سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین درج ذیل مسائل کے بارے میں کہ: زید جو حنفی سنی مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہے سنی مسلمانوں کے مجمع میں اپنے مندرجہ ذیل عقائد کا اعلان کرتا ہے، اس استحکام کے ساتھ کہ اگر مارتے مارتے مار بھی ڈالا جائے تو عقائد نہ بدلوں گا:
1: حضور اکرمﷺ کے خلیفہ اول حضرت علیؓ تھے اور آخر خلیفہ حضرت حسنؓ، ان کے علاوہ کوئی خلیفہ حق نہیں، خلفائے ثلاثہؓ ہرگز خلیفہ نہیں۔ (معاذ اللہ)
2: حضور اکرمﷺ کا جنازہ پڑا ہوا تھا اور اصحاب مع خلفائے ثلاثہؓ حضرت علیؓ کے گھر کے کواڑ توڑ کر اندر گھس گئے، کواڑ توڑ کی شدت میں خاتونِ جنت کا حمل ساقط ہو گیا تھا۔ یہ تھے اصحاب۔ نیز اصحاب نے خاتونِ جنت کے مکان میں آگ لگادی تھی۔ (معاذ اللہ)
3: حضور اکرمﷺ کے بعد سب سے افضل درجہ اہلِ بیتؓ کا ہے صحابہؓ کا دوسرا درجہ ہے۔
4: حضرت امیر حمزہؓ و سید الشہداء نہیں ہیں، ان کے سید الشہداء ہونے کا کوئی ثبوت نہیں بلکہ حضرت حسینؓ سید الشهدا ہیں۔
5: زید مذکور سلسلہ قادریہ میں بیعت ہے۔
6: زید مذکور کا دعویٰ ہے کہ ایک دوسرے مرشد سے وہ چاروں سلاسل میں خلافت بھی حاصل کر چکا ہے۔
7: زید مذکور میلا دشریف پڑھتا ہے اور بزعم خود تبلیغ کا بڑا شائق ہے، ہر جگہ کوشش کرتا ہے کہ اس کو تبلیغ کا موقع دیا جائے۔
براہِ کرم بحوالہ قرآن و حدیث شریف فتویٰ صادر فرمایا جائیں کہ:
1: کیا زید مذکور کی بیعت سلسلہ قادریہ طیبہ میں قائم رہی اور فسخ نہ ہوئی؟
2: کیا زید مذکور کی خلافت اربعہ سلاسل میں قائم رہی اور فسخ نہ ہوئی؟
3: کیا زید مذکور کو حنفی سنی مسلمانان کے مجمع میں میلاد شریف پڑھنے اور تبلیغ کرنے کا حق ہے؟
4: کیا زید مذکور کو ان جملہ حقوق سے محروم نہ کیا جائے اور شدت کے ساتھ نہ روکا جائے؟
5: کیا زید مذکور سے قطع تعلق کرنا ضروری نہیں؟
6: کیا زید مذکور سے تعلقاتِ اسلامیہ رکھنے والا گنہگار نہیں؟
نوٹ: زید مذکور کا یہ بھی بیان ہے کہ حضور اکرمﷺ نے بوقتِ وصال ارشاد فرمایا تھا کہ قلم دوات لاؤ تاکہ میں ایک وصیت لکھ دوں جس سے آئندہ تمہارے درمیان نفاق باقی نہ ر ہے۔
اس سے زید کا منشا یہ ہے حضور اکرمﷺ حضرت علیؓ کو خلیفہ اول مقرر کرنا چاہتے تھے لیکن جان نثاران رسالت نے یہ عرض کیا کہ ہم کو کسی وصیت کی ضرورت نہیں ہم سب کے لیے کتاب اللہ کافی وافی ہے (معاذاللہ)۔
جواب: 2-1 :زید مذکور اپنے عقائد مندرجہ فی السوال کی بنا پر ہرگز ہرگز حنفی سنی مسلمان نہیں بلکہ کھلا ہوا تبرائی رافضی کافر مرتد ہے، اس کے عقیدے نمبر ایک پر ہی نرد المحتار میں تصریح فرمائی: وان انكر خلافة الصديقؓ و عمرؓ فهو كافر: اگر سیدنا صدیقِ اکبرؓ اور سیدنا فاروقِ اعظمؓ کی خلافت کا انکار کیا تو وہ کافر ہے۔
