سوانح سیده زینب رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ - دفاعِ اہلِ سنت |…

سوانح سیده زینب رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 13 از 17

(مجمع الزوائد للهيثمي صفحہ47 جلد 3 تحت باب في ضغطة القبر)

 (كنز العمال لعلى المتقى الهندى صفحہ120 جلد8 طبع اول دكن تحت سوال القبر وعذابه)

 (اسد الغابه صفحہ468 جلد5 تحت زينب بنتِ رسول اللهﷺ)

(ذخائر العقبي المحب الطبري صفحہ160 من تحت ذکر وفات زینبؓ بنتِ رسول اللهﷺ)

مندرجہ بالا مسئلہ کو شیعہ علماء نے بھی اپنی معتبر کتابوں میں درج کیا ہے شیعہ کتب سے بعینہ عبارت نقل کی جاتی ہے تاکہ ناظرین کرام کو اس مسئلہ میں پوری طرح تسلی ہو جائے کہ یہ مسئلہ شیعہ و سنی دونوں فریقین کے ہاں مسلم ہے حالاتِ زینبؓ دختر نبویﷺ میں مامقانی نے لکھا ہے کہ:

 ماتت سنة ثمان في حياة رسول اللهﷺ ونزل في قبرها و هو مهموم محزون فلما خرج سرى عنه وقال كنت ذكرت زينب وضعفها فسالت الله تعالىٰ ان يخفف عنها ضيق القبر وغمسه ففعل وهون عليها 

 (تنقيح المقال لعبد الله مامقانی صفحہ79 جلد 3 طبع ایران من فصل النساء تحت زينب بنتِ رسول اللہﷺ)

 اس کا مفہوم یہ ہے کہ رسولِ خداﷺ کی زندگی میں سن 8 ہجرى میں سیدہ زینبؓ فوت ہوئیں اور زینبؓ کی قبر میں رسولِ خداﷺ غمگینی کی حالت میں اُترے اور نہایت غمزدہ تھے جب قبر سے باہر تشریف لائے تو طبیعت کِھلی ہوئی تھی اور ارشاد فرمایا کہ زینبؓ کے ضعف کا مجھے بہت خیال تھا میں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا ہے کہ قبر کی تنگی زینبؓ سے کم کر دی جائے پس اللہ تعالیٰ نے منظور فرما لیا اور اس پر آسانی کر دی ہے۔ فریقین کی کتابوں سے معلوم ہو گیا کہ آنجنابﷺ نے اپنی پیاری صاحبزادی کے حق میں کس قدر مشفقانہ معاملہ فرمایا وفات سے لے کر دفن تک تمام مراحل میں آنجنابﷺ کی نظر عنایت شامل حال رہی جیسا کہ حوالہ جات بالا میں تفصیلاً پیش کر دیا ہے آخر مرحلہ قبر میں تو خصوصی توجہ فرما کر آنجنابﷺ نے سیدہ زینبؓ کے لئے سفر آخرت کا مرحلہ اپنی خصوصی شفاعت کے ساتھ طے فرما دیا اور قبولِ شفاعت کو اس عالم میں ہی بر ملا طور پر بیان فرما دیا ۔

 سیدہ زینبؓ كے حق میں بڑی فضیلت ہے جو ان کو دربارِ نبوتﷺ سے مل چکی اور اہلِ اسلام کی خواتین کے لئے سرمایہ عبرت ہے وجہ یہ ہے کہ قبر کا مرحلہ کوئی معمولی بات نہیں اس کی فکر رکھنا اور تیاری کرنا مہماتِ دین میں سے ہے آنجنابﷺ کی اولاد شریف کے لئے جب یہ حالات پیش آرہے ہیں تو دوسروں کو تو ان واقعات کی خصوصی فکر کی ضرورت ہے۔ 

 صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کیلئے شہیدہ کے لقب کی خصوصی فضیلت

سیده زینبؓ بنتِ رسول خداﷺ کے متعلقہ سوانح اور حالات مختصر طور پر ناظرین کی خدمت میں پیش کیئے گئے ہیں ان کی زندگی کا ہر ایک واقعہ بڑی اہمیت کا حامل ہے ابتدائی دور سے لے کر ہجرت تک یہ ایک دور اول ہے پھر ہجرت کے بعد ان کی زندگی کا دوسرا دور شروع ہوتا ہے۔ مدنی زندگی کے متعلق ہے ان تمام حالات پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے دشوار تر واقعہ ان کی ہجرت کا ہے جس میں ان کو سخت اذیتیں پہنچیں۔ اور ان معصومہ نے بڑے صبر وثبات کے ساتھ برداشت کیں علماء نے لکھا ہے کہ وفات سے قبل ان کے وہی زخم تازہ ہو گئے جو ان کو واقعہ ہجرت میں پہنچے تھے اور وہی چیزیں ان کی وفات کا سبب بنیں اس بناء پر بڑے بڑے اکابر مصنفین نے ان کے حق میں یہ الفاظ استعمال کئے ہیں۔

 فلم تزل وجعة حتٰى ماتت من ذالك الوجع فكانوا یرون انها شهيدة

(مجمع الزوائد للهيثمي صفحہ 215 جلد9 باب ماجاء في فضل زينبؓ)

 اور حافظ ابنِ کثیرؒ نے البدایہ جلد خامس سیدہ زینبؓ کے تذکرہ میں یہی مفہوم مندرجہ ذیل الفاظ میں ادا کیا ہے۔ 

 فكانوا يرونها ماتت شهيدة

(البداية لابن كثير صفحہ308 جلد8 من فصل فی ذکر اولادہﷺ)

 ان عبارات کا مطلب یہ ہے کہ سیدہ زینبؓ اس درد زخم کی وجہ سے ہمیشہ بیمار رہیں حتیٰ کہ ان کا انتقال ہو گیا اس بناء پر اہلِ اسلام ان کو شہیدہ کے نام سے تعبیر کرتے ہیں اور ان کا لقب شہیدہ زینبؓ تجویز کیا گیا ہے۔

صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے سوانح کا اجمالی خاکہ

 ماقبل میں آنجنابﷺ کی پیاری صاحبزادی سیدہ طاہرہ زینبؓ کے احوال درج کیئے گئے ہیں ان احوال کا ایک اجمالی خاکہ ہم ناظرین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں تاکہ ان کے کوائف زندگی یکجا نظر آسکیں علمائے کرام نے لکھا ہے کہ :۔ 

صفحہ 13 از 17