سوال: 1جو شخص سیدنا صدیقِ اکبرؓ سیدنا فاروقِ اعظمؓ کو بالترتیب پہلا و دوسرا خلیفہ تسلیم نہ کرے وہ گمراہ ہے یا سنی مسلمان؟
2: جو شخص بالترتیب سیدنا صدیقِ اکبرؓ و سیدنا فاروقِ اعظمؓ پر کسی دوسرے صحابی کو افضل قرار دے، اس کے لیے کیا حکم ہے؟
3: تاریخ میں مذکورہ مشاجرات کی وجہ سے کسی بھی صحابی، خواہ سیدنا حضرت امیر معاویہؓ کیوں نہ ہوں ان کو برا بھلا کہنا اور سبّ و شتم کرنا، اہل سنت کے نزدیک کیا حکم رکھتا ہے؟
جواب: 1 تمام اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی تمام امت پر فضیلت و تقدم حاصل ہونے کی وجہ سے حضور اکرمﷺ کے بعد خلافت پہلے سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے لیے ہے، پھر سیدنا فاروقِ اعظمؓ کے لیے، پھر سیدنا عثمان غنیؓ کے لیے، پھر حضرت علیؓ کے لیے، اور یہی خلفائے راشدینؓ اور ائمہ مہدین ہیں۔ جیسا کہ: عقيدة والطحاویہ میں ہے: و نثبت الخلافة بعد رسول الله اولا لابي بكر الصديق تفضيلاً له وتقديماً : على جميع الامتثم لعمر بن خطاب ثم لعثمان بن عفان ثم لعلى بن طالب ، وهم الخلفاء الراشدون والائمة المهديون:
سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی امامت اور خلافت کا انکار کرنے والا اور اسی طرح سیدنا فاروق اعظمؓ کی خلافت کا انکار کرنے والا یا امامت و خلافت کو تسلیم نہ کرنے والا کافر ہے۔
فتاویٰ عالگیری جلد 2 صفحہ 264 میں ہے: من انکرابی بکر الصديقؓ فهو كافر وعلى قول بعضهم هو مبتدع وليس بكافر والصحيح انه كافر وكذلك من انكر خلافة عمرؓ في اصح الاقوال: كذا في الظهيرية
2: تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد مخلوق میں سب سے افضل سیدنا صدیقِ اکبرؓ پھر سیدنا فاروق اعظمؓ پھر سیدنا عثمان غنیؓ پھر سیدنا علی المرتضیٰؓ ہیں، یہی افضلیت کے معیار کو اہل سنت و الجماعت کی علامتوں میں شمار کیا گیا ہے؟ کہ شیخین کریمین سیدنا صدیقِ اکبرؓ سیدنا فاروقِ اعظمؓ کی فضیلت اور ختننین کریمین سیدنا عثمان غنیؓ و سیدنا علی المرتضیٰؓ سے محبت کرتا ہے۔ ان حضرات کے نبی کریمﷺ کا خلیفہ ہونا بھی اسی ترتیب پر ہے۔
اس پر حضور اکرمﷺ کے وصال مبارک کے بعد صحابہ کرامؓ جمع ہو کر بعد مباحثہ و مشاورت سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی خلافت کو تسلیم کیے اور حضرت علیؓ نے بھی علانیہ طور پر توقف کے بعد سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اگر خلافت ان کا حق نہ ہوتا تو صحابہ کرامؓ اتفاق نہیں کرتے اور ضرور حضرت علیؓ اختلاف کرتے، اور صحابہ کرامؓ کے بارے میں یہ کیسے تصور کیا جا سکتا کہ وہ باطل پر اتفاق کیے ہوں اور نص کو چھوڑ دیئے ہوں۔ پھر سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے اپنی وفات سے قبل حضرت عثمان غنیؓ کو بلا کر سیدنا فاروق اعظمؓ کے لیے خلافت کی وصیت لکھوائے اس پر مہر ثبت فرمائے اور اس کو لوگوں کے سامنے پیش کیے اور ان کو بیعت کرنے کو کہا سب نے بیعت کی اور حضرت علیؓ کے پاس سے یہ تحریر گزری تو آپؓ نے بھی بیعت کی۔
