شیعہ کے پیچھے نماز پڑھنا اور ان کو مسلمانوں کے مساجد میں…

شیعہ کے پیچھے نماز پڑھنا اور ان کو مسلمانوں کے مساجد میں امام بنانا


سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ آج کل کے دور میں جو سب سے بڑی مشکل ہم جیسے عام ناواقف مسلمانوں کو در پیش ہے، وہ جہالت کی نماز ہے۔

جماعت کی اہمیت تو ہم کو معلوم ہے کہ بعض کے نزدیک واجب ہے اور اکثر علمائے عظام کے نزدیک سنت موکدہ ہے، جن کا تارک سخت گنہگار ہے، ہم یہ سب سمجھتے ہیں مگر مصیبت یہ ہے کہ جس مسجد میں بھی جاؤں وہاں کے امام و مسجد میں بعض ایسے شرعی نقص نکل آتے ہیں جن کے متعلق بزرگ علماء سے سنتے چلے آئے ہیں کہ یہ کام گناہ اور فسق ہے اور فاسق کے پیچھے نماز منع ہے، اس لیے ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھ کر دل مطمئن نہیں ہوتا، اس سے تو بہتر ہے کہ علیحدہ ہی نماز پڑھ لی جائے۔

لہٰذا آپ سے درخواست ہے کہ آج کل کسی امام کے پیچھے نماز ہوتی ہے اور کس کے پیچھے نہیں ہوتی؟ تاکہ سفر و حضر میں واقف و ناواقف شخص کے پیچھے نماز پڑھنے میں احتیاط کرتے ہوئے اپنی نماز بچائی جائے۔

جواب: آپ کا یہ سوال اور استفتاء اگرچہ مختصر ہے مگر انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اور یہ آپ کی خوش نصیبی ہے کہ آپ نے نماز کی اہمیت کو سمجھا ہے اور اس پر توجہ دی ہے ورنہ بہت سے معتبر قسم کے لوگ بھی اس بات پر تو نہیں کرتے اور ناقابل امامت شخص کے پیچھے بےدھڑک اقتداء کر لیتے ہیں اور اپنی نمازوں کو تباہ کر ڈالتے ہیں۔

خیال رہے کہ قانون شریعت کے مطابق تمام عبادات الہٰیہ میں روزِ اول سے صرف نماز ہی وہ عبادت ہے جو بےشمار پابندیوں اور قیود و شرائط کے ساتھ مضبوطی سے بندھی ہوئی ہے۔ نمازی سے لے کر جگہ، وقت سمت، یہاں تک کہ ہاتھ پاؤں بھی سب کچھ شرعی قوانین میں جکڑا ہوا ہے۔ جب بدن، جگہ، لباس وغیرہ میں اتنی شدید پابندیاں ہیں کہ ذرا سی کسی جگہ غلطی یا کمی رہے گی تو نماز سرے سے نہ ہوگی، تو بھلا امامت میں آزادی اور آزاد خیالی کس طرح ہو سکتی ہے؟ یہ کیسے ہو سکتا کہ ہر کس و ناکس کے پیچھے پڑھ لی جائے اور پھر خوش ہوتے پھریں کہ ہم نے نماز پڑھ لی۔

نماز کی اہمیت اس سے بڑی اور کیا ہوگی کہ اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اپنے مصلے کی شان و شوکت ظاہر فرمانے کے لیے خود اپنے ذاتی انتخاب سے اپنے محبوب محمد مصطفٰیﷺ کو بھیجا اور امامت نماز ان کے سپرد فرمائی اور اپنے بعد پیارے حضور اقدسﷺ نے مصلے کو خالی نہ چھوڑا بلکہ اپنے انتخاب سے مصلہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے سپرد فرمایا۔ یہ تو موجودہ دور میں ایک بیماری پیدا ہو گئی ہے کہ نماز اور اس کی امامت کو ہی عوام الناس مسلمانوں نے انتہائی غیر اہم سمجھ لیا ہے۔ سیاسی لیڈروں اور سیاست میں مشغول علماء کو بھی چاہیے کہ اپنے سیاسی اتحاد سے نماز کی اقتداء کو ایک دم علیحدہ رکھیں، بلکہ اتحاد کرتے وقت اس چیز کا تذکرہ علی الاعلان کر دیں کہ نماز خالصتاً اللہ تعالیٰ جل شانہ کی ہے اس لیے یہ اتحاد نماز کی اقتداء میں امامت کے لئے نہیں ہو سکتا، نماز ہم اپنے ہی ہم عقیدہ اور باشرع آدمی کے پیچھے پڑھیں گے۔

یہ ٹھیک ہے کہ نماز کی جماعت اتحاد المسلمین کا اعلیٰ نشان ہے مگر اس کے لیے صرف جسمانی اور زبانی اتحاد کافی نہیں بلکہ ہم عقیدہ قلبی اور شریعت کی پابندیوں کا اتحاد بھی ضروری ہے۔ سیاسی ضرورت بدلتی رہتی ہے مگر نماز اور اس کی شرعی پابندیاں تو الہٰی قانون ہے اس کی حفاظت تو ہر مسلمان کا عملی و شرعی فریضہ ہے۔ جس طرح کسی بےوضو کے پیچھے ہم نماز نہیں پڑھ سکتے اگرچہ جگری دوست یا سگا ہو، اسی طرح کسی بدعقیدہ کے پیچھے بھی ہم نماز نہیں پڑھ سکتے، اگرچہ اتحاد و یکجہتی کے وعدوں میں ہم نوالہ و ہم پیالہ ہو۔

اس تمہید کے بعد ہم تمام اہل سنت کیلئے اُن لوگوں کی مختصراً فہرست پیش کرتے ہیں جن کے پیچھے اہل سنت کے لیے نماز پڑھنا منع اور سنی مساجد میں ایسے لوگوں کو امام بنانا قطعاً ناجائز و نقصان دہ ہے۔

 اول: ہر قسم کے بدعقیدہ لوگوں کے پیچھے اہل سنت کی نماز پڑھنا منع ہے۔ مثلاً : شیعہ تبرائی، شیعہ تفصیلی اور اسماعیلی۔ بوہرہ فرقے والے، اثنا عشری پنجتنی الخ۔ (فتاویٰ نعیمیہ: جلد 3 صفحہ 422)