مسجد خانہ خدا تعالیٰ اور عبادت الہٰی کا مقام ہے۔ جس کے لیے کوئی خاص شکل و صورت شرع کی جانب سے مقرر نہیں، بلکہ عمارت اور تعمیر بھی ضروری نہیں۔ خالی زمین کو اگر کسی نے مسجد قرار دے دیا تو وہ حصہ زمین ہمیشہ کے لیے مسجد ہو گیا، عمارت اس پر چاہے بھی نہ بنے۔ دنیا میں عام مسجدوں میں کعبہ شریف سب سے افضل اور برتر ہے، لیکن کسی مسجد بنانے والے نے دنیا کے کسی گوشہ میں مسجد بناتے وقت کعبہ شریف کی شکل اور نقل کو ملحوظ نہ رکھی۔ ہر علاقہ کے لوگوں نے اپنے ہی علاقہ کے طرز تعمیر پر مسجد کی عمارت بنائی۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ مسجد کی شریعت کی طرف سے کوئی متعین صورت مقرر نہیں کی گئی۔ تو مساجد میں کوئی مسجد کسی کی نقل نہیں ہے، ہر مسجد اپنی جگہ پر اصل ہے۔ جبکہ امام باڑہ نوحہ و ماتم خانہ ہے۔ اور تعزیہ روضہ حضرت حسینؓ کی شبیہ اور نقل ہے، جس کا اعتراف زید کو بھی ہے اور عام تاریخی روایتوں سے بھی یہی ثابت ہے۔
مولوی سید احمد دہلوی اپنی کتاب فرہنگ آصفیہ: میں تحریر فرماتے ہیں کہ: تعزیہ، ماتم پرستی حضرت حسنؓ و حضرت حسینؓ کی تربتوں کی نقل جو کاغذ اور بانس کے قبہ کے اندر محرم کے دنوں میں دس دن تک ان کا ماتم یا فاتحہ دلانے کے لیے بطورِ یادگار بناتے ہیں، یہ دستور صرف ہندوستان میں ہے۔ اس کی ابتداء اس طور پر ہوئی کہ تیمور گورگان اہل کوفہ کو قتل کرنے کے بعد کربلائے معلیٰ گیا، وہاں سے کچھ تبرکات ایک پالکی میں رکھ کر نہایت ادب کے ساتھ لایا، جب سے لوگ تعزیہ اسی طور سے بنانے اور اُٹھانے لگے۔ ایک بیان تیمور لنگ سے بھی متعلق ایسا ہی لکھا ہے۔ اور اخیر میں تحریر کیا کہ پس تعزیہ داروں نے بھی وہی ترکیب اختیار کی اور تبرکات کی جگہ دو قبریں سرخ و سبز بنا دیں۔ ہند کے علاوہ دوسرے علاقہ میں یہ دستور نہیں۔ پس مساجد کو مسجد نبوی کی نقل قرار دے کر تعزیہ کو اس پر قیاس کرنا کس قدر جہالت اور نادانی ہے۔ ہم اوپر بتا آئے کہ مساجد کسی عمارت کی نقل نہیں۔ پھر بھی اگر کوئی شخص کعبہ شریف یا مسجد نبویﷺ یا دیگر مقدس مقامات کا نقشہ تبرکاً اپنے گھر رکھنا چاہے، تو وہ ٹھیک انہیں مقامات کی واقعی شبیہ تیار کراتا ہے۔
تو روضہ حضرت حسین ؓکی واقعی شبیہ کی بجائے اناب شناب ہیولے تیار کرنا اور اس کو حضرت حسینؓ کا روضہ مان کر وہاں ایصالِ ثواب کرنا یا رسوم نوحہ ماتم اور اس کو اظہارِ غم کا ذریعہ مقرر کرنا پھر حوالہ میں مسجد نبوی شریف کا نام لینا کیسی عظیم جہالت، اور کتنا بڑا ظلم ہے۔
بلکہ ہمارا تو یہ کہنا ہے کہ اگر یہ بےمعنیٰ نہ ہوتے حضرت حسینؓ کی حقیقی نقل بھی ہوتے تو وہاں یہ مراسم تعزیہ ناجائز و حرام ہوتے کہ تجدید غم کا سوانگ رچنا حرام و ناجائز اور زیارت قبر بلامقبور حرام ہے۔ تو یہاں پر اصل و نقل کی یہ بحث ہی بلاضرورت ہے۔
