ابتداء شیعت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ابتداء شیعت

  توقیر احمد

صفحہ 5 از 12

وَ اِذۡ اَخَذَ اللّٰہُ مِیۡثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیۡتُکُمۡ مِّنۡ کِتٰبٍ وَّ حِکۡمَۃٍ ثُمَّ جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمۡ لَتُؤۡمِنُنَّ بِہٖ وَ لَتَنۡصُرُنَّہٗ ؕ قَالَ ءَاَقۡرَرۡتُمۡ وَ اَخَذۡتُمۡ عَلٰی ذٰلِکُمۡ اِصۡرِیۡ ؕ قَالُوۡۤا اَقۡرَرۡنَا ؕ قَالَ فَاشۡہَدُوۡا وَ اَنَا مَعَکُمۡ مِّنَ  الشّٰہِدِیۡنَ ﴿۸۱﴾

 جب اللہ تعالٰی نے نبیوں سے عہد لیا کہ جو کچھ میں تمہیں کتاب و حکمت سے دوں پھر تمہارے پاس وہ رسول آئے جو تمہارے پاس کی چیز کو سچ بتائے تو تمہارے لئے اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا ضروری ہے ۔   فرمایا کہ تم اس کے اقراری ہو اور اس پر میرا ذمّہ لے رہے ہو؟ سب نے کہا کہ ہمیں اقرار ہے ، فرمایا تو اب گواہ رہو اور خود میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں ۔  

 گویا یہ لوگ حسب عادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امتیازی خوبیاں اور خصائص سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے حق میں ڈال دینا چاہتے ہیں مزید برآں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو تفصیلی ہدایات و تعلیمات دے کر بھیجا گیا تھا جب ان سب پر ایمان لانے کا تمام انبیاء سے عہد نہیں لیا گیا تھا تو تمام مومنوں کو چھوڑ کر صرف انکے ایک صحابی کی محبت و ولایت کا عہد ان سے کیوں کر لیا جا سکتا ھے۔؟؟؟

 ٩۔۔تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ اگر کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا پھر ان کی اطاعت کی اور ان کی زندگی ہی میں ابوبکر و عمر عثمان و علی رضی اللہ عنہم کے وجود سے بھی بے خبر رہ کر وفات پا گیا تو اسے قطعاً کوئی نقصان نہیں ہوگا اور یہ چیز اسے دخول جنت سے نہیں روک سکتی جب امت محمدیہ کے ایک فرد کی حالت ہے تو یہ کہنا کس طرح رواہے کہ تمام انبیاء کے لئے ایک صحابی پر ایمان لانا ضروری تھا 

 منہاج سنہ جلد 4 صفحہ 46 

١٠۔ ۔شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں وہی لوگ کر سکتے ہیں جو عقل سے تہی دامن ہوتے ہیں یہ لوگ تو علی رضی اللہ عنہ کی پیدائش سے قبل ہی وفات پا چکے تھے پھر  علی رضی اللہ عنہ انبیاء پر کس طرح امیر بن سکتے ہیں زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے اہلخانہ کے امیر ہوں لیکن یہ بات کہ وہ اپنے سے پہلے اور بعد میں پیدا ہونے والے تمام لوگوں کے امیر تھے تو یہ ایسا جھوٹ صرف وہی شخص بول سکتا ہے جو خود اپنی بات سمجھتا ہے نہ کچھ کہنے سے حیا اسے روکتی ہےیہ بات ابن عربی اور ان جیسے دیگر ملحد صوفیوں کی ان باتوں کی طرح ہے کہ تمام انبیاء خاتم الاولیاء کے نورانی طاقچہ سے علم الہی حاصل کرتے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چھ سو سال بعد عالم وجود میں آیا ان دونوں کی اساس محض کذب غلو شرک باطل دعوے اور کتاب وسنت اور سلف امت کے اجماع کی مخالفت پر استوار ہے

 منہاج سنہ جلد 4 صفحہ 78      

  ایسی بات کی غرض وغایت کیا ہو سکتی ہے جس کا کذب کسی پر مخفی نہیں کیا اس سے مقصود لوگوں کو دین الہی سے محض روکنا تو نہیں ہے ؟؟؟؟

