صحابہ کرامؓ سے عداوت اور بغض رکھنے والوں کی اقتداء میں نماز…

صحابہ کرامؓ سے عداوت اور بغض رکھنے والوں کی اقتداء میں نماز پڑھنے سے احتراز کریں


صفحہ 2 از 2

ابن انباری کہتے ہیں کہ: صحابہ کرامؓ کے عدالت سے مراد، اُن کیلئے عصمت ثابت کرنا نہیں ہے بلکہ مراد، ان کی روایت کو دینی احکام کے لیے بغیر تردد و عدالت کے اسباب میں بحث کئے بغیر قبول کرنا ہے۔

اب تک ان کی عدالت کو مجروح کرنے والی کوئی چیز نہ ہوئی اور کسی قسم کی توجہ نہ کی جائے گی ان اخبار کی طرف جو سیرت نگاروں نے ذکر کی ہیں، کیونکہ وہ صحیح نہیں، اگر وہ صحیح بھی ہوں تو اُن کی صحیح تاویل کرنی ہو گی۔

اس بابت حضرت عمرؓ بن عبدالعزیزؒ کا قول ہے کہ: وہ ایسے خون ہیں جن سے اللہ تعالیٰ جل شانہ نے ہماری تلواروں کو محفوظ رکھا، پس ہم اس میں اپنی زبانیں نہ رنگیں گے۔ اور کیسے جائز ہو گا کہ ان حاملانِ دین پر طعنہ زنی کی جائے؟ ہم کو حضور اکرمﷺ کی کوئی روایت نہیں پہنچتی مگر انہیں صحابہ کرامؓ کے توسط ہے۔ پس جو کوئی صحابہ کرامؓ کو طعنہ دے وہ نفس دین پر طعنہ کرتا ہے۔ پس ضروری ہے کہ اس قسم کے باب کو بالکلیہ بند کیا جائے، بالخصوص حضرت امیر معاویہؓ اور حضرت عمرو بن العاص اور ان جیسے حضرات کے بارے میں۔ (اليواقيت والجواهر: صفحہ 444)

تمام امت مسلمہ پر واجب ہے کہ وہ تمام صحابہ کرامؓ سے محبت کریں اور ان میں سے کسی ایک کی محبت میں افراط و تفریط نہ کریں اور کسی سے بیزارگی کا اظہار نہ کریں اور ان لوگوں سے بغض رکھیں جو صحابہ کرامؓ سے بغض رکھتے ہیں اور خیر کے ساتھ ان کا تذکرہ نہیں کرتے۔ اور صحابہ کرامؓ کا ذکر خیر ہی کے ساتھ کریں، ان سے محبت دین، ایمان اور احسان ہے اور ان سے نفرت کفر، نفاق اور طغیان ہے۔ اور جو کوئی حضور اکرمﷺ کے صحابہ کرامؓ اور ازواجِ مطہراتؓ اور ان کی اولاد کے متعلق ہر قسم کی بدگوئی سے بچتے ہوئے اچھی بات کہے وہ منافقت سے بری ہو گا۔

العقيدة الطحاويه میں ہے: ونحب اصحاب رسول الله ولا تفرط في حب احد ومنهم ولا نتبرأ من احد منهم ونبغض من يبغضهم، وبغير الخير يذكرهم. ولا نذكرهم الا بعفو، وحبهم دين و ايمان و احسان و بغضهم كفر و نفاق وطغيان، ومن احسن القول في اصحاب رسول اللهﷺ وازواجه الطاهراتؓ من كل دنس وذرياته المقدسين من كل رجس فقدبرء من النفاق۔

نیز قاضی عیاض اپنی کتاب الشفاء میں تحریر فرماتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ کی تعظیم و توقیر اور آپ کے ساتھ اچھائی کرنے کی قبیل ہی سے ہے کہ تمام صحابہ کرامؓ کی تعظیم کی جائے اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے اور ان کا حق جان کر اُن کی اقتداء کی جائے اور ان کی اچھی تعریف کی جائے اور ان کے لیے استغفار کیا جائے اور ان کے درمیان جو اختلافات ہوئے ہیں ان سے روکا جائے ۔

جو ان سے دشمنی رکھے ان سے عداوت کی جائے، جاہل مؤرخین و گمراہ فرقوں کے اخبار اور روایتوں سے جو صحابہ کرامؓ کی شان مجروح کرتی ہیں اعراض کیا جائے اور جو فتنے رونما ہوئے ان کی بہترین تاویلات کی جائیں اور ان کے لیے صحیح تر مصادر تلاش کئے جائیں جس کے وہ اہل ہیں، ان میں سے کسی کا تذکرہ بُرائی سے نہ کیا جائے اور نہ کسی کی کسرِ شان کی جائے بلکہ ان کی خوبیاں، فضائل، حسنِ سیرت بیان کی جائے جس کے شوائد قرآن اور احادیث میں ہیں اور اس کے ماورا سکوت اختیار کیا جائے۔ نبی کریمﷺ کا فرمان ہے کہ: جب میرے اصحاب کا ذکر کیا جائے تو زبان کو قابو میں رکھو۔

قال الله تعالىٰ: مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِ‌ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ. والى آخر السورة: وقال الله تعالىٰ: وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ: وقال الله تعالىٰ: لَقَدۡ رَضِىَ اللّٰهُ عَنِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذۡ يُبَايِعُوۡنَكَ تَحۡتَ الشَّجَرَةِ: وقال الله تعالى: مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيۡهِ‌:

 (تلخيص فتاویٰ نظامیہ: صفحہ 133)


صفحہ 2 از 2