ابتداء شیعت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ابتداء شیعت

  توقیر احمد

صفحہ 7 از 12

'' کہہ دو کہ وہ اس بات پر قادر ہے کہ تم کو کوئی عذاب اوپر سے بھیج دے ، یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے ، یا تم کو گروہوں میں تقسیم کر دے اور تمہیں ایک دوسرے کی لڑائی کا مزہ چکھا دے دیکھو ہم کیسے کھول کھول کر اپنی آیات پیش کرتے ہیں تاکہ  یہ سمجھ جائیں۔'' (الانعام :65)

 احادیث۔ 

١ ۔۔حذيفة بن اليمان يقول کان الناس يسألون رسول الله صلی الله عليه وسلم عن الخير وکنت أسأله عن الشر مخافة أن يدرکني فقلت يا رسول الله إنا کنا في جاهلية وشر فجائنا الله بهذا الخير فهل بعد هذا الخير من شر قال نعم قلت وهل بعد ذلک الشر من خير قال نعم وفيه دخن قلت وما دخنه قال قوم يهدون بغير هديي تعرف منهم وتنکر قلت فهل بعد ذلک الخير من شر قال نعم دعاة علی أبواب جهنم من أجابهم إليها قذفوه فيها قلت يا رسول الله صفهم لنا قال هم من جلدتنا ويتکلمون بألسنتنا قلت فما تأمرني إن أدرکني ذلک قال تلزم جماعة المسلمين وإمامهم قلت فإن لم يکن لهم جماعة ولا إمام قال فاعتزل تلک الفرق کلها ولو أن تعض بأصل شجرة حتی يدرکک الموت وأنت علی ذلک

''۔ ۔۔  ۔۔ ۔ ۔۔۔۔ میں (حذیفہ بن الیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے (نبی ﷺسے )پوچھا کیا اس کے بعد بھی شر آئے گا ؟ فرمایا : ہاں ، جہنم کے دروازے پر بلانے والے ہوں گے ، جو ان کی بات مان لے گا وہ انہیں اس میں داخل کر دیں گے ۔ میں نے عرض کیا : رسول اللہ ﷺ ان کی کچھ نشانیاں بیان فرمائیں ۔ فرمایا : وہ ہمارے ہی جیسے ( یعنی اسلام کے دعویدار)ہوں گے اور ہماری ہی زبان بولیں گے۔ میں نے پوچھا : پھر اگر  میں نے وہ زمانہ پا لیا تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں : فرمایا : مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کے ساتھ وا بستہ رہنا ۔ میں نے پوچھا : اگر مسلمانوں کی کوئی جماعت نہ ہو اور نہ کوئی امام ، فرمایا : پھر ان فرقوں سے علیحدہ رہناخواہ تم کو درخت کی جڑیں چبانی پڑیں یہاں تک کہ اسی حالت میں تم کوموت آجائے۔'' ( بخاری ۔ کتاب الفتن ، باب الامر اذالم تکن جماعۃ )

٢ ۔حدثنا سعيد بن أبي مريم حدثنا أبو غسان قال حدثني زيد بن أسلم عن عطائ بن يسار عن أبي سعيد رضي الله عنه أن النبي صلی الله عليه وسلم قال لتتبعن سنن من قبلکم شبرا بشبر وذراعا بذراع حتی لو سلکوا جحر ضب لسلکتموه قلنا يا رسول الله اليهود والنصاری قال فمن

'' تم پہلی امتوں کی ضرور بالضرور پیروی کروگے ایک ایک بالشت اور ایک ایک گز۔ یہاں تک کہ اگروہ لوگ گوہ کے بل میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم بھی اس میں داخل ہو گے ۔ہم (صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے عرض کیا : اے رسول اللہ ﷺ کیا یہود و نصاریٰ ( مراد ہیں )، فرمایا :اور کون؟  (بخاری ۔ کتاب الانبیا: باب : نبی اسرائیل کے واقعات)

