ابتداء شیعت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ابتداء شیعت

  توقیر احمد

صفحہ 8 از 12

 محمد حسین آل کاشف الغطاء کہتا ہے شیعہ اور شیعت کے لیے عہدابوبکر و عمر رضی اللہ عنہمامیں ظاہر ہونے کے قطعا کوئی گنجائش نہیں تھی کیوں کہ اس وقت اسلام اپنے مضبوط اصول و مناہج کے مطابق رواں دواں تھا 

اصل الشیعة واصولھا صفحہ 48

 اسی طرح ایک اور شیعہ عالم محمد حسین املی اعتراف کرتا ہے 

جب خلافت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سپرد ہوئی تو لفظ شیعہ بے معنی ہو کر رہ گیا اور خلیفہ ثالث کے آخری ایام تک تمام مسلمان ایک ہی جماعت بنے رہے 

 الشیعة فی التاریخ صفحہ 39 40 

 جبکہ ہم نے ماقبل میں ثابت کیا ہے کہ  عہد رسالت میں ایسے کسی فرقے کا وجود ہی نہیں تھا 

اگر اس دعوے کو تسلیم کیا جاتا ہے تو حضور علیہ صلاۃ و سلام کی قرآنی آیات کی نافرمانی ثابت آتی ہے

جبکہ تفرقہ بازی کے بارے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے خود فرامین موجود ہیں تو یہ دعوی ہی باطل ہے 

٣ ۔۔۔ان لوگوں کا دعویٰ ہے کہ شیعہ مذہب عمار بن یاسر ابوذر اور مقداد رضی اللہ عنہم کے مجموعہ کا نام تھا تو کیا یہ لوگ دعوی وصیت ابوبکر و عمر اور اکثر صحابہ کی تکفیر یا ان سے اظہار برات اور انہیں سب و شتم کرنا یا ان سے نفرت کرنا وغیرہ جیسے شیعہ عقائد کے قائل تھے ؟؟؟؟؟؟قطعا نہیں ایسی کسی بات کا کوئی وجود نہیں شیعہ نے ایسے جتنے بھی دعوے کیے اور ان سے اپنی کتابوں کے اوراق سیاہ کیے ہیں وہ صرف ان کے اوہام و وساوس ہیں جنہیں اعدائے دین اور حاسدین اسلام کی خواہشات نے تراشا ہے 

مثلا۔ ۔۔۔رجال الکشی ص 133

زبیر مقداد اور سلمان رضی اللہ عنہم نے ابوبکر سے قتال کرنے کے لئے اپنے سروں کو منڈھوا لیا تھا اس روایت میں غور کریں کہ شیعہ نے اس میں زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کا بھی ذکر کیا ہے حالانکہ زبیر رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے بعد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کی تھی علاوہ ازیں یہ لوگ اس سلسلے میں ابوذر عمار اور اہلبیت کا ذکر کرنا بھول گئے ۔

ایک شیعہ عالم ابن مرتضی لکھتا ہے 

اگر یہ لوگ دعوی کریں کہ ہمارا ابوزرغفاری مقداد بن اسود اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہم امامت علی رضی اللہ عنہ کے قائل ہونے کی بنا پر ان کے سلف تھے تو انہی  صحابہ کرام کا طرز عمل انہیں جھٹلانے کے لیے کافی ہے کیونکہ ان میں سے کسی نے شیخین ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے کبھی برات کا اظہار نہیں کیا نہ انہیں کبھی سب و شتم کا نشانہ بنایا مزید دیکھیں کہ عمار کوفہ پر اور سلمان فارسی مدائن پر عمر ابن خطاب کے گورنر بنے ہوئے تھے

 اسد الغابہ جلد 4 صفحہ 46 

 الاصابہ جلد 2 صفحہ 506 

 الستیعاب جلد 2 صفحہ 473  

 المنیة  والامل صفحہ 124۔ 125 

 طبقات ابن سعد جلد 4 صفحہ 88 

یہ تمام محکم تاریخی حقائق گزشتہ صدیوں میں شیعہ دعوے کی تعمیر کردہ عمارت کو ریزہ ریزہ کر دیتے ہیں 

