علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی کا فتوىٰ - فتاویٰ جات | دفاع…

علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی کا فتوىٰ


شيعہ مرتدين ہیں،وہ مسجد کے متولی نہیں بن سکتے

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ایک مسجد خام جس کو قریب سو برس کے گزرتا ہے موجود ہے۔ اس کے متولی ہمیشہ سے اہل سنت والجماعت رہے اور ہیں لیکن درمیان میں ایک بیوہ مسماۃ نصیبا بیگم جو کہ مذہب شیعہ رکھتی ہے اپنے ثواب کے لیے اس مسجد خام کو پختہ بنوا دیا، بعد چند روز کے بعد دعویٰ کرتی ہے کہ میں نے بنوایا ہے اس لیے میں متولی ہوں۔ اہل سنت والجماعت کہتے ہیں کہ تم نے ثواب کیلئے بنوایا ہے۔ اہل سنت و الجماعت کے مسجد کی متوالیہ نہیں ہو سکتی، کیونکہ تو مذہب شیعہ رکھتی ہے۔ پس شرعاً کیا حکم ہے؟

جواب: یہ مسجد سنیوں کی ہے اور سنی ہی اس کے متولی ہو سکتے ہیں، یہ عورت رافضیہ جس نے اس کو پختہ کرایا ہرگز اس کی متولیہ نہیں ہو سکتی کہ اولاً مسجد بنانے والا کوئی اور ہے جس نے بنائی وہی واقف ہیں۔ حق تولیت اس کو تھا، وہ نہیں ہے تو عام مسلمان سنی جس کو متولی بنائیں۔

بحرالرائق میں ہے: الولاية للواقف ثابتة مدة حياته وان لم يشترطها وان له عزل المتولى: 

رد المحتار میں فتاویٰ تاتار خانیہ سے ہے: اهل المسجد لو اتفقوا على نصب رجل متولياً لمصالح المسجد فعند المتقدمين يصح ولكن الافضل كونه باذن القاضي ثم. اتفق المتأخرون ان الافضل ان لا يعلم القاضي في زماننا لما عرف من طمع القضاة في اموال الراقاف:

ثانیا اگر عورت متولیہ ہو گی تو یہ مسجد سنیوں کے ہاتھ سے جاتی رہے گی، وہ اپنے مذہب کے لوگوں کو اس میں رکھے گی اور یہ سنیوں کے لیے سخت مضر ہے اور اس سے بڑھ کر کیا خیانت ہو گی، اور خائن کو متولی نہیں کیا جا سکتا بلکہ اگر خود واقف بھی خائن ثابت ہو تو اسے معزول کر دیں گے۔

در مختار میں ہے: ينزع وجوب الوالواقف فغيره بالاولى غير مامون او عاجز او ظهر به فسق کشرب خمر و نحوه

رد المحتار: میں ہے: وکذا اذا اجرها الواقف سنين كثيرة فمن يخاف ان يتلف في يده يبطل القاضي الاجارة ويخرجها من يد المستاجر فاذا كان هذا في الواقف فالمتولى اولی: 

ثالثاً جب فسق عملی کی وجہ سے متولی نہیں بنایا جا سکتا كما مرعن الدر المختار: تو یہاں تو فسق اعتقادی ہے کہ یہ اس سے بدرجہا بدتر بلکہ روافض زمانہ کی علماء نے تکفیر کی ہے جیسا کہ شیخ مجددؒ نے: رد الرافضہ: میں متعدد کتب فقیہہ کی تصریحات اور ائمہ ترجیح و فتاویٰ کی تصحیحات سے ثابت فرمایا ہے کہ: وہ رافضی تبرائی جو حضرات شیخین سیدنا صدیقِ اکبرؓ و سیدنا فاروق اعظمؓ خواہ ان میں ایک کی شان پاک میں گستاخی کرے اگرچہ صرف اس قدر کہ انہیں امام و خلیفہ برحق نہ مانے ایسے رافضیوں تبرائیوں کے باب میں حکم یقینی قطعی اجتماعی یہ ہے کہ وہ علی العموم کفار مرتدین ہیں۔

ان کو کیسے وقف کا متولی کہا جائے اور وہ بھی مسجد کا ؟ بالجملہ اس مسجد کے متولی سنی ہی رہیں گے، وہ عورت ہرگز نہ متولی کی جائے۔ (فتاویٰ امجدیہ: جلد 3 صفحہ 112)