مفتی محمد ذوالفقار خان نعيمی کكرالوى کا فتویٰ - فتاویٰ جات…

مفتی محمد ذوالفقار خان نعيمی کكرالوى کا فتویٰ


صفحہ 4 از 6
2 پنجتن کے نام کی برکتیں الگ، البتہ یہ کہنا کہ ان کے نام کے بغیر اللہ تعالیٰ جل شانہ کا نام بھی فائدہ نہ دے گا شریعت پر افتراء ہے۔ اللہ تعالیٰ جل شانہ کا نام بالذات مؤثر ہے، فائدہ پہنچانے میں کسی نام کا محتاج نہیں ہے۔ اس طرح کا جملہ بلا شبہہ بارگاہ الہٰی کے تقدس کے خلاف ہے۔ نیز حضرت آدم علیہ السلام بحیثیت نبی کسی غیرنبی کے وسیلہ کے محتاج نہیں ہیں۔
انداز بیان سے حضرت آدم علیہ السلام پر حضرت علیؓ حضرت فاطمہؓ اور حضرات حسنین کریمینؓ کی فضیلت ظاہر ہو رہی ہے اور صاف پتہ چل رہا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام معاذ اللہ ان چاروں نفوس قدسیہ کے محتاج ہیں۔ اور مقرر کا یہ جملہ بھی اس کی وضاحت کر رہا ہے کہ:
:آدم نے جو وسیلہ لیا تھا یہ یوں ہی نہیں لیا تھا بلکہ اس وقت تو یہ پنجتن آدم کی ضرورت تھے:
اور اس میں یقیناً حضرت آدم علیہ السلام کی تنقیص شان ظاہر ہے۔ اور کسی نبی کی توہین و تنقیص ازروئے شرع کفر ہے۔ اعلیٰ حضرت ذخیرۃ العقبی: کے حوالے سے فرماتے ہیں:
یعنی بےشک تمام امت مرحومہ کا اجماع ہے کہ حضور اکرمﷺ خواہ کسی نبی کی تنقیص شان کرنے والا کافر ہے۔ خواہ اسے حلال جان کر اس کا مرتکب ہوا ہو یا حرام جان کر، بہرحال جمیع علماء کے نزدیک کافر ہے اور جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔
3. مقرر موصوف نے حضرت علیؓ کو نہلانے میں نبی کے ہاتھ کے ساتھ خدا تعالیٰ جل شانہ کے ہاتھ کا ذکر کیا اور آیت متشابہ کو مستدل بناتے ہوئے آیت کو ظاہری معنیٰ پر محمول کیا ہے جس پر لفظ حقیقت صاف دال ہے۔ حالانکہ آیات متشابہ کے ظاہری معانی مراد لینا بالکل روا نہیں ہیں اور وہ بھی ایسے معانی جن سے خدا تعالیٰ جل شانہ کی ذات پاک و منزہ ہے بلاشبہ کھلی گمراہی بلکہ کفر ہے۔
مقرر موصوف کے یہ جملے سخت فتیح و شنیع ہیں۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام کو بھکاری کہنا حضرت جبرئیل علیہ السلام جیسے مقدس فرشتہ کی ہتھک شان اور توہین ہے۔ اور فرشتوں کی تنقیص شان کا مرتکب عند الفقہاء کافر ہے۔ 
5: مقرر کے ان جملوں سے حضرت فاطمہؓ کا نبی کریمﷺ پر تقدم ثابت ہو رہا ہے، حالانکہ یہ سراسر گمراہی ہے، نبی کریمﷺ پہلے تن ہیں۔ ذاتی اعتبار سے سب سے اول ہیں۔ جیسا کہ حدیث پاک کنتا نبیا و آدم بین السماء والطین: اس پر شاہد ہے، اور جسمانی اعتبار سے بھی حضرت فاطمہؓ سے اول ہیں کیونکہ حضرت فاطمہؓ کے والد ہیں۔ اس کا ظاہری مفہوم :منجیر الی الکفر: ہے۔ تاویل بعید سے گنجائش بھی نکال لی جائے تب بھی مقرر موصوف عند الفقہاء توبہ تجدید ایمان وغیرہ کے حکم سے بچ نہیں سکیں گے۔
معاذ اللہ مقرر کے ان جملوں سے نبی کریمﷺ بلکہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی بارگاہوں کا تقدس مجروح ہوتا نظر آرہا ہے۔ نبی کریمﷺ اور دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کے لیے اس طرح کے توہین آمیز جملے گستاخانہ انداز کے ساتھ بیان کرنا کسی مومن کی شان سے بعید ہے۔ کسی نبی کو فقیر قلاش بھکاری ہاتھ پھیلانے والا کہنا بلاشبہ توہین ہے، اس میں کسی طرح کی تاویل کفر کو فروغ دینے کے مترادف ہو گی۔ اور نبی کے لیے اس طرح کے نازیبا کلمات کے تعلق سے اعلیٰ حضرت نسیم الریاض کے حوالے سے رقم طراز ہے:
اقول وبالله التوفیق: توفیق جامع تحقیق لامع یہ ہے کہ ان اوصاف کا اطلاق بروجہ تقریر و اثبات خواہ بروجہ حکم قصدی میں ہو یا وصف عنوانی میں، اگر قول قائل کے سیاق یا سباق یا مساق سے طرز تنقیص ظاہر و ثابت ہو یقیناً کفر ہے اور اگر ایسا نہیں اور قائل جاہل ہے اور اس سے صدور نادر ہو اور وہ اس پر غیر مصر و ہدایت و تنبیہ و زجر و تہدید کریں، اور حاکم شرع اس کے مناسب حال تعزیر دے کہ وہ ضرور سزا وارِ سزا ہے۔ اور اگر قائل مدعی علم ہے یا ایسے کلمات کا عادی یا بعد تنبیہ بھی ان پر مصر تو مریض القلب بددین گمراہ اور مستحق عذاب شدید ہے، سلطان اسلام اسے قتل کرے گا اور زمین کو اس کی ہستی ناپاک سے پاک اور عام مسلمانوں کو اس کی صحبت و مجالست سے احتراز لازم اور اسے واعظ یا امام بنانا اس کا وعظ سننا اس کے پیچھے نماز ممنوع و حرام ہے۔
7: اس روایت میں مجموعی طور پر جھوٹ، افتراء اور حضرت مریم علیہا السلام کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین بھی لازم آرہی ہے۔ مقرر موصوف کا یہ کہنا کہ: اللہ کے منادی نے اعلان کیا
یہ بالکل غلط اور بےبنیاد ہے۔ اور اللہ تعالیٰ جل شانہ پر افتراء ہے۔ نیز یہ جملہ:
آج تک تو مسجد میں رہی لیکن اب بچے کی ولادت کا وقت ہے خبردار مسجدوں میں بچے پیدا نہیں ہوتے بچے کی پیدائش کا وقت ہے:
پیغمبر کی پیدائش پر مسجد سے یہ کہہ کر نکالنا کہ مسجد میں بچے پیدا نہیں ہوتے اس کا ظاہری مفہوم نبی کی توہین کا موجب ہے۔ حضرت علیؓ کی ولادت کے وقت کعبہ میں داخل ہونے کا حکم دینا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیغمبر کی ولادت کے وقت مسجد سے نکالا جانا کہ مسجد میں بچے پیدا نہیں ہوتے، کیا اس میں حضرت علیؓ کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر برتری نہیں ہے؟ بلاشبہ ہے۔
یہ پوری روایت حضرت مریم علیہا السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین پر مشتمل ہے ۔ اور کیوں نہ ہو کہ یہ روایت شیعہ نظریات سے ماخوذ ہے۔
شیعہ مذہب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر حضرت علیؓ کی برتری و افضلیت ثابت کرنے کے لیے حضرت حلیمہؓ کے حوالہ سے ایک روایت بیان کی جاتی ہے جو قدرے طویل ہے لیکن یہاں بالضرورت نقل کی جاتی ہے۔ ملاحظہ کریں تحفہ اثنا عشریہ کے صفہ نمبر 113 پر حضرت مولانا شاہ عبد العزیزؒ رقم طراز ہیں:
حلیمہ نے کہا کہ حجاج ایک دوسرانکتہ بھی سن (حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر حضرت علیؓ کی برتری سے متعلق) کہ مریم بنت عمران کو جب در دزه لاحق ہوا تو وہ بیت المقدس میں تھیں۔ حکم الہٰی پہنچا کہ فوراً جنگل کا رخ کر اور وہاں کسی خشک کھجور کے درخت کے نیچے وضع حمل کر، تاکہ تیرے نفاس کی گندگی سے بیت المقدس ناپاک نہ ہو، حالانکہ حضرت علیؓ کی
والدہ کو جو بنت اسد تھیں جب دردِ زہ لاحق ہوا تو اُن کو وحی الہٰی پہنچی کہ کعبہ میں جا اور میرے گھر کو اس مبارک بچے کی پیدائش سے شرف یاب کر:
صفحہ 4 از 6