۴  ۔۔۔علامہ موسی جاراللہ شیعہ کی اس رائے پر اظہار خیال کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ شیعہ دعویٰ ایک بے ہودہ مغالطہ ہے جو ہر طرح کے ادب و حیا سے عاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر افترا اور الفاظ سے کھلواڑ ہے پھر اس شیعی قول کہ "

خود صاحب شریعت نے اسلام کے کھیت میں شیعہ مذہب کا بیج بویا تھا پر تعجب کرتے ہوئے فرماتے ہیں 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیسا بیج بویا تھا جس سے طعن و تشنیع اور خیار امت اور صحابہ کرام کی تکفیر کی شاخیں نمودار ہوئی ؟؟؟پھر نظریہ کی شاخیں پھوٹی کے منافق صحابہ کے ہاتھوں قرآن میں تحریف ہوئی ہے اور امت کا اتفاق گمراہی جبکہ روشدوہدایت اس کے خلاف چلنے پر موقوف ہیں حتی کہ یہ عقیدہ شیعہ ضلالت کی گہری تاریکی میں روپوش ہوگیا 

 الوشیعة ص 30

شیعہ مذہب کی ابتداء کا تیسرادعوی   

بعض نے شیعہ مزہب کی پیدائش کا دعوی دعوت ذوالعشیرہ کا بھی کیا ہے

نبوت کے تیسرے سال دوعوت ذوالعشیرہ کے موقع پر حضرت علیؓ کے خلیفہ وصی اور ولی ہونے کا اعلان ۔

 وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ (214)

ترجمہ اور تو اپنے سب سے قریبی قبیلے والوں کو ڈرا

 الشعراء 214

 تفسیر قمی ج2/124

 صافی ج4/56

مجمع البیان ج8/355

 ترجمہ مقبول 748

 تفسیر نمونہ ج8/591اردو

 تفسیر المیزان ج15/475۔476

 علل الشرائع ج 1/170

 شیعت کا مقدمہ ص 149

لیکن اس دعوے کو خود اپنی 

ہی روایات غدیر خم سے باطل کر دیا ہے 

اور بعض غدیر خم کوبھی ابتداء شیعت سمجھتے ہیں 

موقف اہل تشیع۔غدیر خم کے موقع پر سب سے آخری اہم اور پہلی دفعہ جو نازل ہوا وہ حکم خلافت علی ؓ ہے ۔

 حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَأَن تَسْتَقْسِمُوا بِالْأَزْلَامِ ۚ ذَٰلِكُمْ فِسْقٌ ۗ الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ ۚ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ فِي مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّإِثْمٍ ۙ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

 تفسیر نور الثقلین ج1/۔591۔587 

 تفسیر عیاشی ج1/331۔332

 البرھان ج1/487۔491

 فرات الکوفی ص117۔121

 تفسیر الصافی ج1/10

 تفسیر انوارالنجف ص139تا144

 تفسیر المتقین ص153

 ترجمہ وتفسیر مقبول احمد ص188

 تفسیر التبیان ج3 /588

 تفسیر کبیر منہج الصادقین فی الزام المخالفین

ج3 /273تا275

جب کہ یہ دونوں دعوے امامت وخلافت بلافصل علیؓ کے ہیں جن کو خود شیعہ مفسرین ومحقین نے اپنے تیسرے دعوے سے باطل کر دیا ہے 

 ائمہ معصومین نے بتایا ہے کہ اللہ نے رسول اللہ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کو انکار کیا ہے اپنے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو خلیفہ بنانے کا جب کہ رسول اللہ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کا ارادہ حضرت علی ؓکو اپنے بعد خلیفہ بنانے کا تھا

1 ۔۔۔العنکبوت

أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ۔2

2 ۔۔۔آل عمران 

لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ (128)

 تفسیر الصافی ج 1/379

 تفسیر العیاشی ج1/179

 تفسیر فرات الکوفی ص93

صفحہ 8 از 12