سیدنا حضرت صدیق اکبرؓ پر سیدنا حضرت على المرتضىٰؓ کو فضیلت…

سیدنا حضرت صدیق اکبرؓ پر سیدنا حضرت على المرتضىٰؓ کو فضیلت دینے والے کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم


سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ:

1: حضور اکرمﷺ کے بعد تمام صحابہ کرامؓ و تمام اولاد و امجاد جس میں حضرت سیدہ فاطمہؓ اور حضور اکرمﷺ کے صاحبزادگان حضرت قاسمؓ و حضرت عبداللهؓ و حضرت ابراہیمؓ و تمام امہات المؤمنینؓ اور حضرت حسنؓ و حضرت و حسینؓ اور سب امام و حضرت علیؓ بھی داخل ہیں کسی کا مرتبہ سب سے زیادہ ہیں؟

جو شخص حضرت علیؓ و اولاد و امجاد حضرت محمدﷺ کو حضرت سیدنا صدیقِ اکبرؓ پر فضیلت دے اس کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب 1: حضرات انبیاء کرام و مرسلین علیہم السلام کے بعد سب سے افضل سیدنا حضرت صدیقِ اکبرؓ ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں حضرت عمرو بن العاصؓ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریمﷺ سے عرض کی: ای والمناس احب الیک: سب لوگوں میں حضورﷺ کے نزدیک محبوب تر کون ہے؟ قال: عائشہ فرمایا: عائشہ۔ قلت من الرجال: میں نے عرض کی مردوں میں کون؟ قال ابوها فرمایا: ان کے والد یعنی حضرت ابوبکر صدیقؓ۔ 

صحیح بخاری شریف میں محمد بن الحنفیہؒ سے مروی ہے کہتے ہیں قلت لا بى اى الناس خير بعد النبيﷺ قال ابوبكر قلت ثم من قال عمر: میں نے اپنے والد حضرت علیؓ سے عرض کی کہ رسول اللہﷺ کے بعد سب آدمیوں میں بہتر کون ہے؟ انہوں نے فرمایا ابوبکر، میں نے کہا پھر کون؟ فرمایا کہ عمرؓ۔

ترمذی شریف میں سیدنا حضرت فاروق اعظمؓ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں: ابوبکر سیدنا و خیرنا و احبنا الى رسول الله: ابوبکر ہمارے سردار ہیں اور ہم میں سب سے افضل اور رسول اللہﷺ کے نزدیک ہم سب سے زیادہ محبوب ہے۔

2: یہ شخص بدمذہب گمراہ ہے، اس کے پیچھے نماز مکروہِ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پڑھی ہو تو پھیرنی واجب ہے۔

فتاوىٰ خلاصہ وخزانۃ المفتيين: میں ہے: الرافضي ان فضل علياً على غيره فمبتدع ولو انكر خلافة الصديق فهو كافر: (فتاوىٰ امجدیہ: جلد 4 صفحہ 328)