سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین ان مسائل میں کہ:
1: فرقہ شیعہ کب سے ہے اور یہ مسلمان ہے کہ نہیں؟ اور اعلیٰ حضرت نے کیا فتویٰ دیا ہے؟ اگر مسلمان نہیں ہیں تو کس بنیاد پر؟ اور زید کہتا ہے کہ اگر وہ سینہ کوبی کرتے ہیں تو محبت ہی کی بناء پر ان کے غم میں کرتے ہیں۔
2: زید کو تعزیہ پر منع کیا گیا اور بتایا گیا کہ آج تعزیہ کی اصل نہیں ہے اور اعلیٰ حضرت نے اس کو ناجائز و حرام فرمایا ہے۔ اس پر زید کہتا ہے کہ یہ تعزیہ تیمور بادشاہ کی ایجاد ہے اور اس کے بعد جتنے بھی بادشاہ ہوئے ہیں سب کے دور میں تعزیہ رہا اور اس وقت بھی عالم میں موجود ہے۔ لہٰذا کوئی ایسی عبارت دکھائیے جو بادشاہ کے وقت میں تعزیہ کو ناجائز و حرام کہا گیا ہو۔ اور پھر یہ کہنا کہ اصل نقشہ نہیں ہے اس لیے ناجائز و حرام ہے۔ تو پھر آج اصل وہ مسجد کہاں ہے جو حضور اکرمﷺ کے دور میں بنائی جاتی، آج تو چار چار مینار، اینٹ، ماربل وغیرہ ہے۔ اگر آپ کا یہ جواب ہے کہ اُس دور میں نہیں تھا اور آج ہے تو آج بنائی جاتی ہے تو پھر زید کہتا ہے کہ بس یہی جواب ہم دیں گے جو جواب تم دوں گے۔
لہٰذا آپ جناب سے مؤدبانہ عرض ہے کہ مفصل و مدلل جواب عنایت فرمائیں۔ اور سوال نمبر 1 میں جب جواب تحریر فرماۓ تو یہ بھی تحریر فرما دیں کہ شیعہ مسلمان جانے مسلمان ہو کر تو اُس کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے؟ تحریر فرمائیں تو یہ بھی تحریر فرما دیں۔
جواب: 1 حضرت علی المرتضیٰؓ کے عہدِ مبارک میں عبد اللہ ابن سبا یہودی نے جو بظاہر مسلمان بنا ہوا تھا۔ مسلمانوں میں یہ خیالات پھیلائے کہ حضور اکرمﷺ کی وفات کے بعد چند صحابہ کرامؓ کو چھوڑ کر سب صحابہ کرامؓ کافر و مرتد ہو گئے (معاذ اللہ)۔ اور اس نے یہ خیال بھی پھیلایا کہ حضرت علی خدا ہے (معاذ اللہ)۔
اُن میں سے کتنوں کو حضرت علیؓ نے قتل کر دیا، خود ابن سبا ملعون کو شہر بدر کر دیا۔ یہ ساری تفصیل حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کی کتاب: تحفہ اثنا عشریہ: میں ہے۔ اُن پر کفر و ارتداد کا فتویٰ اسی قسم کے عقائد پر ہے جو اوپر ذکر ہوئے۔
2: کسی کے غم میں سینہ کوبی نوحہ و ماتم اس لیے حرام ہے کہ حضور اکرمﷺ کی حدیث مبارک ہے: لیس منا من ضرب الخدود وشق الجيوب ودعا بدعوة الجاهلية:
جو چہروں پر طمانچے مارے اور گریبان پھاڑے اور جاہلیت والے بول بولے (نوحہ کرے) وہ ہم میں سے نہیں ہے۔