مفتی محمد ذوالفقار خان نعيمی کكرالوى کا فتویٰ - فتاویٰ جات…

مفتی محمد ذوالفقار خان نعيمی کكرالوى کا فتویٰ


صفحہ 5 از 6
اب ذرا انصاف کر! ان میں کون سا بچہ افضل و اشرف ہے؟ حجاج نے حلیمہ کے حق میں دعائے خیر کی اور عزت و احترام سے ان کو رخصت کیا۔
اس روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ رقم طراز ہے کہ: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے بارے میں جو کچھ ذکر کیا گیا وہ محض لچر اور تاریخ کے لحاظ سے سراسر بےاصل ہے۔
کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت میں بہت بڑا اختلاف ہے بعض کے نزدیک فلسطین میں ہوئی بعض مصر میں مانتے ہیں اور بعض دمشق میں۔ مگر مشہور قول یہ ہے کہ آپ علیہ السلام کی ولادت بیست الملحم میں ہوئی۔ لیکن کسی مؤرخ نے یہ نہیں لکھا کہ حضرت مریم علیہا السلام کو بیت المقدس میں دردِزہ لاحق ہوا۔ اور اگر بالفرض ایسا ہوا بھی تو یہ کہاں سے ثابت ہوا کہ ان کو مسجد سے نکالا گیا بلکہ عبارت قرآنی صاف بتاتی ہے کہ ان کو دردِزہ کی وجہ سے سخت بےچینی لاحق ہوئی انہوں نے چاہا کہ کسی چیز سے ٹیکا لیں اس لئے ویرانے کی طرف نکل کھڑی ہوئیں، چونکہ بغیر باپ کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا علوق قرار پایا تھا، اس لئے شرماتی تھیں، لامحالہ جنگل کا راستہ لیا، ایسی حالت میں جنگل کی طرف جانا اور بغیر کسی کی مدد کے وضع حمل کرنا چونکہ بہت دشوار تھا اس لئے بےاختیار موت کی آرزو کرنے لگیں جیسا کہ فرمایا: فَاَجَآءَهَا الۡمَخَاضُ اِلٰى جِذۡعِ النَّخۡلَةِ‌ قَالَتۡ يٰلَيۡتَنِىۡ مِتُّ قَبۡلَ هٰذَا وَكُنۡتُ نَسۡيًا مَّنۡسِيًّا: اب یہ جو کہا ہے کہ فاطمہ بنت اسد کو وحی آئی کہ خانہ کعبہ میں جا کر وضع حمل کریں یہ درحقیقت ایک بےلطف جھوٹ ہے۔ اس لیے فرق اسلامیہ میں سے کوئی فرقہ ان کی نبوت کا قائل نہیں۔ پھر حجاج نے اس کو کیسے تسلیم کیا یہ قابلِ تعجب ہے؟
مشہور روایت میں یوں آیا ہے کہ ایام جاہلیت میں یہ معمول تھا کہ رجب کی پندرھویں تاریخ کعبہ کے دروازے کھولتے اور اس مبارک گھر کی زیارت کے لیے اندر جاتے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بھی اس روز ہوئی تھی۔ اس لیے اس دن کو یوم الاستفتاح یا روزِ مریم کہتے ہیں۔ یہ رسم تھی کہ اس دن سے ایک دو دن پہلے عورتیں زیارتِ کعبہ کرتیں۔ اتفاق سے ایک انہیں عورتوں کی زیارت کے ایام میں فاطمہ بنت اسد نے بھی زیارت کا ارادہ کیا اگرچہ مدت حمل پوری ہو چکی تھی، چونکہ یہ دن سال میں ایک ہی مرتبہ آتا تھا اس لیے ایسے دنوں میں حرکت دشوار ہونے کے باوجود رنج و مشقت سے خود کو کعبہ کے دروازے تک پہنچایا۔ اُس زمانہ میں کعبہ کا دروازہ زمین سے قد آدم اونچا تھا اب بھی اگرچہ ایسا ہی ہے مگر اس زمانے میں سیڑھی کا زینہ بھی تھا اب تو لکڑی کا زینہ بچوں کی گاڑی کی شکل کا بنا لیا ہے بوقت ضرورت اس کو دہلیز کعبہ سے لگا دیتے ہیں۔ چنانچہ اس سخت حرکت سے دردِزہ اُٹھ کھڑا ہوا، حضرت فاطمہ نے سوچا کہ کچھ دیر بعد جاتا رہے گا، میں زیارت کعبہ سے کیوں محروم ہوں۔ جیسے ہی وہ دروازے میں داخل ہوئیں درد کی شدت نے طول کھینچا اور پھر حضرت علیؓ پیدا ہوئے درد کی شدت اور اس کی مدت کھیچ جانے سے اور کچھ مایوسی پیدا ہونے کے سبب ابو طالب بطلبِ شفا ان کو کعبہ میں لے گئے۔ اللہ تعالیٰ جل شانہ نے فضل فرما دیا کہ جلد ولادت ہو گئی۔
