ابتداء شیعت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ابتداء شیعت

  توقیر احمد

صفحہ 2 از 12

لیکن شیعہ مذہب ہمیشہ اس پاکیزگی اور سلامتی پر قائم نہ رہا بلکہ شیعت کا نقطہ نظر بدل گیا تو یہ مختلف گروہ بن گئے اور شیعت ایسی آڑ بن گئی جس کے پیچھے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازش کرنے والے دشمن باآسانی چھپ جاتے تھےاسی لیے ائمہ دین سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہما پر طعن و تشنیع کرنے والے کو شیعہ نہیں بلکہ رافضہ کہا کرتے تھے کیونکہ وہ شیعہ لقب کے حقدار نہیں تھے جو شخص بھی شیعہ مذہب کے عقائد میں رونما ہونے والے تدریجی تغیر سے آگاہ ہے تو اس کے نزدیک ائمہ محدثین اور دیگر علماء امت پر جو اہل سنت میں شامل تھے شیعہ کے لقب کا اطلاق کوئی تعجب انگیز عمل نہیں ہے کیونکہ سلف امت کے زمانے میں شیعیت کا مفہوم بعد میں پیدا ہونے والے شیعہ مذہب کے مفہوم سے یکسر مختلف تھا اسی لیے امام ذہبی رحمۃاللہ علیہ محدثین پر بدعت تشیع کے الزام سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں: 

بدعت کی دو قسمیں ہیں:

بدعت صغریٰ: جیسے تشیع میں غلو کرنا یا جیسے غلو کے بغیر ہی شیعت کو اختیار کرنا یہ تابعین اور ان کے اتباع میں تدین ورع اور صدق کے باوجود بہت زیادہ تھی اگر اس جماعت کی احادیث کو ردّ کیا جائے تو احادیث نبوی کا بہت بڑا ذخیرہ ضائع ہو جائے گا اور اس میں واضح خرابی ہے۔

بدعت کبریٰ: جیسے رفض کامل اور اس میں غلو ابوبکر اور عمر فاروق رضی اللہ عنہما پر زبان درازی اور اس مذہب کی تبلیغ اس قسم کے لوگوں کی روایات سے احتجاج استدلال نہیں کیا جاسکتا بلکہ تائید کے طور پر بھی ان کی روایات ذکر نہیں کی جا سکتی نیز اس قماش کے لوگوں میں سے میں ایک آدمی بھی نہیں جانتا جو صادق اور امانت دار ہوں بلکہ جھوٹ تقیہ اور نفاق ہی ان کا اوڑھنا بچھونا ہے ایسے لوگوں کی نقل کردہ بات کو قبول کرنا کس طرح درست ہو سکتا ہے قطعاً نہیں بلکہ زمانہ سلف میں ان کی اصطلاح میں غالی شیعہ وہ ہوا کرتا تھا جو عثمان زبیر طلحہ معاویہ اور علی رضی اللہ عنہم سے لڑنے والے دوسرے لوگوں پر حرف گیری اور ان کو سب وشتم کرنے کے درپے ہوتا تھا لیکن ہمارے زمانے اور معاشرے میں غالی شیعہ وہ شخص ہے جو ان سادات دین کی تکفیر کرتا اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے برأت کا اظہار کرتا ہے ایسا شخص یقیناً گمراہ اور افتراء پرداز ہے۔

(الذھبی میزان الاعتدال: جلد 1 صفحہ 5، 6)

(لسان المیزان: جلد 1 صفحہ 9، 10)

اب اس بحث سے ہمارے سامنے تین موضوع آئے:

1: مذہب اہل بیت و اولین اہل تشیع 

2: اولین اہل تشیع اور متاخرین اہل تشیع یعنی رافضہ میں فرق۔

3: اہل تشیع کا فکری اور نظریاتی طور پر  مختلف بےشمار فرقوں میں تقسیم ہونا۔  

ان تینوں موضوعات سے صرف نظر کرتے ہوئے ہم بحث کرتے ہیں ابتداء شیعت پر کہ شیعت کی ابتداء کب ہوئی۔ 

 شیعت کی ابتداء کا پہلا دعویٰ

شیعہ مذہب قدیم ہے جو رسول اللہﷺ کی رسالت سے بھی قبل معرض وجود میں آیا اور ہر نبی کو ولایت علی پر ایمان لانے کی تلقین کی گئی۔

شیعہ نے اس چیز کو ثابت کرنے کے لئے بڑے بڑے افسانے تراشے ہیں۔  (کتاب الکافی)

