علامہ مفتی محمد رکن الدين نظامی انواری کا فتویٰ - فتاویٰ…

علامہ مفتی محمد رکن الدين نظامی انواری کا فتویٰ


شیعہ کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لوگ حضرت علیؓ کے افضلیت کے قائل ہیں مثلاً شیعی وغیرہ۔ کیا ان کے ساتھ راہ و رسم رکھنا، اُن کی مجالس میں جانا درست ہے یا نہیں؟

جواب: ایسے اشخاص اہل سنت کے پاس بدعتی ہیں۔ ان سے راہ و رسم رکھنے ان کی مجالس میں شریک ہونے سے احتراز کرنا چاہیے۔

فتاویٰ عالمگیری: جلد 2 صفحہ 292 میں ہے: وان كان يفضل عمليا على ابي بكر لا يكون كافرا الا انه مبتدع: اگر کوئی شخص حضرت علیؓ کو سیدنا صدیق اکبرؓ پر فضیلت دے تو وہ بدعتی (گمراہ) ہے کافر نہیں۔

رد المحتار: جلد 3 صفحہ 302 میں ہے: وان كمان يفضل عليا عليهما فهو مبتدع جو حضرت علیؓ کو حضرات شیخینؓ (سیدنا صدیقِ اکبرؓ سیدنا فاروقِ اعظمؓ) پر فضیلت دے وہ بدعتی (گمراہ) ہے۔

شرح مقاصد جلد 2 صفحہ 302 میں ہے: والمبتدع هو من خالف في العقيدة طريقة اهل الحق وهو الفاسق بدعت وہ ہے جو عقیدہ میں اہلِ حق کے طریقہ کی مخالفت کرے اور وہ فاسق کی طرح ہے۔

شرح میں ہے: وحكم المبتدع البغض والعداوة والاعراض عنه والاهانة والطعن و اللعن وكراهية الصلوة خلفه:

اور بدعت (بد عقیدہ) کے لیے یہ حکم ہے کہ اس کے ساتھ بغض وعداوت رکھی جائے اور (ہر وقت) اس سے کنارہ کشی کی جائے، (ہمیشہ) اس کی توہین ہو اور اس پر لعن طعن کیا جائے اور اس کے پیچھے نماز ادا کرنا مکروہ (تحریمی) ہے۔

(تلخيص فتاویٰ نظامیہ: صفحہ 110)