سوانح سیده زینب رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ - دفاعِ اہلِ سنت |…

سوانح سیده زینب رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 10 از 17

 ان روایات میں نبی اقدسﷺ کا امامہؓ كے ساتھ محبت اور پیار کرنا اور غایت شفقت کے ساتھ بار بار اٹھا لینا مذکور ہے جس طرح آنجنابﷺ حسنین شریفینؓ کو اپنے دوش مبارک پر اٹھایا کرتے تھے اسی طرح ان کی خالہ زاد بہن امامہ بنتِ زینبؓ کو اٹھایا کرتے تھے آنجنابﷺ کی توجہات کریمانہ سے یہ تمام اولاد مستفید ہوتی تھی اور یہ سلسلہ عنایت ہمیشہ قائم رہتا تھا جس طرح حسنینؓ آپ کی اولاد تھے اسی طرح امامہؓ بھی آپﷺ کی اولاد میں سے تھیں ۔ 

2_ سیدہ زینبؓ کی صاحبزادی امامہ بنتِ ابی العاصؓ کے متعلق ایک اور عجیب واقعہ محدثین اور اہلِ تراجم نے اپنے اپنے الفاظ میں ذکر کیا ہے سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ جناب رسالت مآبﷺ کی خدمت میں ایک بیش قیمت ہار بطور ہدیہ آیا آنجناب کی ازواج مطہراتؓ اتفاقاً وہاں جمع تھیں اور امامہ بنتِ ابی العاصؓ چھوٹی لڑکی تھیں اپنے بچین کے طرز پر گھر میں ایک طرف کھیل رہی تھیں نبی اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ ہار كس طرح کا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ اس سے بہترین تو ہم نے کبھی دیکھا ہی نہیں۔یہ تو بہت عمدہ ہے پھر آپ نے اس ہار کو پکڑا لادفعنھا الی احب اھلی الی یعنی میں اپنے اہلِ بیت میں سے جو مجھے زیادہ پسند ہے اس کی گردن میں یہ ڈالوں گا۔ تمام ازواج مطہراتؓ اس بات کی منتظر تھیں کہ بلا وہ کس کے حصہ میں آتا ہے تو آنجنابﷺ نے اپنی دختر زادی امامہ بنتِ زینبؓ کو بلایا اور اس کے گلے میں ہار پہنا دیا اس واقعہ کو کچھ کمی بیشی کے ساتھ مندرجہ ذیل مقامات میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

(مجمع الزوائد للهيثمى صفحہ254 جلد9 تحت مناقب زینبؓ بنتِ رسول اللهﷺ)

 (الفتح الرباني صفحہ 420 جلد22 (ترتيب مسند احمد) باب ما جاءفی امامة بنتِ زينبؓ بنتِ رسول اللهﷺ)

 (اسد الغابه صفحہ 400 جلد5 تحت امامه بنتِ ابی العاصؓ)

(الاصابة صفحہ 230 جلد4 تحت بنتِ ابی العاصؓ بن ربيع)

 واقعہ ہذا سے یہ واضح ہوا کہ صاحبزادی سیدہ زینبؓ کی لڑکی امامہ کے ساتھ آنجنابﷺ کا کس قدر قلبی تعلق تھا آپﷺ نے اپنی دختر زادی امامہؓ کے لئے٫ أحب اهلی" کے الفاظ ذکر فرمائے یہ ماں اور بیٹی کے حق میں کتنے شفقت کے الفاظ ہیں اور غایت درجہ کے التفات کی دلیل ہے۔ یہ سب چیزیں صاحبزادی زینبؓ کی وجہ سے صادر ہو رہی ہیں اس کی بنا پر سیدہ زینبؓ کا مقام جو رسالتِ مآبﷺ کے نزدیک ہے وہ اظہر من الشمس ہے اور ازواج مطہراتؓ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سب حضرات ان مسائل سے خوب واقف تھے انہوں نے امتِ مسلمہ کو یہ سب مسائل بتائے اور جمہور اہلِ اسلام ان چیزوں کے قائل تھے۔ لیکن اس دور کے بعض مرثيہ خواں آنجنابﷺ کی اولاد شریف کے ان فضائل سے بر ملا انکار کر رہے ہیں لیکن یاد رکھیئے ان کے انکار کی وجہ سے اولادِ نبویﷺ کا مشرف و مجد کم نہیں ہو سکتا۔

 گــرنــه بــیــنـد بــــروز شیــــره چــــشـــم 

 چــشمــهِ آفتــاب راچــــه گنــــاه

امامہ رضی اللہ عنہا کے حق میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وصیت