تو جب زید کا کافر ہونا ثابت ہو چکا تو خود اس کی سلسلہ قادریہ کی بیعت اور سلاسل اربعہ کی خلافت فسخ اور قطع ہو گئی تو یہ نہ کسی کو بیعت کر سکتا ہے، نہ کسی کو اس کی بیعت کرنی جائز۔
3: زید مذکور مسلمانوں کے کسی مجمع میں نہ میلاد شریف پڑھ سکتا ہے نہ ان عقائد کی تبلیغ کر سکتا ہے، کیونکہ ان میں اس کی تعظیم لازم آتی ہے: و قد وجب اهانته شرعاً:
6-4: زید مذکور کا جب کفر ثابت ہو چکا تو اس سے قطع تعلقات اسلامی ضروری ہے۔ مسلم شریف کی حدیث ہے جو حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا:
يكون في آخر الزمان دجالون كذابون يأتونكم من الاحاديث بمالم تسمعوا انتم ولا أباء كم فاياكم واياهم لا يضلونكم ولا يفتنونكم
ترجمہ:آخر زمانہ میں ایسے فریبی اور جھوٹے ہوں گے جو تمہارے پاس ایسی باتیں لائیں گے جن کو نہ تم نے سنا نہ تمہارے باپ دادا نے تو تم اپنے آپ کو اُن سے بچاؤ اور انہیں اپنے سے بچاؤ، کہ وہ تمہیں گمراہ نہ کر دیں اور فتنہ میں نہ ڈال دیں۔
دوسری حدیث شریف میں ہے جس کو عقیلی نے حضرت انسؓ سے روایت کی ہے کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا:
عن انس ان الله اختارني و اختار لی اصحابا و اصها راو را صهارا و سيأتى قوم يسبونهم وينقصونهم فلا تجالسوهم ولا تشار بوهم ولا تؤاكلوهم ولا تناكحوهم:
ترجمہ: یعنی بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھ کو منتخب کیا اور میرے لئے اصحاب خویش و اقارب منتخب کئے اور عنقریب ایک قوم آئے گی جو انہیں گالیاں دے گی اور ان کی تنقیص شان کرے گی، پس تم ان کے پاس مت بیٹھو، اور ان کے یہاں مت کھاؤ پیو، اور ان کے ساتھ مت نکاح کرو۔
ان احادیث سے ثابت ہو گیا کہ جو شخص حضرات صحابہ کرامؓ کو گالیاں دے یا ان کی تنقیص شان بیان کرے یا ان پر افترا کرے یا ان پر جھوٹا الزام لگائے یا ان کے لیے خلاف واقعہ باتیں گڑھ کر مسلمانوں کو فریب دے۔ اس سے قطع تعلق کا اسلامی حکم خود حضور اکرمﷺ نے دیا ہے۔
زید کے ان اقوال میں صحابہ کرامؓ کو گالیاں بھی ہیں، ان کی تنقیص شان بھی ہے۔ ان پر افترا بھی ہے۔ ان پر جھوٹے الزام بھی ہیں تو زید سے قطع تعلق کا حکم حدیث شریف سے ہی ثابت ہو گیا۔
لہٰذا اس زید سے سلام و کلام کرنا، اس کی عزت و عظمت کرنا، اس کا وعظ و تبلیغ سننا، اس کے ساتھ کھانا پینا، اس سے نکاح کرنا، اس سے بیعت کرنا، اس کے پیچھے نماز پڑھنا اور تعلقات اسلامی بر تناسب ناجائز و حرام ہیں۔ اور جو اس سے تعلقات باقی رکھے گا وہ گنہگار اور مرتکب حرام ہے۔ (فتاویٰ اجملیہ: جلد 1 صفحہ 298)