ابتداء شیعت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ابتداء شیعت

  توقیر احمد

صفحہ 9 از 12

 تفسیر الآصفی ج 1/179

 العیاشی ج1/198

 الکافی ج2/288

 البیضاوی ج2/43

 مجمع البیان ج1/500۔501

 تفسیر نورالثقلین ج1/288

 کنز الدقائق ج2/222

اس کے علاوہ اسی معنی کی روایات

 البرھان فی تفسیر القران ج1 /314 

 مستدرک سفینة البحار ج1/324

 تاویل آیت الظاہرہ ج1/199 ۔362

 تاویل مانزل من القران فی النبی وآلہ ج14/7

 غایة المرام وحجِةالخصام ج4/13

 تاویل الآیات ج2/235

 اصلا یہ دعوے خلافت وامامت بلافصل کے ہیں لیکن بعض لوگ اسی کو ابتداء شیعت سمجھتے ہیں تو اسی لیے مختصرا ہم نے ان کو زکر کر دیا ہے 

شیعت کی پیدائش کا چوتھا دعوی

بعض لوگ شیعہ مذہب کے ظہور کی ابتدائی تاریخ یوم الجمل کو بتاتے ہیں محمد بن اسحاق بن محمدبن ابی یعقوب الندیم  کہتا ہے 

"علی نے طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم سے لڑائی کرنے کا قصد کیاحتی کہ وہ دونوں امر الہی کی طرف لوٹ آئے تو اس وقت علی نے اپنے ساتھ آنے والوں کا نام شیعہ رکھا اور انہیں اپنا شیعہ کہا تھا آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے اس کے علاوہ ان کے اور نام الاصفیاء ۔الاولیاء ۔شرطۃ الخمیس اور الاصحاب بھی رکھے تھے 

 ابن ندیم الفہرست صفحہ 175 

 بطلان دعوی 

١۔ ۔۔بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ شیعہ لفظ کے لغوی معنی اتباع انصار اور علی رضی اللہ عنہ کے معاونین و متبعین پر لفظ شیعہ کے اطلاق کی ابتدائی تاریخ کا تذکرہ کر رہا ہے نیز یہ کہ علی رضی اللہ عنہ نے ہی انہیں اپنا شیعہ کہہ کر اس لقب سے ملقب  کیا تھالیکن اس دعوے سے شیعہ مذہب کے فکری و نظریاتی اصولوں کے آغاز سے متعلق کوئی رہنمائی نہیں ملتی کیونکہ یہاں انہوں نے شیعہ کو اس کے لغوی معنی انصار و معاونین میں استعمال کیا ہے اس لیے اس کے ساتھیوں کے لیے دیگر القاب اصحاب اور اولیاء وغیرہ بھی استعمال کیے جو اس معنی پر دلالت کرتے ہیں جبکہ تاریخی منابع اس طرف دلالت کرتے ہیں کہ شیعہ لقب جیسےعلی رضی اللہ عنہ نے استعمال کیا تھا ویسے ہی معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی اپنے اتباع کے حق میں یہ لفظ بولا تھا 

ایک معاصر شیعہ عالم ڈاکٹر مصطفی کامل شیبی ابن الندیم کی اس رائے کو علی رضی اللہ عنہ نے بذات خود اپنے ساتھیوں کے لیے شیعہ لفظ استعمال کیا تھا تعجب خیز قرار دیتے ہیں 

 الصلة بین التصوف والتشیع  ص 18

اسی طرح ایک اور شیعہ عالم ڈاکٹر نشار ابن تیم کے کلام میں قدرے غلو کی آمیزش بتاتے ہیں 

 نشاةالفکر الفلسفی ص 2/32

 ابتداء شیعت میں غیر شیعہ لوگوں کی آرا

 پہلا قول۔۔

 شیعہ مذہب وفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ظہور پذیر ہوا جب کچھ لوگوں نے حضرت علیؓ کو امامت و خلافت کا سب سے زیادہ حقدار خیال کیا 

