تاج الفقہاء محمد اختر حسین قادری کا فتویٰ - فتاویٰ جات |…

تاج الفقہاء محمد اختر حسین قادری کا فتویٰ


صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی کرنے والے پیر کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم

سوال: بکر ایک پڑوسی ملک میں بےعلم پیر، جو علمائے دین کی توہین کرتا ہے اور سادات کرام کی بھی سخت توہین کرتا ہے اور خود کو سید بتاتا اور پیر کہلاتا ہے، مگر عامیانہ زبان بلکہ بازاری نہایت فحش زبان بولتا ہے، واٹس ایپ پر اس کی آواز سنی جا سکتی ہے، کلپ کے ذریعہ جاری کئے گئے بیان میں بدمعاشوں کی زبان بولی گئی ہے، مثلاً: تم کس منہ سے کہتے ہوں کہ علی علیہ السلام مت کہو، حسن اور حسین علیہ السلام مت کہو تم لوگ تو کفر کر رہے ہو، خارج از اسلام ہو بلکہ واجب القتل ہو۔ یہ میں نے زبانی فتویٰ دیا ہے اور لکھ کر بھی دے دوں گا۔ اور حضرت علیؓ پر حملے معاویہؓ نے کرائے اور عمارؓ کو قتل معاویہؓ نے کرایا۔ حضور اکرمﷺ نے فرمایا: اے عمارؓ تم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے والے ہوں گے، مگر افسوس تم کو ایک جہنمی گرو قتل کرے گا، جو علیؓ کا نہیں وہ کسی کا نہیں۔

ایسا شخص جس کے مذکورہ بالا اقوال ہیں، کیا توہین علماء کا مرتکب ہوا یا نہیں؟ جبکہ اس کا علمائے دین کی توہین کا باعث مسائل حقہ بیان کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ ایسی صورت میں یہ شخص دائرہ اسلام سے خارج ہوا یا نہیں؟ اس کی بیوی نکاح سے نکل گئی یا نہیں؟

بکر کے مذکورہ بالا اقوال پر مطلع ہونے کے بعد، اور خود اپنے کانوں سے علمائے دین کے لیے سبّ و شتم اور فحش گوئی اور لعنت و ملامت سننے کے بعد ایسے شخص کی تائید و حمایت کرنا اور اس کی غایت درجہ تعظیم و توقیر کرنا، خود اور اپنی اولاد اور اہل خاندان کو اس کا غلام بنانا، اس کی ہر ممکن معاونت اور حمایت کرنے والے کے لیے کیا حکم ہے؟ ایسے پیر سے مرید ہونا، یا اس کی امامت میں نماز ادا کرنا، اس کو ولی جاننا اور اپنا پیشوا ماننا کیسا ہے؟

جواب: علمائے دین اور سادات کرام کی توہین سخت حرام بلکہ بحکم حدیث کھلا ہوا نفاق اور بحکم فقہاء کفر ہے۔ اور عالمی زبان استعمال کرنا، یعنی گالی گلوچ اور فحش گوئی کرنا سخت ممنوع ہے۔ حدیث پاک ہے: سباب المؤمن فسوق: یعنی مسلمان کو گالی گلوج کرنا فسق ہے۔

سیدنا حضرت علیؓ اور حضرات حسنین کریمینؓ کےلیے لفظ: علیہ السلام بولنا جائز نہیں ہے، یہ رافضیوں کی علامت ہے۔

لہٰذا جو شخص حضرت علیؓ کیلئے کلمہ: علیہ السلام: نہ کہنے والوں کو کافر اور خارج از اسلام کہتا ہے، وہ خود کفر کر رہا ہے اور سیدنا حضرت امیر معاویہؓ پر تبرا کرنا حرام و گناہ ہے، ان پر تبرا کرنے والا جہنمی کتوں میں سے ایک کتا ہے۔ علامہ شہاب الدین خفاجیؒ فرماتے ہیں: من يكون يطعن في معاوية فذلك كلب من كلاب الهاوية: یعنی جو شخص سیدنا حضرت امیر معاویہؓ پر طعن کرے وہ جہنم کے کتوں میں سے ایک کتا ہے۔ 

حاصل كلام: یہ ہے کہ جس پیر نے مذکورہ بالا باتیں بکی ہیں، وہ متعدد وجوہ سے حرام اور کفر کا مرتکب ہے اور بحکم فقہاء کافر ہے، اس پر لازم ہے کہ توبہ استغفار کرے اور تجدیدِ ایمان و نکاح اور تجدیدِ بیعت کرے، اگر وہ ایسا کر لے تو اس کی تعظیم کرنا، اس سے مرید ہونا، اس کی اقتداء میں نماز ادا کرنا درست ہے، ورنہ مکمل بائیکاٹ کرنا واجب ہے۔

 قال الله تعالى: وَاِمَّا يُنۡسِيَنَّكَ الشَّيۡطٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ الذِّكۡرٰى مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ: 

اور جو شخص اس کی تائید و حمایت کرے، اس کا حکم بھی اسی طرح ہے ۔ 

ارشاد باری تعالی ہے: ‌اِنَّكُمۡ اِذًا مِّثۡلُهُمۡ‌

لہٰذا اس کی تائید و حمایت کرنے والے پر بھی لازم ہے کہ توبہ و استغفار کرے اور تجدیدِ ایمان و نکاح اور تجدیدِ بیعت کرے۔ (فتاوىٰ عليميہ: جلد 2 صفحہ 353)