سوانح سیده زینب رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ - دفاعِ اہلِ سنت |…

سوانح سیده زینب رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 11 از 17

گویا امامہؓ محترمہ کے ذریعہ ابوالعاصؓ اور سیدنا علیؓ اور ان کی اولاد کے درمیان رشتہ داری کی بہت سی نسبتیں قائم ہو گئیں جن کا احترام ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔

سیده زینب رضی اللہ عنہا کی وفات

 صاحبزادی سیده زینبؓ بنتِ رسول اللہﷺ مشہور قول کے مطابق آنجناب کی صاحبزادیوں میں سے عمر میں سب سے بڑی تھیں اور ان نیک بیبیوں میں سے تھیں جن کو اسلام کے ابتدائی دور میں ایمان سے مشرف ہونے کا شرف ملا۔ یہ قدیم الاسلام عورتوں میں شمار ہوتی تھیں۔ نیز ان کو نبی کریمﷺ کے ساتھ بیعت کرنے کا شرف بھی حاصل ہوا چنانچہ انہیں مبایعات النبیﷺ میں شمار کیا جاتا ہے۔ ابو جعفر بغدادی نے المجر میں رسالت مآبﷺ کی چاروں صاجزادیوں سیدہ زینبؓ، اُمِ کُلثومؓ، رقیہؓ اور سیدہ فاطمہؓ کو مبایعات، الرسولﷺ میں ذکر کیا ہے۔

(كتاب المحبر لابی جعفر بغدادی صفحہ 406 تحت اسماء النسوة المبايعات الرسول اللهﷺ)

 وفات کا سبب

 “ مکہ شریف سے ہجرت کرنے کے بعد یہ مدینہ منورہ میں مقیم رہیں اور ہجرت کے مصائب انہوں نے بڑے تحمل کے ساتھ برداشت کیئے تھے۔ اس واقعۂ ہجرت میں آپؓ مخالفین کے ہاتھوں زخمی بھی ہو گئیں تھیں۔ سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ ان کا وہی سابقہ زخم ایک دفعہ مندمل ہو گیا تھا۔ پھر کچھ مدت کے بعد دوبارہ تازہ ہو گیا اور یہی زخم ان کی وفات کا موجب بنا اور ان کی وفات سن 8 ہجرى میں مدینہ طیبہ میں ہوئی۔

 صبر کی تلقین اور واویلا سے منع

 علماء ذکر کرتے ہیں سن 8 ہجرى میں سیدہ زینبؓ کا مدینہ منورہ میں انتقال ہوا ان کی وفات کی وجہ سے سردارِ دو عالمﷺ نہایت مغموم ہوئے اور سیدہ زینبؓ کی باقی بہنیں اُمِ کُلثومؓ و فاطمہؓ بھی اس حادثہ فاجعہ کی وجہ سے نہایت پریشان اور غم زدہ ہوئیں۔ باقی مسلمان عورتیں سیدہ زینبؓ کی وفات پر جمع ہوئیں اور بلا اختیار رونے لگیں اور چیخ و پکار تک نوبت پہنچی تو سیدنا عمرؓ اس وقت عورتوں کو سختی سے منع کرنے لگے رسول خداﷺ نے سیدنا عمرؓ کو روکا اور اس موقع پر سختی کرنے سے منع فرما دیا ۔ 

وقال مهلا يا عمرؓ ثم قال اياكن ونعيق الشيطن ثم قال انه مهما كان من العين ومن القلب فمن الله عز وجل ومن الرحمة وما كان من اليد ومن اللسان فمن الشيطان۔ (رواہ احمد)

(مشکٰوة شریف صفحہ 152 طبیع نور محمدی دہلی باب البكاء على الميت الفصل الثالث)

 یعنی اے عمر! اس سختی کرنے سے ٹھہر جائیے پھر آنجنابﷺ نے عورتوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ شیطانی آواز نکالنے سے تم پرہیز کرو پھر ارشاد فرمایا جو آنسو آنکھ سے بہتے ہیں اور دل غمگین ہوتا ہے تو یہ خدا کی طرف سے ہے اور اس کی رحمت میں سے ہے اور جو کچھ ہاتھ سے یا زبان سے صادر ہوتا ہے وہ شیطان کی طرف سے ہے یعنی ہاتھ اور زبان سے صادر ہونے سے مراد پیٹنا اور واویلا کرنا۔ مختصر یہ ہے کہ سردارِ دو عالمﷺ نے اپنی صاحبزادی کی وفات پر امت کو اس بات کی تعلیم فرمائی کہ ہاتھ اور زبان سے بے صبری کی حرکات صادر کرنا اور کلمات کہنا مسلمان کے لئے کسی طرح جائز نہیں یہ جاہلیت کی رسومات تھیں جو وہ لوگ اپنے عزیز و اقارب کی موت پر ادا کیا کرتے تھے۔ اسلام نے آ کر صبر اور برداشت کی تلقین فرمائی جو اس موقعہ پر آنجنابﷺ کے ارشادات میں موجود ہے۔

 سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے غسل اور کفن کا انتظام

 سیدہ زینبؓ کے غسل کا انتظام سردارِ دو عالمﷺ کی خاص نگرانی میں ہوا تھا اور اس فضیلتِ غسل میں خصوصی طور پر اُم المؤمنین سیدہ سودہ بنت زمعہؓ اور اُم المؤمنین امِ سلمہؓ اور صالحہ عورت امِ ایمنؓ نے حصہ لیا اور انہوں نے اس پاک دامن خاتون کے غسل کا انتظام عمدہ طریقے سے کیا۔

(انساب الاشراف للبلاذرى صفحہ 400 جلد1 بحث أزواج رسول اللهﷺ وولدهٖ)

 حدیث کی بعض کتب میں اس طرح منقول ہے کہ امِ عطیہ انصاریہ بھی غسلِ زینبؓ میں شامل تھیں۔امِ عطیہؓ فرماتی ہیں جب سیدہ زینبؓ کا انتقال ہوا تو ہمارے پاس نبی اقدسﷺ تشریف لائے اور آپﷺ نے فرمایا کہ زينبؓ کے نہلانے کا انتظام کرو پانی اور بیری کے پتوں کو مہیا کرو اور ان کے ابلے ہوئے پانی کے ساتھ تین بار یا پانچ بار غسل دو اور آخری بار میں کا فور کی خوشبو لگاؤ پھر جب نہلا چکو تو مجھے اطلاع کرنا۔

 "فلما فرغنا اٰذناه فاعطانا حقوه : قال اشعرنها اياه تعنى ازارہٗ۔"

ارشاد فرمایا تم جب غسلِ زینبؓ سے فارغ ہو تو مجھے اطلاع کرنا پس ہم نے اطلاع کر دی تو آنجنابﷺ نے اپنے جسم مبارک سے اپنا تہ بند اتار کر عنایت فرمایا اور فرمایا کہ میرے تہ بند کو کفن کے اندر داخل کر دو۔

(بخاری شریف صفحہ 167 جلد 1 باب غسل الميت ووضوءهٖ بالمآء والسدر)

 (مسلم شریف صفحہ 304 جلد1 کتاب الجنائز)

(طبقات ابنِ سعد صفحہ 334 جلد 8تحت ذکر امِ عطیه انصاریہؓ)

(طبقات ابنِ سعد صفحہ 22 جلد8 تحت ذکر زینبؓ)

 اسی طرح دیگر حدیث کی کتابوں سے بھی واقعہ ہذا دستیاب ہو سکتا ہے۔ 

(مصنف ابنِ ابی شیبۃ صفحہ242 جلد3 کتاب الجنائز - طبع کراچی)

تبرک حاصل کرنا

 اس مقام میں حافظ ابنِ حجر عسقلانیؓ نے ایک عجیب بات ذکر کی ہے وہ یہ ہے کہ آنجنابﷺ نے اپنا تہ بند مبارک اتار کر پہلے ہی ان کے حوالے نہیں کر دیا کہ کفن میں شامل کریں بلکہ ارشاد فرمایا کہ جب تم نہلا لو تو مجھے اطلاع کرنا اس میں حکمت یہ تھی کہ نبی اقدسﷺ کے جسم مبارک کے ساتھ وہ تہ بند زیادہ دیر لگا ہے اور قریب تر وقت میں اپنے جسم سے منتقل ہوا اور زینبؓ کے جسم سے لگے تہ بند کے منتقل کرنے میں زیادہ فاصلہ نہ ہو۔ یہ چیز صالحین کے آثار کے ساتھ تبرک پکڑنے میں اصل چیز ہے۔ 

 ولم ينا ولن اياه اولا ليكون قريب العهد من جسدهٖ الكريم حتٰى لا يكون بين انتقاله من جسد الى جسدها فاصل وهو اصل في التبرك بآثار الصالحين

(فتح الباری شرح بخاری صفحہ 101 جلد3 کتاب الجنائز آخر باب غسل الميت و وضوئه)

صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا پر نقش یعنی ڈولی کا بنایا جانا

صفحہ 11 از 17