مفتی محمد ذوالفقار خان نعيمی کكرالوى کا فتویٰ - فتاویٰ جات…

مفتی محمد ذوالفقار خان نعيمی کكرالوى کا فتویٰ


صفحہ 6 از 6
الحاصل: عید غدیر اہل تشیع کا ہی شعار ہے اور کسی کافر قوم کے مذہبی شعار کو اپنانا یقیناً تشبہ کے درجہ میں آتا ہے جس کے بارے میں حضور اکرمﷺ نے فرمایا: من تشبه بقوم فهو منهم: جس نے کسی قوم سے مشابہت کی وہ انہیں میں سے ہے۔
الغرض: سوالات میں مندرج عبارات میں اکثر عبارات رفض زدہ ہیں، اور سخت ضلالت و کفر پر مشتمل ہیں۔ اور دو عبارات میں تاویل بعید کا احتمال ہے لیکن اس کے ظاہری پہلو پر نظر کرتے ہوئے اسے بھی کفر مانا جائے گا جیسا کہ ہم پیچھے لکھ آئے ہیں۔
لہٰذا مقرر موصوف پر لازم ہے کہ توبہ تجدید ایمان تجدید نکاح اور تجدیدِ بیعت کرے۔ اور جس طرح ان جملوں کو استعمال کیا ہے اسی طور پر توبہ بھی کرے۔ مطلب یہ کہ اگر اعلانیہ ان جملوں کا ارتکاب کیا ہے ظاہر ہے تقریر ہے تو اعلانیہ ہی کیا ہو گا تو اسی طرح اعلانیہ توبہ لازم ہے حضور اکرمﷺ فرماتے ہیں کہ: جب تو کوئی گناہ کرے تو فورا توبہ کر، پوشیدہ کی پوشیدہ اور ظاہر کی ظاہر۔
اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں کہ: جس طرح اس مذہب خبیث کا اعلان کیا ہے ویسے ہی توبہ رجوع کا صاف اعلان کریں کہ توبہ نہاں کی نہاں ہے اور عیاں کی عیاں۔
اس سب کے بعد اپنی عورتوں سے تجدیدِ نکاح کریں کہ کفر خلافی کا حکم یہی ہے۔ علامہ حسن شرمبلالی شرح و ہانیہ پھر علائی شرح تنویر میں فرماتے ہیں کہ: جو بالاتفاق کفر ہو اس سے اعمال، نکاح باطل ہو جاتے ہیں، تمام اولاد، اولاِد زنا قرار پا جاتی ہے اور جس میں اختلاف ہو وہاں استغفار توبہ اور تجدیدِ نکاح کروایا جائے گا۔ اور جب تک زید توبہ تجدیدِ ایمان وغیرہ نہ کر لے تب تک لوگ اس سے مذہبی سماجی ہر طرح کا بائیکاٹ رکھیں۔ اسے کسی جلسہ میں مدعو نہ کریں اس کی تقریریں نہ سنیں۔ اللہ تعالیٰ جل شانہ فرماتے ہیں: وَاِمَّا يُنۡسِيَنَّكَ الشَّيۡطٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ الذِّكۡرٰى مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ
 اور جو کہیں تجھے شیطان بھلا دے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔
علاوہ ازیں خطیب موصوف کو مشورہ دیں کہ اہل تشیع کی کتابوں کا مطالعہ ہرگز ہرگز نہ کرے بلکہ اہل سنت کی تصانیف کا جلیلہ مطالعہ میں رکھے تاکہ خود بھی گمراہی سے محفوظ رہے اور عوام کو بھی محفوظ رکھ سکے۔
تنبيہ:
مقرر موصوف کی تقریروں کے جو ویڈیو اور آڈیو مجھے بھیجے گئے ان میں سے جس قدر بھی سن سکا اس سے یہ اندازہ لگایا کہ مقرر موصوف کی تقریریں رافضیت زدہ ہوتی ہیں۔ شیعی روایات کی اس قدر بھر مار ہے کہ کہیں کہیں یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ مقرر موصوف اہل سنت سے ہیں یا کسی غیر مذہب سے۔
موضوع ومن گھڑت واقعات و روایات یا متنازع فیها مسائل مقرر موصوف کی تقریر کا اصل چربہ ہے۔ علماء و فقہاء کے اجماع و اتفاق سے ہٹ کر موصوف اختراعی باتیں بیان کرنے میں جری معلوم ہوئے۔ اور اس طرح کی تقریریں یقیناً مسلمانوں کے ایمان کے لیے خطرہ ہیں۔ اس لئے مسلمانان اہل سنت پر لازم ہے کہ اس طرح کی تقریریں نہ سنیں اور کسی کو سننے نہ دیں۔
تصديق فتوىٰ بقلم مفتی جامعہ نعیمیہ مراد آباد
مفتی محمد سلیمان جامعہ نعیمیہ مراد آباد
زید سے متعلق جو سوالات کئے گئے اور ان کے تفصیلی تحقیقی جوابات حضرت مفتی محمد ذوالفقار نعیمی  نے دیئے، وہ قرآن و حدیث و اقوال فقہاء کی روشنی میں اتم ہیں، اور براہین و دلائل سے مملو و مزین ہیں۔ اہلِ حق پر لازم ہے کہ وہ عمل کریں اور زید پلید کو جب تک توبہ تجدیدِ ایمان و تجدیدِ نکاح و تجدیدِ بیعت نہ کرے اپنی محافل دینی و دنیاوی سے دور رکھیں، اور خود بھی دور ہیں۔ اور فرمانِ رسولﷺ پر عمل پیرا رہیں ایاکم واياهم لا يضلونكم ولا يفتنونکم کے مصداق نہیں، کہ اس میں سعادت دارین ہے، اور المحب في الله والبغض في الله: کواپنائیں۔ (فتاویٰ اتراکھنڈ: جلد 2 صفحہ 52)

صفحہ 6 از 6