 خلاصہ کلام: یہ کہ اگر خانہ کعبہ میں پیدا ہونے سے حضرت علیؓ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے افضل ہو جائیں تو وہ خود پیغمبر علیہ السلام سے بھی افضل ہوں گے۔ حالانکہ شیعہ و سنی ہر دو فریق میں سے کوئی اس کا قائل نہیں۔ اور صحیح تاریخوں میں ایسا ثابت ہے کہ حکیم بن حزام بن خویلد ام المؤمنین حضرت خدیجہؓ کے بھتیجے بھی کعبہ میں پیدا ہوئے، مسلم شریف میں ہے
قال مسلم بن الحجاج ولد حكيم بن حزام في جوف الكعبة
یعنی حکیم بن حزام کعبہ کے اندر پیدا ہوئے۔ 
(مسلم شریف: کتاب البیوع باب الصدق فی البيع والبيان)
تو چاہیے کہ وہ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام بلکہ تمام پیغمبروں سے افضل ہوں حالانکہ اس کی برائی کسی پر پوشیدہ نہیں۔
مقرر موصوف کو اہل تشیع کی روایات اور ان کے باطل و گمراہ کن عقائد و نظریات کافی حد تک ازبر ہیں۔
مقرر موصوف کا حضرت علیؓ کو نفس رسول قرار دینا اور یہ کہنا کہ: گویا کہ اللہ تعالی: انفسنا: کہہ کر بتا رہا ہے کہ قالب تو دو ہیں اور روح ایک ہے، اس دو قالب کا نام ایک کا علی اور دوسرے کا محمد ہے، اور اس ایک روح کا نام علی مرتضیٰ ہے:
گمراہ کن جملہ ہے۔ اور اس جملہ سے کفریہ عقیدہ حلول کی طرف بھی اشارہ ہو رہا ہے۔ یہ عقیدہ و نظریہ بھی اہل تشیع کا ہے۔
یہ نظریہ بھی رفض زدہ اور کفر و ضلالت کی طرف منجر ہے۔ فرقہ خمسیہ کے بارے میں شاہ صاحبؒ تحفہ اثنا عشریہ کے صفحہ نمبر 19 پر لکھتے ہیں کہ:
یہ کہتے ہیں کہ پانچوں در حقیقت شخص واحد ہیں کہ ایک ہی روح سب میں حلول کئے ہوئے ہیں:
10: مقرر کی درج بالا ہفوات و مزخرفات یقیناً شیعہ مذہب کی طرف مائل ہونے کی گواہی دے رہی ہیں۔
عید غدیر خم کبھی نہ صحابہ کرامؓ نے منائی نہ کسی تابعی نے، نہ کسی مجتہد نے، نہ کسی عالم فقیہ نے، اور نہ کہیں اہل سنت مناتے ہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ یہ عید غدیر خم اہل تشیع کا شعار ہے، اہل سنت کا نہیں۔ یوم غدیر اہل تشیع کی عیدِ اکبر ہے۔ اور اس کو وہ خاص اس لیے مناتے ہیں کہ ان کے مطابق اس دن حضرت علیؓ کو خلافت بلافصل ملی تھی بلکہ امامت کے بھی قائل ہے۔ نیز یہ بھی مشہور ہے کہ اس دن چونکہ حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت ہوئی تھی اس لئے وہ اس دن جشن مناتے ہیں۔ یہ ساری وجوہات ہو سکتی ہیں۔ البتہ اصل وجہ حضرت علیؓ کی خلافت بلافصل اور امامت ہے۔ اس عید غدیر کا بانی عراقی شیعہ حاکم معز الدین احمد بن ابویہ دیلمی ہے۔ سب سے پہلے اس نے رافضیوں کے ساتھ 18 ذی الحجہ 352 ہجری کو بغداد میں عید غدیر منائی۔
حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ تحفہ اثنا عشریہ کے صفحہ نمبر 390 پر فرماتے ہیں کہ: عید غدیر نکال بیٹھے ہیں، ذی الحجہ کی آٹھارویں تاریخ اس کو مناتے ہیں، عید الفطر و عیدالاضحیٰ پر اس کو فضیلت دیتے ہیں، اس لیے عید اکبر اس کا نام رکھا ہے۔ یہ حکم بھی شریعت کے صریح مخالف ہے۔
صفحہ 5 از 6