 ٣۔۔۔۔معاوية بن أبي سفيان أنه قام فينا فقال ألا إن رسول الله صلی الله عليه وسلم قام فينا فقال ألا إن من قبلکم من أهل الکتاب افترقوا علی ثنتين وسبعين ملة وإن هذه الملة ستفترق علی ثلاث وسبعين ثنتان وسبعون في النار وواحدة في الجنة وهي الجماعة زاد ابن يحيی وعمرو في حديثيهما وإنه سيخرج من أمتي أقوام تجاری بهم تلک الأهوا کما يتجاری الکلب لصاحبه وقال عمرو الکلب بصاحبه لا يبقی منه عرق ولا مفصل إلا دخله

’’ صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی طرح مروی ہے کہ معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ابوسفیان فرماتے ہیں کہ وہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ آگاہ رہو بیشک نبی صلی اللہ علیہ وسلم

ایک مرتبہ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ تم سے پہلے جو لوگ تھے اہل کتاب میں سے وہ بہتر فرقوں میں تقسیم ہوگئے تھے اور بیشک یہ امت عنقریب 73 فرقوں میں منتشر ہوجائے گی ان میں سے 72 آگ میں داخل ہوں گے اور ایک جنت میں جائے گا اور وہ فرقہ جماعت کا ہوگا۔ محمد بن یحیی اور عمرو بن عثمان نے اپنی روایتوں میں یہ اضافہ کیا کہ آپ نے فرمایا کہ عنقریب میری امت میں ایسی قومیں ہوں گی کہ گمراہیاں اور نفسانی خواہشات ان میں اس طرح دوڑیں گی جس طرح کتے کے کاٹنے سے بیماری دوڑ جاتی ہے کہ کوئی رگ اور جوڑ باقی نہیں رہتا مگر وہ اس میں داخل ہوجاتی ہے۔‘‘ ( ابو داؤد ، سنت کا بیان ، باب:سنت کی تشریح)

  ۔۴۔حدثنا محمود بن غيلان حدثنا أبو داود الحفري عن سفيان الثوري عن عبد الرحمن بن زياد الأفريقي عن عبد الله بن يزيد عن عبد الله بن عمرو قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ليأتين على أمتي ما أتى على بني إسرائيل حذو النعل بالنعل حتى إن کان منهم من أتى أمه علانية لکان في أمتي من يصنع ذلک وإن بني إسرائيل تفرقت على ثنتين وسبعين ملة وتفترق أمتي على ثلاث وسبعين ملة کلهم في النار إلا ملة واحدة قالوا ومن هي يا رسول الله قال ما أنا عليه وأصحابي قال أبو عيسى هذا حديث حسن غريب مفسر لا نعرفه مثل هذا إلا من هذا الوجه

'' میری امت پر ایک زمانہ ضرور آئے گا جیسا کہ نبی اسرائیل پر آیا تھا ، جیسے ایک جوتا دوسرے جوتے کے برابر ہوتا ہے ، یہاں تک کہ اگر نبی اسرائیل  میں سے کسنی نے اپنی ماں سے اعلانیہ زنا کیا تھا تو میری امت میں بھی کوئی ہو گا ، اور بے شک بنی اسرائیل 72 فرقوں میں تقسیم ہوئے تو میری امت 73 فرقوں میں تقسیم ہوگی وہ سب جہنمی ہوں گے سوائے ایک جماعت کے ۔ (صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم )نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ وہ جماعت کون سے ہوگی ؟ فرمایا: جو میرے ﷺ اور میرے اصحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے طریقے پر ہوں گے ۔''( ترمذی : باب الاعتصام بالکتاب و سنتہ)۔

 کس قدر افسوس کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے برخلاف اہل تشیع تفرقہ بازی کا دعوی کر رہیے ہیں جو کہ عقلا بھی اور نقلا دونوں صورتوں میں باطل ہے 

ایسے متواتر تاریخی حقائق موجود ہیں جو اس بے ہودہ رائے کی لغویت کو آشکار کرتے اور اور اسے خلاف حقیقت ثابت کرتے ہیں جیسے یہ حقیقت ہے کہ ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے زمانہ خلافت میں شیعہ مذہب کا کوئی وجود نہیں تھا 

منہاج سنہ جلد 2 صفحہ 64 

یہ ایسی حقیقت ہے جس کا اقرار مجبوراشیعہ علماء نے بھی کیا ہے 

جبکہ یہ لوگ متواتر حقائق کا انکار کرنے کے عادی ہیں 

صفحہ 7 از 12