ نبوت فرمایا تو اُم المؤمنین سیدہ خدیجہ الکبریٰؓ پہلے مرحلہ پر ہی ایمان لے آئیں اور آپ کی صاحبزادیاں بھی اپنی ماں کے ساتھ مشرف با سلام ہوئیں اور مشکلات کے دور کو ان سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اور مصائب برداشت کیئے۔ (حاشیہ میں) داماد نبیﷺ ابو العاصؓ کے حق میں چند مختصرات مذکور ہیں۔
  6. مشرکینِ مکہ نے منصوبہ بنایا کہ جس طرح بھی ہو سکے ابو العاصؓ سے سیدہ زینبؓ کو طلاق دلوا دیں اور حسبِ منشاء دیگر رشتہ کی پیش کش کی لیکن ابو العاصؓ ثابت قدم رہے اور رشتہ نبویﷺ کو قطع کرنا منظور نہ کیا۔
  7. جنگِ بدر سن 2 ہجرى میں ہوئی ابوالعاصؓ تا حال مسلمان نہیں ہوئے تھے کفار کے مجبور کرنے پر وہ بھی شریکِ جنگ ہوئے اور اہلِ اسلام کے ہاتھوں قید ہو کر مدینہ منورہ پہنچے۔ ابوالعاصؓ کی رہائی کے لئے سیدہ زینبؓ نے اپنا ہار بطورِ فدیہ کے مدینہ شریف بھیجا۔ یہ ہار سیدہ خدیجہ الکبریٰؓ کا تھا جو انہوں نے جہیز میں اپنی صاحبزادی سیدہ زینبؓ کو دیا تھا حضورﷺ کی خدمت اقدس میں اس بابرکت ہار کی پیشگی ہونے پر ایک رقت انگیز منظر پیدا ہوا اور جنابﷺ کو خدیجہ الکبریٰؓ کی یاد تازہ ہو گئی۔ صحابہ کرامؓ کے ساتھ مشورہ کی بنا پر اس تاریخی ہار کو واپس کر دیا گیا اور رسالت مآبﷺ نے ابو العاصؓ سے وعدہ لیا کہ صاحبزادی زینبؓ کو آپ کے ہاں مدینہ میں بھیج دیا جائے گا۔ 
  8. چنانچہ ابو العاصؓ نے حسب وعدہ سیدہ زینبؓ کو مدینہ منور بھیجنے کا انتظام کر دیا اندریں حالات کفار سیدہ زینبؓ کے سفر میں معارض ہوئے ہبار بن اسود نے انتہائی درجہ کی اذیت پہنچائی سیدہ زینبؓ نے مشکل مراحل گزار کر اس صبر آزما سفر کو بڑی اذیت سے طے کیا اور زید بن حارثہؓ وغیر کی معیت میں مدینہ طیبہ پہنچیں۔ 
  9. اس واقعہ کے بعد سردار دوعالمﷺ نے اپنے داماد ابوالعاصؓ کی عمدہ تعریف کی اور اس کے وفائے عہد کی تحسین فرمائی۔
  10. ان دشوار تر مصائب گزار نے پر نبی کریمﷺ نے سیدہ طاہرہ زینبؓ کی منقبت ان الفاظ میں فرمائی 

 هی خیر بناتی _او_هي افضل بناتي أصيبت في

 یعنی میری بیٹیوں میں بہترین بیٹی زینبؓ ہیں جو میری وجہ سے مصیبت زدہ ہوئیں۔ گویا سیدہ زینبؓ کے حق میں برداشت مصائب پر زبان نبوتﷺ نے شہادت دی اور عظیم فضیلت بیان فرمائی۔

12. ایک موقع پر ابوالعاصؓ مدینہ منورہ پہنچے اور سیدہ زینبؓ نے ان کو پناہ دی اور سیدہ زینبؓ کے پناہ دینے کو رسالت مآبﷺ نے صحیح قرار دیا یعنی وہ پناہ منظور ہوئی یہ چیز سیدہ زینبؓ کے حق میں منقبتِ عظیمہ ہے۔ 

13. اس واقعہ کے بعد ابو العاصؓ مکہ شریف چلے گئے اور لوگوں کی امانتیں واپس پہنچا کہ اسلام لائے اور واپس مدینہ شریف آ کر آنجنابﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو گئے۔ 

