ابتداء شیعت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ابتداء شیعت

  توقیر احمد

صفحہ 12 از 12

ماقبل ہم نے شیعہ مذہب کے آغاز کے متعلق اہم آراء ذکر کی ہیں اور ان پر حسب ضرورت نقد و تبصرہ بھی کیا ہے شیعہ مذہب ایک نظریہ اور عقیدہ بن کر اچانک ہی نمودار نہیں ہوا بلکہ یہ کئی وقتی تبدیلیوں سے دوچار ہوا اور مختلف مراحل سے گزرا ہے البتہ شیعہ مذہب کے ابتدائی افعال اور اس کے بنیادی اصول فرقہ سبائیہ کے ہاتھ پر ظہور پذیر ہوئے تھےجیسا کہ کتب شیعہ بھی اس حقیقت کا اعتراف و اقرار کرتی ہیں کہ عبداللہ ابن سباءنے سب سے پہلے اس بات کا اظہار کیا تھا کہ علی رضی اللہ عنہ کی امامت و خلافت ضروری ہےاور یہ کہ علی رضی اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی ہیں جیساکہ گزرچکا ہے بعینہ یہی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی منصوص منصوص من اللہ امامت  کا عقیدہ ہے جو شیعہ مذہب کی اساس ہے جیسا کہ شیعہ مذہب کی تعریف کے زمن میں ہم شیعہ علماء کا نظریہ ذکر کر چکے ہیں پھرسب کو یہ بھی معلوم ہوچکا کہ ابن سبا اور اس کی جماعت نے سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد اور سسر نسبی رشتے دار خلفاء اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے قریبی ساتھیوں ابوبکر و عمر عثمان اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر زبان طعن دراز کی تھی اور شیعہ بھی صحابہ کرام کے بارے میں یہی عقیدہ رکھتے ہیں جیسا کہ ان کی کتب میں مرقوم ہے نیز ابن سباء ہی سب سے پہلے رجعت علی رضی اللہ عنہ کا قائل تھا اور اب یہی رجعت شیعہ مذہب کا بنیادی اصول ہے مزید برآں ابن سبا ہی نے یہ بات کہی تھی کہ علی اور اہل بیت کے پاس چند مخصوص مخفی علوم ہے جیسا کہ حسن بن محمد بن حنفیہ نے رسالہ الارجاء میں کہاں ہے اب یہ مسئلہ شیعہ کے بنیادی عقیدے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے 

 مقالات والفرق صفحہ 21 

 فرق الشیعۃ  صفحہ 23 

 مسائل امامة صفحہ 22 23 

 مقالہ الاسلامیین جلد 1 صفحہ 86 

 التمبیہ والرد صفحہ 18 

 الفرق بین الفرق صفحہ 234 

 التبصیر فی الدین  صفحہ 76 

 محصل افکار المتقدمین والمتاخرین صفحہ 242 

 المواقف صفحہ 419 

 تہذیب التہذیب جلد 2 صفحہ 32 

 رسالة الارجاء ص 249۔250

 صحیح بخاری میں بھی ایک اثر مروی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نظریہ بہت پہلے ظاہر ہوگیا تھا اور علی رضی اللہ عنہ سے بھی اس کے متعلق سوال کیا گیا تھا کہ کیا آپ کے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو قرآن میں یا لوگوں کے پاس نہیں ہے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مکمل طور پر اس کی حتمی تردید کی تھی 

  بخاری کتاب العلم جلد 1 صفحہ 204 

باب حرم المدینہ۔باب فکاک الاسیر۔باب ذمة المسلمین و جوار ہم  ۔باب اثم من عاھد ثم عذر ۔باب اثم من تبرا من موالیہ ۔باب العاقلہ۔ باب لایقتل مسلم بکافر ۔باب من یکرہ من التعمیق والتنازع والغلو

مسلم مع النووی 9/143/144/13/141

 نسائی المجتبی ،8/19

 ترمذی 4/668

 امام احمد 1/100

یہی شیعہ مذہب کا اہم دینی اصول ہیں جو یقینا شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں معرض وجود میں آئے تھے لیکن لوگوں میں ایک مخصوص فرقے کی صورت میں متعارف نہیں ہوئے تھے بلکہ فرقہ سبائیہ نے جیسے ہی اپنا سر نکالا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسےنابود کردیالیکن اس کے متصل بعد رونما ہونے والے واقعات معرکہ صفین واقعہ تحکیم اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت وغیرہ نے ان عقائد کے ظہور اور انہیں جماعتی قالب میں ڈھالنے کے لئے مناسب فضا مہیا کر دیں  

 مجموع الفتاوی لابن تیمیہ جلد 20 صفحہ 466 

 منہاج السنہ جلد 1 صفحہ 219 

 فتح الباری جلد 2 صفحہ 270 

 التنبیہ والرد صفحہ 18 

 التبصیر فی الدین صفحہ 70 

 منہاج السنہ جلد 1 صفحہ 219 220 


صفحہ 12 از 12