سوانح سیده زینب رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ - دفاعِ اہلِ سنت |…

سوانح سیده زینب رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ

  مولانا محمد نافع

صفحہ 1 از 17

سوانح سیده زینب رضی اللہ عنہا بنتِ رسولﷺ

 سردارِ دو عالمﷺ کی چاروں صاحبزادیوں میں سب بڑی صاحبزادی سیدہ زینبؓ ہیں اور ان کی والدہ محترمہ کا نام سیدہ خدیجہ الکبریٰؓ بنتِ خویلد بن اسد ہے ۔ 

 ولادت با سعادت

نبی اقدسﷺ کے ساتھ خدیجہ الکبریٰؓ کی ترویج قبل از اسلام کے دستور کے مطابق ہوئی تھی اور بعض تذکرہ نوسیوں کے قول کے مطابق اس بابرکت نکاح کے پانچ برس کے بعد سیدہ زینبؓ کی ولادت باسعادت ہوئی اور سردار دو عالمﷺ کی عمر مبارک اس وقت تیس برس کے قریب تھی۔ ظہورِ اسلام کے وقت سیدہ زینبؓ کی عمر قریباً دس سال کو پہنچ چکی تھی اعلانِ نبوت کے بعد سب سے پہلے سیدہ خدیجہ الکبریٰؓ مشرف باسلام ہوئی تھیں۔ اور ان کے ساتھ ساتھ آنجنابﷺ کی اولاد بھی اسلام میں داخل ہوئی۔ اولاد کے رحجانات اور خیالات پر فطری طور پر ماں زیادہ اثر انداز ہوتی ہے سو ان سب صاحبزادیوں کا ابتداء سے ہی اسلام سے مشرف ہونا از خود واضح ہے اور اصولِ فطرت کے مطابق ہے۔ 

علماء فرماتے ہیں کہ سیدہ زینبؓ نے اسلام کے دور کو پایا اسلام لائیں اور پھر جب ہجرت کا دور آیا تو انہوں ہجرت کی ہجرت کا واقعہ اپنی جگہ پر آئے گا بڑی اولاد سے جو فطری موانست ہوتی ہے وہ کسی سے چھپی نہیں رسول خداﷺ اپنی اس بڑی صاحبزادی کے ساتھ خصوصی محبت فرمایا کرتے تھے یہ چیز ابنِ عبدالبر نے بھی ذکر کی ہے اور محب الطبری کی کتاب "زخائر العقبٰی" میں بھی ہے اور الشیخ حسین دیار البکری "تاریخ الخمیس" میں بھی اسی طرح لکھتے ہیں۔ 

 "عبيد الله بن محمد بن سليمان الهاشمي يقول ولدت زينب بنتِ رسولﷺ فى سنة ثلاثين من مولد النبیﷺ وادركت الاسلام واسلمت وهاجرت و كان رسولﷺ محباً فيها "

 (ذخائر العقبٰی صفحہ 156 از المحب الطبري تحت الفصل الرابع فی ذكر زینب، ابنتہ رسولﷺ)

 (الاستيعاب لابن عبد البر صفحہ305 جلد4 تحت بنتِ رسول اللهﷺ)

 (تاريخ الخمیس للشیخ الدیار بکری صفحہ 273جلد1] تحت ذکر زینبؓ)

 نکاحِ زینب رضی اللہ عنہا کے متعلق روایت

 بعض روایات میں سیدہ عائشہؓ سے منقول ہے وہ فرماتی ہیں کہ ابو العاص بن ربیع ( بن عبدالعزیٌ بن عبد الشمس بن عبد مناف ) مکہ شریف میں ان لوگوں میں شمار ہوتے تھے جو صاحبِ مال تھے اور صاحبِ تجارت تھے اور کردار کے اعتبار سے) صاحبِ امانت بھی تھے سیدہ خدیجہ الکبریٰؓ نے رسالت مآبﷺ سے گزارش کی کہ زینبؓ کا نکاح ابو العاصؓ سے کر دینا چاہیے اور رسالت مآبﷺ سیدہ خدیجہؓ کی کسی معاملہ میں مخالفت نہیں فرمایا کرتے تھے بلکہ ان کی رائے کو تسلی کر لیتے تھے سو اس تجویز پر سیدہ زینبؓ کا نکاح ابو العاصؓ کے ساتھ کر دیا گیا اس روایت کے اعتبار سے یہ واقعہ نزولِ وحی سے پہلے پیش آیا جب اللہ تعالیٰ نے آنجنابﷺ کو اعلانِ نبوت کا حکم دیا تو سیدہ خدیجہؓ ایمان لائیں اور آپ کی صاحبزادیاں بھی ساتھ ہی ایمان لائیں ۔ 

