وہ بدمذہب جس کی بدمذہبی حدِ کفر کو پہنچ گئی ہو، جیسے رافضی اگرچہ وہ صرف سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی خلافت و یا صحبت سے انکار کرتا ہو، یا شیخینؓ کی شانِ اقدس میں تبرا کہتا ہو۔ قدری، جہمی، مشبہ اور وہ جو قر آن کریم کو مخلوق بتاتا ہے اور وہ جو شفاعت یا دیدارِ الہٰی یا عذابِ قبر یا کراماً کاتبین کا انکار کرتا ہے، ان کے پیچھے نماز نہیں ہو سکتی۔ اور جس بدمذہب و کی بدمذہبی حدِ کفر کو نہ پہنچی ہو، جیسے تفضیلیہ اس کے پیچھے نماز مکروہِ تحریمی ہے۔(بہار شریعت: جلد 1 صفحہ 562 حصہ سوم)