مفتی محمد ذوالفقار خان نعيمی کكرالوى کا فتویٰ - فتاویٰ جات…

مفتی محمد ذوالفقار خان نعيمی کكرالوى کا فتویٰ


صفحہ 3 از 6
9: الفاظ مقرر:جب آیتِ تطہیر نازل ہوئی تو حضور اکرمﷺ نے اپنی کمبل کو حضور اکرمﷺ نے اپنی نوری چادر کو اللہ اکبر: پھیلایا اور پھیلانے کے بعد کہا علی آ جاؤ، فاطمہ آ جاؤ حسن آ جاؤ، حسین آ جاؤ، اور چاروں تن کو لے کر، آقا نے چاروں تن کو لے کر، ایک تن حضور اکرمﷺ کا ہے، توجہ فرمائیں! ایک تن حضور اکرمﷺ کا ہے، توجہ آپ کی، ایک تن حضور اکرمﷺ کا ہے دو تن حسنین کے ہیں دو تن علی و فاطمہ کے ہیں اس طرح یہ ہے پنجتن، یہ ہے پنجتن ہے، یہ عبا کے اندر ہے انہیں چار تن کے ساتھ انہیں چارتن کو آل عبا کہتے ہیں۔
اور یہ چار تن ہیں آپ غور فرمائیں چار تن کو ساتھ یا ام سلمہ وہ بھی آیت تطہیر میں شامل ہیں۔ آیتِ تطہیر ان کے گھر میں داخل ہوئی لیکن ام سلمہ نے چادر لیا اور اور اندر داخل ہونے کی کوشش کی، آقا نے چادر کھینچ لی، اور کہا ام سلمہ خیر پر ہو آیت کی برکت تمہیں بھی ملے گی لیکن چادر میں آنا نہیں کیوں کیوں؟ حالانکہ آیت ان ہی کے گھر نازل ہوئی، ہمارا عقیدہ ہے آیت تطہیر میں امہات المؤمنین اول درجہ پر ہے اس کے بعد قربان جائیے حضور نے چارتن کو لیا پانچواں تن نبی کا تھا نبی بتا رہے ہیں اس چادر کے اندر تن پانچ ہیں لیکن روح ایک ہے۔ (سبحان اللہ سبحان اللہ) اسی لیے تو کہتے ہیں بےدم یہی تو پانچ ہیں مقصود کائنات مقصود کائنات مقصود کائنات: آقا سے اللہ نے فرمایا ہے حبیب تجھے پیدا کرنا نہ ہوتا ہے تو کائنات کو پیدا نہ کرتا اگرچہ یہ چارتن الگ ہیں لیکن ان میں روح، روح مصطفیٰ ہے روح مصطفیٰ ہے۔ (سبحان اللہ، سبحان اللہ) ( دوسرا دن محرم : 2013 )
10: الفاظ مقرر: 10 ہجری میں 18 تاریخ یعنی یہی جو کل کا دن آنے والا ہے اعلان کس نے کیا؟
اعلانے کرنے والا نبی، کس کی ولایت کا اعلان ہوا؟ علی مرتضیٰ کی۔ اب سب سے پہلے منانے والا کون؟ سب سے پہلے دلایت علی منانے والا کون؟ غدیرِ خم پر مبارک باد دینے والا کون؟
(یوم مباہلہ و یوم اعلان ولایت مولائے کائنات مالیگاؤں: 8 ستمبر 2017 )
الفاظ مقرر:میں وہ کہہ رہا تھا نہ کہ سنی کمیٹی کو کوئی طعنہ نہ دے کہ یہ کیا ہو گیا؟ اور ولایت علی تو رافضی مناتے ہیں۔ اچھا! کب سے مناتے یہ؟ جن کو تم رافضی کہتے ہو؟ ذرا بتانا کب سے مناتے ہیں؟ نبی نے اعلان کیا تبھی تو کوئی منائے گا۔ پہلے اعلان کس نے کیا؟ اعلان کرنا نبی کی سنت ہے اور سب سے پہلے ولایت علی منانے والوں کے نام حدیث کی روشنی میں پیش کرتا ہوں یارو! آپ کو پتہ نہیں ہے، آپ بہکوں میں الجھ گئے ہیں۔ ذرا اصل کی طرف آئیے۔ حقیقی سنیت کی طرف آئیے (سبحان اللہ سبحان اللہ) حقیقی سنیت کی طرف آئیے آپ۔
(یوم مباہلہ و یوم اعلان ولادت مولائے کائنات مالکیاؤں: 8 ستمبر 2017)
الفاظ مقرر: جب یہ اعلان نبی نے کیا سب سے پہلے ابو بکر صدیقؓ اٹھ کر کھڑے ہوئے اور کہنے لگے علی مبارک ہو، مبارک ہو، تو میرا بھی مولا ہے اور سارے مؤمنین کا مولا ہے۔ پھر اس کے بعد عمر بن خطاب کھڑے ہوئے اور کہنے لگے علی مبارک ہو مبارک ہو، تو میرا بھی مولا ہے سارے مؤمنوں کا مولا ہے۔ پتا چلا ولایت علی منانا رافضیت نہیں ہے صدیقیت اور فاروقیت ہے، صد یقیت اور فاروقیت ہے۔