شرح عقائد نسفیه میں ہے: (وافضل البشر بعد نبينا) والاحسن ان يقال: بعد الانبياء ابو بكر الصديقؓ ثم عمر ثم عثمان ذو النورينؓ ثم على المرتضىٰؓ وخلافتهم على هذا الترتيب ايضا) يعنى ان الخلافة بعد رسول الله لابي بكر ثم عمرؓ ثم لعثمانؓ ثم لعلىؓ وذلك لان الصحابةؓ قد اجتمعوا يوم توفى رسول اللهﷺ في سقيفة بني ساعدة واستقر رأيهم بعد المشاورة والمنازعة على خلافة أبي بكرؓ فاجمعوا على ذلك وبايعه عملى على رؤس الاشهاد بعد توقف كان منه ولولم تكن الخلافة حقاله لما اتفق عليه. الصحابةؓ وكيف يتصور في حق اصحاب رسول اللهﷺ الاتفاق على الباطل وترك العمل بالنص الوارد، ثم ان ابا بكرؓ لا ينس من حياته دعا عثمانؓ واملى عليه كتاب عهده العمرؓ فلما كتب ختم الصحيفة واخرجها الى الناس وامرهم ان يبايعو المن في الصحيفة فبايعوا حتى مرت بعلىؓ فقال بايعنا لمن فيها وان كان عمرؓ وبالجملة وقع الاتفاق علىؓ . خلافته (شرح العقائد النسفيہ: صفحہ 148)
ایسے اشخاص جو سیدنا صدیقِ اکبرؓ اور سیدنا فاروقِ اعظمؓ پر کسی اور صحابی یا حضرت علیؓ کو فضیلت دیتے ہیں۔ اہل سنت کے پاس بدعتی ہیں ان سے راہ و رسم رکھنے اور ان کی مجالس میں شریک ہونے اور ان کی اقتداء میں نماز پڑھنے سے احتراز کریں۔
فتاویٰ عالمگیری جلد 2 صفحہ 264 میں ہے: وان كان يفضل عمليا علىؓ ابي بكرؓ لا يكون كافرا الا انه مبتدع: اگر کوئی شخص حضرت علیؓ کو سیدنا صدیقِ اکبرؓ پر فضیلت دے تو وہ بدعتی (گمراہ) ہے کافر نہیں۔
رد المحتار: جلد 3 صفحہ 302 میں ہے: وان كمان يفضل عليا عليهما فهو مبتدع جو حضرت علیؓ کو حضرات شیخینؓ (سیدنا صدیقِ اکبرؓ وسیدنا فاروقِ اعظمؓ پر فضیلت دے وہ بدعتی (گمراہ) ہے۔
شرح مقاصد جلد 2 صفحہ 302 میں ہے: والمبتدع هو من خالف في العقيدة طريقة اهل الحق وهو الفاسق بدعتی وہ ہے جو عقیدہ میں اہل حق کے طریقہ کی مخالفت کرے اور وہ فاسق کی طرح ہے۔
شرح میں ہے: وحكم المبتدع البغض والعداوة والاعراض عنه والاهانة والطعن . واللعن وكراهية الصلوة خلفه:
اور بدعتی (بدعقیدہ) کے لیے یہ حکم ہے کہ اس کے ساتھ بغض و عداوت رکھی جائے اور (ہر وقت) اس سے کنارہ کشی کی جائے، (ہمیشہ) اس کی توہین ہو اور اس پر لعن طعن کیا جائے (اس کے پیچھے نماز پڑھنے سے گریز کیا جائے کیونکہ) اس کے پیچھے نماز ادا کرنا مکروہِ (تحریمی) ہے۔
صحابہ کرامؓ کے درمیان جو مشاجرات ہوئے ہیں اُن کے بارے میں تمام مسلمانوں کو سکوت اختیار کرنا، اپنی زبانوں پر پابندی رکھنا واجب ہے۔ کیونکہ تمام صحابہ کرامؓ باتفاق اہل سنت اصحاب عدالت ہیں چاہے وہ آزمائش میں مبتلا ہوئے ہوں یا نہ ہوئے ہوں، جیسے ابتلاء حضرت عثمانؓ اور حضرت امیر معاویہؓ اور واقعہ جمل، یہ تمام امور حسنِ ظن کے موجب ہے اور ان کو اجتہاد پر محمول کیا جائے گا، کیونکہ ان امور کی بنیاد اجتہاد پر ہے اور ہر دو مجتہد ہیں اور اجتہاد کا حکم یہ ہے کہ جو صواب کو پائے اس کو دوہرا اجر اور جو خطا کرے گا اس کو ایک اجر ملے گا اور باتفاق اہل سنت و الجماعت سیدنا حضرت علیؓ خلفیہ برحق ہیں اور سیدنا حضرت امیر معاویہؓ سے خطا اجتہادی ہوئی۔
ابن انباری کہتے ہیں کہ: صحابہ کرامؓ کے عدالت سے مراد، اُن کیلئے عصمت ثابت کرنا نہیں ہے بلکہ مراد، ان کی روایت کو دینی احکام کے لیے بغیر تردد و عدالت کے اسباب میں بحث کئے بغیر قبول کرنا ہے۔
اب تک ان کی عدالت کو مجروح کرنے والی کوئی چیز نہ ہوئی اور کسی قسم کی توجہ نہ کی جائے گی ان اخبار کی طرف جو سیرت نگاروں نے ذکر کی ہیں، کیونکہ وہ صحیح نہیں، اگر وہ صحیح بھی ہوں تو اُن کی صحیح تاویل کرنی ہو گی۔
