سوانح سیده زینب رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ - دفاعِ اہلِ سنت |…

سوانح سیده زینب رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 12 از 17

 سیدہ زینبؓ کا غسل مکمل ہونے کے ساتھ کفن کا انتظام بھی تمام ہو گیا وہاں اسماء بنتِ عمیسؓ (جو اس وقت سیدنا جعفر طیارؓ کی زوجہ محترمہ تھیں بھی موجود تھیں انہوں نے عرض کیا کہ حبشہ کے ملک میں ہم نے دیکھا ہے کہ عورتوں کی پردہ داری کے لئے ان کی چار پائی پر ایک قسم کی نعش یعنی ڈولی بنا دی جاتی ہے۔ تاکہ میت کی جسامت پوری طرح مستور رہے تو سیدہ اسماءؓ کے اس مشورہ پر اس موقع پر سیدہ زینبؓ کی چار پائی پر بھی نعش کی شکل میں پردہ داری کا انتظام کیا گیا یہ پہلى مسلم خاتون ہیں جن کا جنازہ اس اہتمام اور تکریم سے اٹھایا گیا۔

 بلاذری نے انساب الاشراف میں یہ واقعہ ذکر کیا ہے:

وجعل لها نعش فكانت اول من اتخذ لها ذالك والذي أشارت باتخاذه اسماء بنت عميس رائة بالحبشه و هي مع زوجها جعفر بن أبي طالب ..... الخ 1

(انساب الاشراف للبلاذري صفحہ 400 جلد1بحث ازواج رسول اللهﷺ وولده)

میت کی پردہ داری کے لئے نعش کا بنایا جانا جو سیدہ اسماءؓ نے یہاں بیان کیا ہے سیدہ فاطمہؓ کی وفات کے موقع پر بھی سیدہ اسماءؓ نے اسی طرح مشورہ دیا تھا اور اس کے مطابق وہاں بھی نعش کا انتظام کیا گیا تھا آئندہ سیدہ فاطمہؓ کے واقعات میں اس کا بھی ذکر ہو گا۔ ان شاء اللہ العزیز یاد رہے کہ سیدہ فاطمہؓ کے جنازہ کے وقت یہ اسماءؓ سیدہ ابوبکر صدیقؓ کی زوجہ محترمہ تھیں۔ 

 سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا جنازہ اور اس میں سیدہ فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا کی شرکت

 صاحبزادی سیدہ زینبؓ کے لئے جب جنازہ کی تیاری ہوئی تو خود سردارِ دو عالمﷺ نے سیدہ زینبؓ پر نمازِ جنازہ پڑھائی جو ایک عظیم شرف ہے اور امت کے خاص خاص افراد کو ہی حاصل ہوا۔

 وصلى عليها رسول اللهﷺ

(انساب الاشراف صفحہ 400 جلد1 بحث ازواج رسول الله وولدهٖ)

سیدہ زینبؓ کے بابرکت جنازہ میں جس طرح مدینہ شریف کے مسلمان شامل ہوئے اسی طرح مدینہ منورہ کے مسلمانوں کی عورتیں بھی جنازہ پڑھنے کی فضیلت میں شریک ہوئیں اور یہ تمام عورتیں سیدہ فاطمہؓ کے ساتھ مل کر تشریف لائیں تھیں اور سیدہ فاطمہؓ نے اپنی بڑی بہن کے جنازہ میں شرکت کی تھی، اور اپنی بہن کے ساتھ مودت اور محبت کا پورا پورا ثبوت دیا تھا۔ جنازہ کے اس واقعہ کو شیعہ علماء نے اپنے مقام میں پوری تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے ذیل میں ان کی معتبر کتاب اصولِ اربعہ سے چند عبارات نقل کی جاتی ہیں تاکہ کسی شک اور شبہ کی گنجائش نہ رہے۔ 

سیدنا جعفر صادقؒ سے ایک شخص نے مسئلہ دریافت کیا کہ جنازہ پر عورتیں آ کر شامل ہو سکتی ہیں؟ اور عورتیں جنازہ ادا کر سکتی ہیں یا نہیں؟ اس کے جواب میں جعفر صادقؒ نے ارشاد فرمایا کہ رسول خداﷺ کی صاحبزادی سیدہ زینبؓ جب انتقال فرما گئی تو سیدہ فاطمہؓ عورتوں کے ساتھ مل کر تشریف لائیں اور اپنی خواہر زينبؓ پر نمازِ جنازہ ادا فرمائی۔ 

فقال يا ابا عبد الله اتصلى النساء على الجنازة؟ قال فقال ابو عبد الله عليه السلام ...وان زینب بنت النبيﷺ توفيت وان فاطمة عليها السلام خرجت في نسائها فصلت على اختها

