مولانا سعيد احمد جلال پوری شہید رحمۃاللہ علیہ کا فتویٰ -…

مولانا سعيد احمد جلال پوری شہید رحمۃاللہ علیہ کا فتویٰ


رافضی کافر ہیں اور ان کی امامت کا حکم

سوال: رافضیہ بلا تفضیلیہ کافر ہیں یا نہیں؟ نماز میں ان کی اقتداء اور ان سے سلام مصافحہ کرنا روا ہے یا نہیں؟

ان کی ورثہ مسلم کو یا مسلم کی وراثت ان کو پہنچتی ہے یا نہیں؟ اور مسلم عورت کو ان کے ساتھ نکاح جائز ہے یا نہیں؟ اگر مسلمان عورت کا خاوند ان فرقوں میں داخل ہو جائے مذہب اہل سنت والجماعت بدل لیوے تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟ بلا طلاق وہ دوسری جگہ نکاح لے سکتی ہے یا نہیں؟

جواب: رافضیہ میں سے غالی قطعاً کافر ہیں، جو حضرت ابوبکرؓ وغیرہم کو مرتد کہتے ہیں۔ اور زیدیہ کافر ہیں، جن کا عقیدہ ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کی امامت خطا نہیں ہے مگر حضرت علیؓ افضل ہے۔ اور حضرت عثمانؓ کے بارے میں ساکت ہیں، نہ اچھا کہتے ہو، نہ برا۔ رہا ان لوگوں سے میل ملاپ تو یہ بالکل ناجائز ہے۔

ابنِ كثير جلد دوم صفحہ 210 میں مسند احمد وغیرہ سے یہ حدیث ذکر کی ہے کہ جب تم متشابہ آیتوں کے پیچھے جانے والوں کو دیکھو تو ان سے بچو۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ان لوگوں سے ناطہ رشتہ وغیرہ کرنا اور ایسے میل ملاپ رکھنا یا نماز میں امام بنانا اس قسم کا تعلق کوئی بھی جائز نہیں، بلکہ جو ان میں سے کافر ہیں اگر اتفاقی طور پر ان کے پیچھے نماز پڑھ لی جائے یا غلطی سے ان کے ساتھ نکاح کا تعلق ہو گیا تو نماز بھی صحیح نہیں اور نکاح بھی صحیح نہیں نماز کا اعادہ کرنا چاہیے، بلکہ اگر نکاح پڑھا ہوا ہو اور بعد میں ایسی بدعت کے مرتکب ہوئے جو حدِ کفر کو پہنچ گئی تو بھی نکاح خودبخو د فسخ ہو جاتا ہے، طلاق کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ جل شانہ فرماتے ہیں: وَلاَ تَنْکِحُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَتّٰى يُؤْمِنُوا بين مشرک مردوں کو نکاح نہ دو۔ اور دوسری جگہ ہے: وَلاَ تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ کافر عورتوں کے ساتھ نکاح مت رکھو، اگر اسی حالت میں مر جائیں مسلمان ان کے وارث نہیں اور یہ مسلمانوں کے وارث نہیں۔ (فتاویٰ ختم نبوت: جلد 1 صفحہ 105)