 العبر ص170۔171

 فجر الاسلام ص 622

 ضحی الاسلام ص 3/209

 الاسلام والخلافة ص 62

 تاریخ الجمیعات السریة ص 13

 (مستشرقین) دائرة المعارف الاسلامیہ ص 58

تبصرہ ۔۔

اس رائے کے قائلین کی دلیل یہ ہے کہ وفات نبوی کے بعد یہ رائے موجود تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابتدار امامت و خلافت کے زیادہ حقدار ہیں اگر اس وقت یہ رائے موجود تھی کہ علی رضی اللہ عنہ قرابتدار امامت و خلافت کا زیادہ حق رکھتے ہیں تو اسی عہد میں یہ رائے بھی موجود تھی کے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نامزد کیا جائے اور امامت وخلافت انصار میں ہونی چاہیے

اس لیے یہ اختلاف کسی معین جماعت یا مخصوص فرقہ کے معرض وجود میں آنے پر دلالت نہیں کرتا کیونکہ اختلاف ایک فطری چیز ہے جو اسلام کے شورائی نظام کا ایک اہم تقاضہ ہے وہ لوگ ایک ہی مجلس میں اکھٹے تھے جہاں ان میں باہم دیگر اراکین کا اختلاف ہوا اور وہاں سے جدا ہونے سے پہلے پہلے ان کا اتفاق ہو گیا ایسی صورتحال کو قطعا نزاع شمار نہیں کیا جاتا 

 منہاج السنہ جلد 1 صفحہ 36 

 صحابہ کرام ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کی اطاعت گزاری میں داخل ہوگئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی ان کی اطاعت کرنے والوں میں شامل تھے آپ رضی اللہ عنہ نے تمام لوگوں کے سامنے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی اور بنو حنیفہ سے جہاد کرنے کے لئے نکلے وہ اسی الفت اور اتفاق کے ساتھ اپنے ائمہ و خلفاء کے اطاعت میں اپنی جانوں اور بہترین اموال کی قربانیاں دیتے رہےجیسے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا کرتے تھے 

 الارشاد صفحہ 428 

 مسائل الامامة صفحہ 15 

اگر اس رائے کا وجود کہ قرابت دارہی خلافت کے زیادہ حقدار ہیں شیعہ مذہب کی بنیاد رکھنے کے مترادف ہے تو ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں بھی ضرور بلضرور  اس مذہب کا ظہور اور موجود ہونا چاہیے تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ جس طرح سقیفہ کے اجتماع میں دیگر آراءکا اظہار کیا گیا وہیں بفرض ضرورت یہ رائے بھی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتے دار خلافت کا زیادہ حق رکھتے ہیں لیکن جب بیعت ہوئی اور سب کا اس پر اتفاق ہوگیا تو فورا ہی دیگر آراکی طرح یہ رائے بھی ختم ہوگئی سب ایک ہی رائے پر متفق ہوگئے مزید برآں امیرالمومنین رضی اللہ عنہ کا اپنا کردار بھی صحابہ کرام کے درمیان ایسی رائے کے استمرار یا اس کے دوام کی نفی کرتا ہے کیونکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بہت زیادہ طرق سے مروی ہے کہ انہوں نے کوفہ میں ممبر پر کھڑے ہوکر ارشاد فرمایا تھا 

 "خیر ھذہ الامة بعد نبیھا ابوبکر ثم عمر" 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت کی بہترین شخصیت ابوبکر پھر عمر ہیں 

امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ بات علی رضی اللہ عنہ سے 80 یا اس سے بھی زیادہ طرق سے مروی ہے۔ 

 صحیح بخاری مع فتح الباری جلد 7 صفحہ 20 

 الفتاوی جلد 4 صفحہ  407

 منہاج السنہ جلد 4 صفحہ 137۔ 131

لہذا دیگر صحابہ کرام کے بارے میں ایسی رائے کس طرح قائم کرسکتے ہیں جو خود ان کی اپنے بارے میں نہیں تھی اسی بنا پر جب ابوبکر عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے زمانے میں شیعہ کا کوئی تذکرہ اور وجود تک نہیں تھا تو یہ کہنا کس طرح درست ہے کہ یہ فرقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد معرض وجود میں آیا اسی بنا پر شیعہ علماء نے بھی اس حقیقت کا اقرار کیاہے جیسا کہ گزر چکا ہے 

صفحہ 9 از 12