(تہذیب الاحکام لمحمد بن حسن بن علی الطوسی صفحہ215 آخر باب الصلٰوة على الاموات طبع قدیم ایران)

(کتاب الاستبصار للشيخ الطوسی (محمد بن حسن بنی علی) صفحہ245 جلد1 باب الصلٰوة على جنازة معها امرارة طبع لكهنؤ قديم)

(منتہٰى المقال لابی علی صفحہ 434 باب ذکرنساء لہن طبع قدیم ایران)

 مندرجات بالا کے ذریعے یہ بات واضح ہو گئی کہ طاہرہ مطہرہ سیدہ زینبؓ کا جنازہ خود جناب نبی کریمﷺ نے پڑھایا اور ان کے حق میں دعائے مغفرت فرمائی جس کی مقبولیت میں کچھ شبہ نہیں ہے۔ اور پھر سیدہ فاطمہؓ نے اپنی پیاری بہن پر نمازِ جنازہ ادا فرما کر حق اخوت پورا کیا اور ان کے حق میں دعائے مغفرت فرمائی اور مدینہ کی مسلمان عورتوں مردوں نے بھی ان کے ساتھ ساتھ سیدہ زینبؓ کے لئے دعائے مغفرت کی۔ یہ چیزیں سیدہ زینبؓ کے حق میں عظیم فضیلت اور شرف کی ہیں جن کا انکار کوئی مسلمان نہیں کر سکتا۔ اس دور کے بیچارے مرثیہ گو اور مجلس خواں اگر ان فضائل کا انکار کریں تو ان کو البتہ زیب دیتا ہے جن کو نہ سردارِ دو عالمﷺ کے افعال و اقوال کی پرواہ ہے نہ اپنے ائمہ اور اہلِ بیتؓ کے اعمال اور اقوال کی حاجت ہے اور نہ ہی شیعہ کے مجتہدین کے احکام کی کوئی وقعت ہے اصل میں یہ بزرگ بقلم خود مجتہد ہیں ان کو اپنے اکابر کا کوئی پاس نہیں۔

 قبر زینب رضی اللہ عنہا میں اتر کر دعا فرمانا

 جس وقت سیدہ زینبؓ کا جنازہ ہو چکا اس کے بعد ان کی تدفین کا مرحلہ تھا اس مقام میں علماء نے دفن کے واقعے کو بڑی تفصیل کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہم اجمعین سے نقل کیا ہے۔ سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ رسول خداﷺ کی صاحبزادی سیدہ زینبؓ کا انتقال ہوا ہم صحابہؓ کی جماعت سیدہ زینبؓ کو دفنانے کے لئے نبی کریمﷺ کے ساتھ حاضر ہوئے ہم قبر پر پہنچے سردارِ دو عالمﷺ نہایت مغموم تھے ہم میں سے کوئی آنجنابﷺ کی خدمت میں کلام کرنے کی ہمت نہیں کر سکتا تھا۔ قبر کی لحد بنانے میں ابھی كچھ معمولی دیر تھی آنجنابﷺ قبر کے پاس تشریف فرما ہوئے اور ہم لوگ آپ کے آس پاس بیٹھ گئے ہم سب پر ایک قسم کی حیرانی کا عالم طاری تھا اسی اثناء میں آپ کو اطلاع کی گئی کہ قبر تیار ہو گئی ہے۔ اس کے بعد آنجنابﷺ خود قبر کے اندر تشریف لے گئے اور تھوڑی دیر کے بعد آپﷺ قبر سے باہر تشریف لائے آنجنابﷺ کا چہرہ انور کھلا ہوا تھا اور غمگینی کے آثار کم ہو چکے تھے طبیعت بشاش تھی ہم نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ! ہم پہلی حالت کے متعلق کلام کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے اب جناب کی طبیعت میں بشاشت ہے اس کی کیا وجہ ہے ل؟ آنجنابﷺ نے فرمایا کہ قبر کی تنگی اور خوفناکی میرے سامنے تھی اور زینبؓ کا ضعف اور کمزوری بھی مجھے معلوم تھی یہ بات مجھے بہت ناگوار گزر رہی تھی پس میں نے اللہ عزوجل سے دعا کی ہے کہ زینبؓ کے لئے اس حالت کو آسان فرما دیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے منظور فرما لیا اور زینبؓ سے اس مشکل کو دور کر دیا گیا۔ 

فقلنا يا رسول الله رأنياك مهتما حزينا فلم نستطع أن نكلمك ثم رأيناك سرى عنك فلم ذالك قال كنت اذكر ضيق القبر وغمه وضعف زينب فكان ذالك يشق على فدعوت الله عزوجل ان يخفف عنها ففعل

صفحہ 12 از 17