عن عائشة رضى الله عنها قالت كان ابو العاص ابيع من رجال مكة المعدودين مالاً وتجارة و امانةً فقالت خديجة الرسول اللهﷺزوجه وكان رسول اللهﷺ لا يخالفها وذالك قبل أن ينزل عليه الوحى فزوجه زينب فلما اكرم الله نبيهﷺ بنبوتهٖ امنت خديجة وبناته

(ذخائر العقبٰى صفحہ 157 از المحب الطبري  تحت ذکر تزویجھا زینبؓ بنتِ رسول اللہﷺ)

(البدايه لابن كثير صفحہ311 جلد 3 طبع اول فصل في وصول خبر مصائب اہلِ بدر)

(سیرت ابنِ ہشام صفحہ 652,651 جلد اول تحت سبب زواج ابی العاص من زينبؓ)

1_ ابو العاصؓ کا پورا نام بعض نے لقیط ذکر کیا ہے اور بعض نے مقسم وغیرہ لکھا ہے اور سلسلۂ نسب اس طرح ہے ابو العاص بن ربیع بن عبدالعزىٰ بن عبد الشمس بن عبد مناف یعنی ابو العاصؓ کا نسب چہارم پشت میں رسالت مآبﷺ اور سیدنا علی المرتضیٰؓ سے مل جاتا ہے ۔ ابو العاصؓ کی وفات کے متعلق علماء نے لکھا ہے کہ خلافتِ صدیق اکبرؓ ذو الحجہ سن 12ہجری میں ہوئی اور بعض علماء نے کہا ہے کہ ابو العاصؓ یوم الیمامہ میں شہید ہوئے تھے۔ 

2_ ابو العاصؓ سیدہ خدیجہؓ کے خواہر زادے ہیں یعنی ان کی والدہ کا نام ہالہ بنتِ خویلد بنی اسد ہے جو سیدہ خدیجہ ؓ کی حقیقی بہن ہیں اور خدیجہؓ ابو العاصؓ کی خالہ ہیں۔

 3_ ابو العاصؓ صاحبزادی سیدہ زینبؓ کے خالہ زاد بھائی ہیں اور نبی اقدسﷺ کے بڑے باوفا اور باوقار داماد ہیں چنانچہ (ان کی وفا کے متعلق ان شاء اللہ آگے ذکر آئے گا)

 4_ سیدہ زینبؓ اور سیدہ فاطمہؓ چونکہ آپس میں حقیقی بہنیں ہیں اس بنا پر سیدنا علی المرتضیٰؓ اور ابو العاصؓ آپس میں ہم زلف ٹھہرے اور اس با عزت رشتہ داری میں باہم منسلک ہوئے۔

 5_ ابو العاصؓ بن ربیع جس طرح نبی کریمﷺ کے داماد ہیں اسی طرح سیدنا علی المرتضیٰؓ ابو العاصؓ بن ربیع کے داماد ہیں (کتاب المجر صفحہ99) 

6_ سیدہ فاطمہؓ نے اپنے انتقال سے قبل سیدنا علیؓ کو وصیت فرمائی تھی کہ میرے بعد اگر آپ نکاح کریں تو میری خواہر زاڈی یعنی امامہ بنتِ ابی العاص کو نکاح میں لانا چنانچہ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے اس وصیت کے مطابق عمل کیا اور امامہ بنت ابی العاصؓ کو نکاح میں لائے اس کا مزید تذکرہ حسبِ موقع ان شاء اللہ آئے گا۔

 7_ ابو العاصؓ بن ربیع سیدنا علی المرتضیٰؓ کے سسر ہیں اور سیدہ زینبؓ اس رشتہ کے بعد سیدہ علیؓ کے لئے خوش دامن بنیں۔ یہ رشتہ داری کے تعلقات ان حضرات کے درمیان وقتی نہیں دائمی تھے۔

 ناظرین کرام کو معلوم ہونا چاہیئے کہ ہم نے سیدہ زینبؓ اور سیدنا ابو العاصؓ دونوں کا اجمالی تذکرہ رحماء بينهم حصہ صدیقی کے صفحہ 166,167 پر پہلے بھی کر دیا تھا اور یہاں پھر سوانح زینبؓ کے سلسلہ میں ہو رہا ہے۔ 

8_ ابو العاصؓ جب ہالہ بنتِ خویلد کے فرزند ٹھہرے اور ان کے ساتھ سیدہ زینبؓ کا نکاح ہوا تو معلوم ہوا کہ سیدہ زینبؓ کے بنتِ ھالہ ہونے کی روایت سراسر غلط ہے کیونکہ اس صورت میں یہ بہن بھائی کا نکاح ہو گا جس کی اجازت کسی دین و مذہب میں نہیں ہے۔

ابتدائی دورِ نبوت میں صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا کی خدمات

صفحہ 1 از 17