روافض سے مسجد کے لیے روپیہ لینا
سوال:اگر کوئی رافضی سنیوں کی مسجد میں اپنے روپے سے حوض میں پانی بھروائے یا تعمیر میں کوئی حصہ لیوے وغیرہ یہ جائز ہے یا نہیں؟ کہ سنیوں کی مسجد میں رافضی کے روپیہ سے حوض میں پانی بھروانا مسجد کی برجیوں پر کلکس چڑھوانا یا مسجد میں سپیدی کروانا، ازروئے شرع شریف جو حکم ہو آگاہ فرمائیں۔
جواب: روافض زمانہ کفار مرتدین ہیں اور کفار و مرتدین کو مسلمانوں کی مسجد سے کیا سروکار؟ قرآن کریم میں ہے: ماكان للمشركين ان يعمر وا مسجد الله شهدين على انفسهم بالكفر، اولںٔک حبطت اعمالهم وفى النار هم خلدون، انما يعمر مسجد الله من أمن بالله واليوم الآخر. تفسیرات احمدیہ میں ہے: قال صاحب المدارك وكذا القاضي الاجل اخذا من كلام صاحب الكشاف وعمارتها تتناول رم ماسرم منها وقيمها وتنظيفها وتنويرها بالمصابيح وصيانتها مما لم تبن له المساجد من احاديث الدنيا لانها بنيت للعبادة والمذكر و المراد من الذكر درس العلم انتهى كلامه، فعلم منه ان البناء الجديد ممنوع لهم بالطريق الأولى فان اراد کافران بنی مساجدا او يعمرها يمنع منه وهو المفهوم من النص وان لم يدل عليه رواية:
نزول آیت اگرچہ دربار مشرکین ہے مگر حکم مشرکین سے خاص نہیں، تمام کافرین کو عام ہے، اور کبھی مشرک کا ہر کافر پر اطلاق ہوتا ہے اور حدیث میں خود روافض پر مشرک کا اطلاق۔ پھر اس میں مسلمانوں کا مرتدین سے میل، ان کی طرف میل ظاہر ہے کہ بےاس کے ایسا نہ ہوتا اور مرتدین سے میل جول ان کی طرف ادنیٰ میل حرام ہے۔ اگر کسی نے روافض سے روپیہ لے کر صرف کر دیا تو اچھا نہ کیا۔ (فتاویٰ مصطفویہ: صفحہ 263)