14. ایک حاشیہ ہے جس میں سیدہ زینبؓ کو نکاحِ جدید اور مہرِ جدید کے ساتھ ابو العاصؓ کی طرف واپس کیا جانا مذکور ہے۔ اور اس مسئلہ میں دیگر اقوال بھی پائے جاتے ہیں۔

15. مقام ہذا کے چند فوائد جو سیدہ زینبؓ اور سیدنا ابو العاصؓ دونوں کے متعلقہ ہیں۔ 

16. سیدہ زینبؓ کی اولاد کا ذکرِ خیر خصوصاً امامہ بنتِ ابی العاصؓ اور علی بن ابی العاصؓ کا مختصراً حال نیز یہاں سیدہ فاطمہؓ اکی وصیت امامہؓ کے حق میں مذکور ہے۔

 17. سیدہ زینبؓ کی وفات مدینہ طیبہ میں سن 8 ہجرى میں ہوئی ہجرت والے زخم پھر تازہ ہو گئے تھے جو ان کی وفات کا باعث ہوئے علماء فرماتے ہیں کہ سیدہ زینبؓ قریباً تیس برس زندہ رہیں۔ 

18. ان کی وفات پر عورتیں واویلا کرنے لگیں جس سے فرمان نبویﷺ کے ذریعے منع کر دیا گیا۔ 

19. سیدہ زینبؓ کے غسل اور کفن کا انتظام آنجنابﷺ کی نگران میں اُم المؤمنین سیدہ امِ سلمہؓ وغیرہ نے کیا۔ 

20. ان کے کفن میں چادرِ نبویﷺ کا استعمال ہوا جو غایت درجہ کا تبرک ہے۔  

21. اپنی بہن سیدہ زینبؓ کے جنازہ میں سیدہ فاطمہؓ نے شرکت کی۔

22. رسالت مآبﷺ کا قبرِ زینبؓ میں اُتر کر دعا کرنا اور دعا کا قبول ہونا ایک خصوصی فضیلت عظیمہ ہے۔

 23. سیدہ زینبؓ کے مناقب میں علمائے کرام یہ ذکر فرماتے ہیں کہ وہ اللہﷻ کے راستہ میں شہید ہونے والی خاتوں ہیں اور شہیدہ کے لقب سے ملقب ہیں۔

 رضی الله تعالى عنها وعن جميع اخواتها

لمحہ فكريہ

 قارئین کرام نے سیدہ زینبؓ کے متعلقات ملاحظہ فرما لیئے یہ فضائل و کمالات ان کو حاصل ہوئے دین کے لئے مصائب و شدائد کا برداشت کرنا ان کو نصیب رہا۔ اور اس میں ثابت قدمی ان کا شیوہ رہا۔ تمام زندگی تمام اپنے والد شریفﷺ کے ساتھ خدمت و اطاعت میں گزار دی آپ نے ان کو ان کے اعمال مقبولہ کی بنا پہ خیر بناتی اور افضل بناتی کے مخصوص القاب سے نوازا۔ اور وفات تک ان پر سید دو عالمﷺ کی نظر شفقت قائم رہی۔ انتقال کے بعد تجہیز و تکفین کے جملہ مراحل میں آپ کے شفیقانہ سلوک اور کریمانہ عنایات کی انتہاء ہو گئی یہاں تک کہ آنجنابﷺ ان کے آخری مقام قبر میں اترے اور سیدہ زینبؓ کو آنجنابﷺ کی طرف سے شفاعت کی قبولیت کی بشارتِ عظیمہ حاصل ہوئی ۔ ان صاحبزادیوں رضی اللہ عنہن کے حق میں بعض لوگ اس دور میں زبان طعن دراز کیئے ہوئے ہیں اور لکھتے ہیں کہ یہ نبی کی روایتی بیٹیاں تھیں، یہ نبی کی رواجی بیٹیاں تھیں اور ان کے حق میں کوئی فضیلت قرآن و حدیث سے نہیں ملتی مطلب یہ ہے کہ صاحبزادیاں (سیدہ زینبؓ، سیدہ رقیہؓ سیدہ اُمِ کُلثومؓ نبی اقدسﷺ کی اولاد نہیں ہیں اور ان کی کوئی فضیلت کتابوں میں مذکور نہیں .......... الخ (استغفر الله العظيم) 

صفحہ 14 از 17