اس بابت حضرت عمرؓ بن عبدالعزیزؒ کا قول ہے کہ: وہ ایسے خون ہیں جن سے اللہ تعالیٰ جل شانہ نے ہماری تلواروں کو محفوظ رکھا، پس ہم اس میں اپنی زبانیں نہ رنگیں گے۔ اور کیسے جائز ہو گا کہ ان حاملانِ دین پر طعنہ زنی کی جائے؟ ہم کو حضور اکرمﷺ کی کوئی روایت نہیں پہنچتی مگر انہیں صحابہ کرامؓ کے توسط ہے۔ پس جو کوئی صحابہ کرامؓ کو طعنہ دے وہ نفس دین پر طعنہ کرتا ہے۔ پس ضروری ہے کہ اس قسم کے باب کو بالکلیہ بند کیا جائے، بالخصوص حضرت امیر معاویہؓ اور حضرت عمرو بن العاص اور ان جیسے حضرات کے بارے میں۔ (اليواقيت والجواهر: صفحہ 444)
تمام امت مسلمہ پر واجب ہے کہ وہ تمام صحابہ کرامؓ سے محبت کریں اور ان میں سے کسی ایک کی محبت میں افراط و تفریط نہ کریں اور کسی سے بیزارگی کا اظہار نہ کریں اور ان لوگوں سے بغض رکھیں جو صحابہ کرامؓ سے بغض رکھتے ہیں اور خیر کے ساتھ ان کا تذکرہ نہیں کرتے۔ اور صحابہ کرامؓ کا ذکر خیر ہی کے ساتھ کریں، ان سے محبت دین، ایمان اور احسان ہے اور ان سے نفرت کفر، نفاق اور طغیان ہے۔ اور جو کوئی حضور اکرمﷺ کے صحابہ کرامؓ اور ازواجِ مطہراتؓ اور ان کی اولاد کے متعلق ہر قسم کی بدگوئی سے بچتے ہوئے اچھی بات کہے وہ منافقت سے بری ہو گا۔
العقيدة الطحاويه میں ہے: ونحب اصحاب رسول الله ولا تفرط في حب احد ومنهم ولا نتبرأ من احد منهم ونبغض من يبغضهم، وبغير الخير يذكرهم. ولا نذكرهم الا بعفو، وحبهم دين و ايمان و احسان و بغضهم كفر و نفاق وطغيان، ومن احسن القول في اصحاب رسول اللهﷺ وازواجه الطاهراتؓ من كل دنس وذرياته المقدسين من كل رجس فقدبرء من النفاق۔
نیز قاضی عیاض اپنی کتاب الشفاء میں تحریر فرماتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ کی تعظیم و توقیر اور آپ کے ساتھ اچھائی کرنے کی قبیل ہی سے ہے کہ تمام صحابہ کرامؓ کی تعظیم کی جائے اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے اور ان کا حق جان کر اُن کی اقتداء کی جائے اور ان کی اچھی تعریف کی جائے اور ان کے لیے استغفار کیا جائے اور ان کے درمیان جو اختلافات ہوئے ہیں ان سے روکا جائے ۔
جو ان سے دشمنی رکھے ان سے عداوت کی جائے، جاہل مؤرخین و گمراہ فرقوں کے اخبار اور روایتوں سے جو صحابہ کرامؓ کی شان مجروح کرتی ہیں اعراض کیا جائے اور جو فتنے رونما ہوئے ان کی بہترین تاویلات کی جائیں اور ان کے لیے صحیح تر مصادر تلاش کئے جائیں جس کے وہ اہل ہیں، ان میں سے کسی کا تذکرہ بُرائی سے نہ کیا جائے اور نہ کسی کی کسرِ شان کی جائے بلکہ ان کی خوبیاں، فضائل، حسنِ سیرت بیان کی جائے جس کے شوائد قرآن اور احادیث میں ہیں اور اس کے ماورا سکوت اختیار کیا جائے۔ نبی کریمﷺ کا فرمان ہے کہ: جب میرے اصحاب کا ذکر کیا جائے تو زبان کو قابو میں رکھو۔
قال الله تعالىٰ: مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ. والى آخر السورة: وقال الله تعالىٰ: وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ: وقال الله تعالىٰ: لَقَدۡ رَضِىَ اللّٰهُ عَنِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذۡ يُبَايِعُوۡنَكَ تَحۡتَ الشَّجَرَةِ: وقال الله تعالى: مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيۡهِ:
(تلخيص فتاویٰ نظامیہ: صفحہ 133)