اسی طرح یہ قول بھی بےبنیاد اور غلط ہے کہ جب سے تعزیہ کا رواج ہوا، بادشاہوں کے وقت تک کسی عالم و یا بادشاہ نے نہ اس کو روکا، نہ منع کیا۔ ہم مولوی سید احمد کے حوالہ سے تحریر کر آئے ہیں کہ اہل ہند کے علاوہ کسی اسلامی شہر میں اس کا رواج ہی نہیں تھا۔ تو ان بلاد اسلامیہ کے کسی عالم کو اس سے منع کرنے کی ضرورت کیا تھی؟ البتہ ہندوستان کے علماء اس کی ایجاد کے وقت سے اس کے ناجائز ہونے کا فتویٰ دیتے آئے ہیں اور عام مسلمانوں کو اس سے منع کرتے رہیں۔ اور محمد طاہر ہندی فتنی جو امام المحدثین کہے جاتے تھے اور عالمی شہرت کے مالک تھے، دسویں صدی ہجری کے بزرگ ہیں اپنی شہرہ آفاق تصنیف مجمع بحار الانوار میں فرماتے ہیں کہ ہر سال حضرت حسینؓ بن علیؓ کی یادگار تازہ کرنے کو علماء نے مکروہِ تحریمی فرمایا۔ ویسے بنیادی اسلامی شہروں میں اس کا نام ونشان بھی نہیں ہے۔
مشہور ترین عالم دین اور شیخ طریقت حضرت شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی رحمۃاللہ علیہ ہیں جنہوں نے فرقہ و شیعہ کے عقائد، مکائد، رسوم عواتد کی تردید میں رد روافض: تصنیف فرمایا: اپنے مکتوب میں جگہ جگہ ان کی تردید کی اور ان سے علیحدگی کی تلقین فرمائی۔ اپنے مکتوبات دفتر اول حصہ دوم میں تحریر فرماتے ہیں کہ: تمام بدعتی فرقوں میں بدترین وہ گروہ ہے جو حضور اکرمﷺ کے صحابہ کرامؓ سے بغض و عناد رکھتا ہے۔
مزید فرماتے ہیں کہ: آج کل اس بدخواہ گروہ نے بہت غلو کر رکھا ہے، اور ملک کے اطراف و جوار میں پھیل چکے ہیں۔ اسی بنا پر اس بارے میں چند کلمے لکھے گئے تاکہ آپ کی مجلس شریف میں اس قسم کے بدخواہ جگہ نہ پا سکیں۔ بارہویں صدی میں دارالسلطنت دلی کے مشہور خانوادہ علمی کے گل حضرت مولانا شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ کی ذات ستودہ صفات تھی جس نے شیعہ فرقہ کے رد میں ایک لاجواب کتاب: تحفہ اثنا عشریہ: لکھ کر اس گمراہ فرقہ کے منہ پر مہر لگائی۔ وہ اپنے فتاویٰ میں لکھتے ہیں کہ: ان سے کسی نے تعزیہ کے پاس شیرینی مالیدہ وغیر ہ لے جا کر ایصال ثواب کے لیے سوال کیا تو آپؒ نے منع فرمایا کہ فاتح اور درود ایسی جگہ پڑھنا چاہیے جو ظاہری اور باطنی نجاست سے پاک ہو۔
چار پانچ سو سال سے یہ ساری تحریر پورے ہندوستان میں گونج رہی ہے۔ آپ کے زید صاحب کسی غار میں روپوش رہے کہ نہ کسی تحریر کو دیکھا نہ کسی سے سنا۔ سچ فرمایا گیا کہ ایسے لوگوں کے دل ہی گونگے اور بہرے اور اندھے ہو جاتے ہیں۔ (فتاویٰ بحرالعلوم: جلد 4 صفحہ 393)