1: بعث الله فيهم النبيين يدعونهم إلى الاقرار بالله وهو قوله: "ولئن سألتهم من خلقهم ليقولون اللہ ثم دعاهم إلا الإقرار بالنبيين، فأقر بعضهم وأنكر بعضهم، ثم دعاهم إلى ولايتنا فأقر بها والله من أحب وأنكرها من أبغض وهو قوله: "فما كانوا ليؤمنوا بما كذبوا به من قبل  "ثم قال أبو جعفر عليه السلام: كان التكذيب ثم

اس کے ہم معنیٰ 9 روایات موجود ہیں:

  ابو الحسن سے مروی ہے کہ ولایت علی انبیاءؑ کے تمام آسمانی صحیفوں میں مکتوب ہے اور اللہ تعالیٰ کوئی ایسا رسول مبعوث نہیں فرمائے گا جس کے ساتھ حضرت محمدﷺ کے نبی اور علی کے وصی ہونے کا پیغام نہ ہو۔

(الکافی: جلد 1 صفحہ 36۔ 437)

2: ابوجعفر سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: (سورۃ طٰہ آیت 115)

وَ لَقَدۡ عَہِدۡنَاۤ  اِلٰۤی اٰدَمَ مِنۡ قَبۡلُ فَنَسِیَ  وَ لَمۡ نَجِدۡ لَہٗ عَزۡمًا            

سے متعلق مروی ہے یعنی ہم نے اس آدم سے محمد اور ان کے بعد والے ائمہ سے متعلق عہدلیا لیکن اس نے وہ توڑ دیا اور وہ اپنے ارادے میں مضبوط نہ تھا اور جن انبیاء کو اولولعزم کہا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ان سے محمد اور ان کے بعد اوصیاہ اور  مہدی اور اس کی سیرت و صفات سے متعلق عہد لیا تھا اور انہوں نے اس پر عزم کیا اور اس کا اقرار کیا تھا 

 الکافی جلد 1 صفحہ 416 

 علل الشرائع صفحہ 122 

 الصافی جلد 2 صفحہ 80 

 القمی جلد 2 صفحہ 65 

 المحجة صفحہ 635 

 بحار الانوار 11/35۔26/278

 بصائر الدرجات صفحہ 21

٣۔ ۔یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے علی اللہ تعالی نے جو نبی بھیجا ہے بےشک اسے تمہاری ولایت کی دعوت دی ہے خواہ وہ خوش ہو یا ناخوش 

 بحار الانوار جلد 11 صفحہ 60 

 المعالم الزلفی صفحہ 303 

 بصائر الدرجات  للصفاءاورالاختصاص للمفید میں بھی موجود ہے 

۴۔ ۔ابو جعفر سے ایک دوسری روایت میں مروی ہے ۔یقینا اللہ تعالی نے تمام انبیاء سے ولایت علی کاپختہ عہد لیا ہے

 المعالم الزلفی صفحہ 303 

۵۔ ۔ابو عبد اللہ کہتے ہیں ۔۔ہماری ولایت دراصل اللہ تعالی کے ولایت ہے ہر نبی اس کے ساتھ مبعوث ہوا ہے  

 مستدرک الوسائل جلد 2 صفحہ192

 المعالم الزلفی صص303

٦۔ ۔۔شیعہ عالم بحرانی نے تو اس مسلےکے لیے ان الفاظ میں باب قائم کیا ہے 

 باب ان الأنبیاء بعثوا الی ولایة الائمة

 المعالم الزلفی ص303

 ٧۔ ۔۔شیعہ نے کہا ہے کہ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ اللہ تعالی کے تمام انبیاء و رسول اور تمام مومنین علی بن ابی طالب کی دعوت قبول کرنے والے تھے اور یہ بھی ثابت شدہ امر ہے کہ انبیاء و رسول اور تمام مومنین کی مخالفت کرنے والے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اور ان سے محبت کرنے والوں سے بغض و عداوت رکھنے والے ہیں چنانچہ اولین و آخرین میں سے جنت میں صرف وہی داخل ہو گا جو ان سے محبت کرتا ہوگا چنانچے وہی جنت اور جہنم کی تقسیم کرنے والے ہیں 

 تفسیر صافی جلد 1 صفحہ 16 

٨۔ ہم معنی روایات

 الکافی جلد 2 صفحہ 8 

 الوافی جلد 2 صفحہ 155 جلد3 صفحہ 10 

 بحارالانوار جلد 35 صفحہ 151 

 سفینۃ البحار جلد 1 صفحہ 729 

 مستدرک الوسائل جلد 2 صفحہ 195 

 الخصال جلد 1 صفحہ 270 

 علل الشرائع۔ صفحہ 122 ۔۔136-144-174135   

 الفصول المھمة صفحہ 159 

 فرات الکوفی صص11۔13

صفحہ 2 از 12