جاہلی معاشرہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کا اخلاقی سرمایہ -…

جاہلی معاشرہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کا اخلاقی سرمایہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2
ایک شخص نے آپ سے پوچھا: کیا آپ نے جاہلیت میں کبھی شراب پی ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ’’اعوذ باللہ‘‘ (اللہ کی پناہ)۔ کہا گیا: کیوں؟ آپ نے فرمایا: میں اپنی عزت و مروت کی حفاظت کی خاطر اس سے دور رہا کیونکہ جو بھی شراب پیتا ہے وہ اپنی عزت ومروت کو ضائع کر دیتا ہے۔ (تاریخ الخلفاء للسیوطی: 49)
بت کو سجدہ نہیں کیا:
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کبھی کسی بت کو سجدہ نہیں کیا۔ آپ نے صحابہ کرام کے ایک مجمع میں فرمایا: میں نے کسی بت کو کبھی سجدہ نہیں کیا کیونکہ جب میں بلوغت کی عمر کو پہنچا تو میرے والد ابوقحافہ میرا ہاتھ پکڑ کر ایک بت خانہ میں لے گئے اور مجھ سے کہا: یہ اونچی شان والے تمہارے معبود ہیں اور وہاں مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔ میں بت سے قریب ہوا اور کہا: میں بھوکا ہوں مجھے کھانا کھلا دو، اس نے جواب نہ دیا۔ میں نے کہا: میں ننگا ہوں مجھے لباس پہنا دو، اس نے جواب نہ دیا۔میں نے ایک پتھر اٹھا کر مارا تو وہ منہ کے بل گر پڑا۔ اس طرح آپ کی روشن عقل اور فطرت سلیمہ اور اخلاق حمیدہ نے آپ کو جاہلوں کے افعال میں سے ہر اس فعل سے بچائے رکھا جو اعلیٰ اخلاق کے منافی ہو اور شرافت کو ختم کرتا ہو اور ان تمام اخلاق وعادات سے دور رکھا جو فطرت سلیمہ، عقل راجح اور سچی مردانگی کے منافی تھیں۔ (اصحاب الرسول، محمود المصری: جلد، 1 صفحہ، 58 ، الخلفاء: محمود شاکر، 31) اور جس شخص کے اخلاق وکردار کا یہ عالم ہو، دعوت حق کے حاملین میں اس کی شمولیت اور ان کے صف اوّل میں ہونے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد افضل ترین ہونے پر کوئی تعجب نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
خیارکم فی الجاہلیۃ خیارکم فی الاسلام اذا فقہوا (تاریخ الدعوۃ فی عہد الخلفاء الراشدین: 43)
’’تم میں جو جاہلیت میں بہتر تھے وہ حالت اسلام میں بھی بہتر ہیں، بشرطیکہ اسلام کی صحیح سمجھ آ جائے۔‘‘
استاد رفیع العظم دور جاہلیت میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زندگی پر گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’الہٰی ایسا شخص جو بتوں کے درمیان بغیر کسی دین وشریعت کے نشوونما پایا ہو، اس کے اخلاق، فضائل کا یہ عالم ہو اور عفت و مروت کو اس درجہ تھامے رکھا ہو…… ایسا شخص یقینا اس قابل ہے کہ وہ اسلام کو دل کی گہرائیوں سے قبول کرے، ہادی برحق پر سب سے پہلے ایمان لانے والا، اہل کبر وعناد کی ناکوں کو اسلام کی طرف سبقت کر کے خاک آلود کرنے والا اور اللہ کے سیدھے دین کی طرف ہدایت کی راہ ہموار کرنے والا بنے اور اس کے نقش قدم پر چل کر ہدایت قبول کرنے والوں کے دلوں سے رذائل اور برے اخلاق کی جڑوں کو اکھاڑ پھینکے۔‘‘ (اشہر مشاہیر الاسلام: جلد، 1 صفحہ، 12)
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اللہ نے کس قدر عالی مقام عطا فرمایا تھا کہ اسلام سے قبل قریشی معاشرہ میں بلند انسانی قدروں، اخلاق حمیدہ، عادات کریمانہ کا اتنا بڑا سرمایہ رکھتے تھے۔ اہل مکہ نے انسانی قدروں اور اخلاق میں دوسرے لوگوں پر سبقت رکھنے کے سلسلہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حق میں شہادت دی، قریش میں ایسا کوئی نظر نہیں آتا کہ جس نے آپ پر عیب لگایا ہو یا آپ کی تنقیص اور تذلیل کی ہو جیسا کہ کمزور مسلمانوں کے ساتھ ان کا وتیرہ تھا۔ ان کے نزدیک آپ کے اندر صرف یہی خامی تھی کہ آپ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتے تھے۔
(منہاج السنۃ النبویۃلابن تیمیۃ: جلد، 4 صفحہ، 288 اور 289، بحوالہ ابوبکر الصدیق افضل الصحابۃ واحقہم بالخلافۃ لمحمد عبدالرحمن قاسم: صفحہ، 18 اور 19)

صفحہ 2 از 2