کیونکہ ایسی باتوں کا بطلان ہر ایک کو بداہتا معلوم ہوتا ہے جب یہ لوگ اعلانیہ ایسے دعوے اور نظریات اسلام کی طرف منسوب کرتے ہیں تو دوسرے مزہب کے ماننے والے ایسی باتوں پر مطلع ہو کر اور عقل و نقل کی رو سے ان کا بطلان جان کر سرے سے اسلام ہی میں شک کرنے لگتے ہیں  

مزید برآں جمادات نباتات اور مایعات کے فساد و صلح کی ایسی عجیب و غریب تو جیہ سے متعلق اصحاب علم اور اہل خرد کیا فرمائیں گے کہ یہ سب کچھ ولایت علی کے بارے میں ان کے اختیار کردہ عقیدے کے سبب وقوع پذیر ہوتا ہے 

کوئی علم سے بہراور شخص اس بارے میں کیا کہے گا کیا یہی وہ دین ہے جسے وہ لوگوں کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں یا اس سے مقصود اسلام کے خدوخال کو بگاڑنا اور لوگوں کو اس سے روکنا ہے بہرحال شیعہ سے ایسی حیرت انگیز آرا کا صدور کوئی تعجب خیز امر نہیں ہے کیونکہ یہ لوگ ایسے عجیب و غریب مبالغہ آمیز دعویٰ جات کرنے کے خوگر ہے جو واضح حقائق اور متواتر اخبار کو جھٹلاتے اور عقل و نقل کے نزدیک جھوٹی اشیاء کی تصدیق کرتے ہیں 

مثال کے طور پر یہ لوگ خلفاءراشدین سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر فاروق کے بارے میں کہتے ہیں 

حدیث میں مروی ہے کہ جب قائم امام منتظر ظاہر ہوگا تو انہیں( ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما)زندہ کرے گا اور انہیں دنیا میں وقوع پذیر ہونے والے ہر گناہ اور فساد کا سزاوار ٹھہرائے گا حتی کہ قابیل کا ہابیل کو قتل کرنا یوسف کے بھائیوں کا انہیں کنوئیں میں پھینکنا اور ابراہیم کا آگ میں پھینکا جانا وغیرہ ان تمام گناہوں کا بار بھی انہی پر ہوگا اسی طرح جعفر صادق سے مروی ہے اگر روئے زمین پر کوئی پتھر بھی اپنی جگہ سے سرکایا  گیا ہے اور کوئی خون کا قطرہ بھی بہایا گیا ہے تو وہ ان دونوں (یہ حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما )کے گردن میں ہے

 درةنجفیة صفحہ 30 

 رجال الکشی صفحہ 205۔ 206  

 انوار النعمانیہ جلد 1 صفحہ 82 

شیعت کی ابتداء کا دوسرا دعوی 

بعض رافضی  قدیم و جدید ہر دور میں یہ دعوی کرتے رہے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود شیعہ کا بیج بویا اور یہ مذہب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں معرض وجود میں آیا تھا چنانچہ بعض صحابہ کرام حیات نبی صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ہی میں علی رضی اللہ عنہ سے تشیع اور خصوصی محبت کا تعلق رکھتے تھے 

 شیعہ عالم قمی رقمطراز ہے 

“تمام فرقوں میں سب سے پہلے شیعہ فرقہ نمودار ہوا جس سے مراد علی ابن ابی طالب کا گروہ ہے انہیں زمانہ رسالت اور بعد میں شیعان علی کہا جاتا تھا یہ لوگ انہی کی پیروی اور ان کی امامت کے قائلین کے طور پر معروف و مشہور تھے ان میں مقداد بن اسود کندی سلمان فارسی ابو جندب بن جنادہ غفاری عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم شامل ہیں یہی لوگ ہیں جنہیں اس امت میں سب سے پہلے شیعہ لقب سے موسوم کیا گیا تھا 

 المقالات والفرق صفحہ-15 

 نوبختی۔ ۔فرق الشیعة ص 17

 رازی۔ ۔الزینة۔ ص 206

 محمد حسین آل کاشف الغطاء

لکھتے ہیں ۔اسلام کے کھیت میں سب سے پہلے خود صاحب شریعت صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نے شیعہ مذہب کا بیج بویا تھا یعنی شیعہ مذہب کی بنیاد دین اسلام کی بنیاد کے پہلو بہ پہلو رکھی گئی تھی 

صفحہ 5 از 12