مناظر اہل السنت - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

مناظر اہل السنت

  مولانا عبدالستار تونسوی

1: اگر تحریف کی روایات ضعیف ہیں تو عدمِ تحریف کی صحیح اور واضح روایات کہاں ہیں؟

2: اگر مولوی مقبول کا ترجمہ ضعیف اور ناقابلِ اعتبار ہوتا تو شیعہ علماء اور مجتہدین کے یہ کلمات اور تقریظات کیوں لکھے ہوئے ہیں کہ کتابِ الٰہی کو اگر زبانِ اردو میں دیکھنا ہو تو مقبول ترجمہ دیکھیے اور سمجھیے اور یہ تفسیرِ اہلِ بیتؓ ہے کیا ان شیعہ مجتہدین سید کلبِ حسین مجتہد، سید محمد دہلوی، احمد علی لکھنؤی کا علم آپ سے کم تھا؟

3: جو چیزیں میں نے مقبول ترجمہ سے پیش کی ہیں وہ مولوی مقبول کی اپنی بات نہیں ہے، بلکہ ائمہ معصومین کے ایسے اقوال ہیں جو شیعہ کی معتبر ترین کتابوں سے منقول ہیں۔

4: اصولِ کافی کی روایتیں اگر ضعیف اور مجروح ہیں تو آپ کے امامِ غائب امام مہدی نے کس لیے فرمایا: هٰذَا كَافٍ لِّشِيْعَتِنَا۔ 

ترجمہ: ہمارے شیعوں کے لیے یہی کتاب کافی ہے۔

جس طرح کہ اصولِ کافی کے سر ورق پر ابتداءً مرقوم ہے۔

5: اگر یہ روایاتِ تحریف ضعیف ہوتیں تو آپ کے مشائخِ شیعہ کا اعتقادِ تحریف نہ ہوتا دیکھیے تفسیرِ صافی کے صفحہ 14 پر موجود ہے:  

وَاَمَّا اِعْتِقَادُ مَشَائخِنَا فِی ذٰلِكَ فَالظَّاهِرُ مِنْ ثِقَةِ الْاِسْلَامِ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوْبَ الْكُلَيْنِی اَنَّهُ كَانَ يَعْتَقِدُ التَّحْرِيْفَ وَ النُّقْصَانَ فِی الْقُرْآنِ۔ 

وَكَذٰلِكَ اُسْتَاذُهُ عَلِی بْنُ اِبْرَاهِيْمَ الْقُمِّی فَاِنَّ تَفْسِيْرَهُ مَمْلُؤٌ مِنْهُ وَ لَهُ غُلُوٌّ فِيْهِ۔  

وَكَذٰلِكَ الشَّيْخُ اَحْمَدُ بْنُ اَبی طَالِبٍ الطَّبَرْسِی فَاِنَّهُ اَيْضًا نَسَجَ عَلٰى مِنْوَالِهِمَا فِی الْاِحْتِجَاجِ۔ 

ترجمہ: ہمارے بزرگوں کا اعتقاد اس بارے میں یہ ہے کہ ثقۃ الاسلام محمد بن یعقوب کلینی قرآنِ مجید میں تحریف اور نقصان کے قائل تھے اور اسی طرح ان کے استاد علی بن ابراہیم قمی کہ ان کی تفسیر بھی ان باتوں سے بھری ہوئی ہے اور ان کو اس عقیدے میں غلو ہے اور اسی طرح شیخ احمد بن ابی طالب طبرسی کہ انہوں نے بھی کتابِ احتجاج میں انہی دونوں بزرگوں کے طرز پر چلے ہیں۔

غور کیجیے کہ اگر روایاتِ تحریف ضعیف ہوتیں تو آپ کے اتنے بڑے بڑے مشائخ ان روایات کو دیکھ کر تحریف کا عقیدہ کیوں رکھتے؟

6: عَنْ اَبِی جَعْفَرٍ قَالَ نَزَلَ جَبْرَئِيْلُ بِهٰذِهِ الْاٰيَةِ عَلٰى مُحَمَّدٍﷺ هٰكَذَا: فَبَدَّلَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا اٰلَ مُحَمَّدٍ حَقَّهُمْ قَوْلًا غَيْرَ الَّذِی قِيْلَ لَهُمْ فَأَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا اٰلَ مُحَمَّدٍ حَقَّهُمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ۔  

دیکھیے! موجودہ قرآن میں دونوں جگہ اٰلِ مُحَمَّدٍ حَقَّهُم کے الفاظ موجود نہیں ہیں سیدنا محمد باقرؒ کے نزدیک شیعہ مذہب کے مطابق تحریف ہو گئی یا نہیں؟

7: ترجمہ مقبول صفحہ 237: وَلَقَدْ عَهِدْنَا إِلَى آدَمَ مِنْ قَبْلُ كَلِمَاتٍ فِی مُحَمَّدٍ وَّ عَلِیٍّ وَّ فَاطِمَةَ وَ الْحَسَنِ وَ الْحُسَیْنِ وَ الْأَئِمَّةِ مِنْ ذُرِّیَّتِهِمْ فَنَسِیَ۔

سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا: واللہ! رسولِ خداﷺ پر یہ آیت اس طرح نازل ہوئی تھی۔  

غور کیجیے! موجودہ قرآن میں كَلِمَاتٍ فِی مُحَمَّدٍ وَ عَلِیٍّ وَ فَاطِمَةَ وغیرہ الفاظ موجود نہیں ہیں، بلکہ موجودہ قرآن میں آیت یوں ہے: 

وَلَـقَدۡ عَهِدۡنَاۤ اِلٰٓى اٰدَمَ مِنۡ قَبۡلُ فَنَسِىَ الخ۔(سورۃ طٰہ: آیت 115)

فرمائیے! تحریف ہوئی یا نہیں؟