 مندرجہ ذیل واقعہ اگرچہ سیدہ فاطمہؓ کی وفات کے بعد پیش آیا تھا لیکن امامہؓ کے متعلقات چونکہ ما قبل میں ذکر ہورہے ہیں اس مناسبت کی بناء پر واقعہ ہذا کو بھی یہاں ذکر كر دینا غیر مناسب نہ ہوگا ہم نے یہ بطور معذرت کے عرض کر دیا ہے، امامہ بنتِ ابی العاصؓ سیدہ زینبؓ سے ابو العاصؓ کی صاحبزادی ہے ابو العاصؓ قريباً سنــــہ12 ہجرى کے آخر میں فوت ہو گئے تھے۔ انہوں نے وفات سے پہلے زبیر بن عوامؓ کو لڑکی امامہؓ کی نگرانی کی وصیت کی تھی اور ان کو ان کی کفالت میں دیا تھا۔

 و امامه بنتِ ابی العاص واوصى بها ابو العاص إلى الزبير اپنی بن عوام

(کتاب نسبِ قريش لمصعب زبیری صفحہ 22 تحت ولد عبد الله بن عبد المطلب)

  اور سیدہ فاطمہؓ نے اپنے انتقال سے قبل سیدنا علىؓ کو وصیت فرمائی تھی کہ اگر میرے بعد شادی کریں تو میری بہن زینبؓ کی لڑکی امامہؓ کے ساتھ نکاح کرنا وه میری اولاد کے حق میں میری قائم مقام ہو گی۔ چنانچہ شیعہ علماء نے اس مسئلہ کو متعدد بار ذکر کیا ہے۔ سلیم بن قیس کی کتاب میں یہ الفاظ ہیں سیدہ فاطمہؓ سیدنا علیؓ کو فرماتی ہیں۔ وانا أوصيك ان تزوج بنت اختى زينب تكون لولدي مثلی الخ

(کتاب سليم بن قيس الكوفى صفحہ226 تحت وصیت فاطمةؓ علىؓ طبع ایران)

 ( العبرللذهبی جلد اول)

(جمہرة الانساب لابن حزم صفحہ 77 ،78)

چنانچہ سیدنا علیؓ نے اس وصیت کے مطابق 12 ہجرى ميں امامہ بنتِ ابی العاصؓ کے ساتھ نکاح کیا اور زبیر بن عوامؓ نے اپنی نگرانی میں ان کی شادی سیدنا علیؓ، سے کر دی یہ نکاح مسلم بین الفریقین ہے۔ اہلِ سنت اور شیعہ دونوں حضرات اپنے اپنے مقام میں اس کو ذکر کیا کرتے ہیں نکاح ہذا کو مزید تائید کے طور پر شیعہ علماء کی مندرجہ ذیل کتب میں بھی ملاحظہ فرمالیں۔ 

(مروج الذهب للمسعودی الشيعي صفحہ298 جلد 2تحت ذكرا موروا حوالى من مولد الى وفاتهﷺ)

(انوار النعمانيه: از شیخ نعمت الله جزائري الشيعی صفحہ 367 جلد1 تحت نور مولودی)

پھر امامہ بنتِ ابی العاصؓ سیدنا علیؓ کے نکاح میں رہیں لیکن اتفاق قدرت کی وجہ سے سیدنا علیؓ کی ان سے کوئی اولاد نہیں ہوئی جس وقت سیدنا علیؓ کوفہ میں شہید ہوئے تو اس وقت وہاں سیدنا علیؓ کی ازواج میں یہ زندہ تھیں سیدنا علیؓ کی شہادت کے بعد امامہؓ کا نکاح مغیرہ بن نوفل بن حارث بن عبد المطلب سے ہوا تھا پھر مغیرہ کے نکاح میں سیدہ امامہ فوت ہوئیں۔ 

(الاصابه صفحہ433 جلد3 تحت مغيره بن نوفل)

 (اسد الغابه صفحہ 407، 408جلد رابع تحت مغیرہ بن نوفل)

 قابل توجہ

 غور کرنے سے اس مقام میں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ امامہ بنتِ ابی العاصؓ کی وجہ سے رشتہ داری کے درج ذیل تعلقات قائم ہوئے۔ 

امامہؓ سیدہ فاطمہؓ کی بھانجی تھی

 نکاح سے قبل سیدنا علیؓ کی سالی زینبؓ کی لڑکی تھی پھر بعد از نکاح ان کی زوجہ محترمہ ہوئی ۔ اور ابو العاصؓ سیدنا علیؓ کے سسر ہوتے ۔ حسنین شریفینؓ کے لئے (نکاح مرتضویؓ سے قبل امامہؓ خالہ زاد بہن تھی اور بعد از نکاح سوتیلی ماں ہوئی اور ابو العاصؓ نے سوتیلے نانا ہوئے۔

صفحہ 10 از 17