(یوم مباہلہ و یوم اعلان ولادت مولائے کائنات مالکیاؤں: 8 ستمبر 2017)
الفاظ مقرر: نبی نے اعلان کیا تبھی تو کوئی منائے گا، اعلان کرنا نبی کی سنت ہے۔
یوم مباہلہ و یوم اعلان ولادت مولائے کائنات مالکیاؤں: 8 ستمبر 2017ء)
الفاظ مقرر: اور ہم یہ یوم مباہلہ منا کر، یا شب اعلان ولایت علی منا کر، ہم دو ثبوت دے رہے ہیں۔ ایک تو اپنے حلالی ہونے کا، اور ایک تو اپنے ایمان والا ہونے کا (نارۂ حیدری یا علی یا علی، نارۂ حیدری یا علی یا علی نارۂ رسالت! یا رسول اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ حق ہے، سبحان اللہ)
(یوم مباہلہ و یوم اعلان ولادت مولائے کائنات مالکیاؤں: 8 ستمبر 2017ء)
جواب: سوالات مذکورہ میں درج باتیں اگر واقعی مقرر موصوف نے کہیں ہیں تو یقیناً وہ ازروئے شرع سخت مجرم ہے۔ اس پر توبہ تجدید نکاح تجدید بیعت لازم و ضروری ہے۔ ہم پہلے یہاں بالترتیب سوالات کے جوابات پیش کرتے ہیں اور پھر مقرر موصوف کی گمراہ کن عبارات کا شرعی حکم نقل کرتے ہیں، ملاحظہ کریں۔
1: حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اپنے دین کی تبلیغ کے لیے مبعوث فرمایا، نہ کہ حضرت علیؓ کی ولایت کے ڈنکے بجانے کے لیے۔ اس میں حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی سراسر توہین ہے۔ اس میں حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے مبعوث ہونے کے اصل مقصد کا انکار بھی لازم آ رہا ہے، اور اس میں بظاہر حضرات انبیاء کرام علیہم السلام پر حضرت علیؓ کی برتری بھی ثابت ہو رہی ہے۔ حالانکہ اہل سنت و الجماعت کا اس پر اجماع ہے کہ کسی غیر نبی کو نبی پر فضیلت دینا ہر گز ہرگز جائز نہیں، بلکہ کفر ہے۔
علاوہ ازیں یہ عقیدہ نظریہ اہل تشیع کا ہے۔ تحفہ اثنا عشریہ کے صفحہ نمبر 578 پر اہل تشیع کے ہفوات کے تحت چھٹا ہفوہ بیان کرتے ہوئے حضرت مولانا شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ فرماتے ہیں کہ:
ہفوہ چھٹا یہ کہ اللہ تعالیٰ جل شانہ نے تمام انبیاء اور رسولوں علیہم السلام کو حضرت علیؓ کی ولایت کے لیے بھیجا تھا، در پردہ تمام نبیوں کے ساتھ اور ظاہراً محمد مصطفیٰﷺ جو اس کا انکار کرے وہ کافر ہو جاتا ہے، ابن طاؤس اور دوسروں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ اس ہفوات کو بیان کرنے کے بعد ان ہفوات کا حکم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ تمام ہفوات تمام شریعتوں کے مخالف بنصوص قرآنیہ کی تکذیب کرنے والے اور کفر و زندیقیت کی جڑ اور بنیاد ہے۔
الغرض! مقرر موصوف کی تقریر کے مذکورہ الفاظ سے ظاہری طور پر انبیاء کرام علیہم السلام کی تنقیص نشان اور غیر نبی کا ان سے برتر و اعلیٰ اور افضل ہونا ثابت ہو رہا ہے۔ اور اس بات کے کفر ہونے میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے تو اس لحاظ سے مقرر موصوف پر شرعاً حکم کفر عائد ہوتا ہے۔
صفحہ 3 از 6