ابتداء شیعت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ابتداء شیعت

  توقیر احمد

صفحہ 11 از 12

عبداللہ ابن سبا یہودی تھا پھر اس نے اسلام قبول کیا اور علی سے محبت کا اظہار کیا جب وہ یہودی تھا یوشع بن نون سے متعلق یہی کہتا تھا کہ وہ موسی علیہ السلام کے وصی ہیں پھر وفات نبوی کے بعد اسلام قبول کرکے یہی بات علی رضی اللہ عنہ کے حق میں کہنے لگا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی ہیں اس شخص نے سب سے پہلے علی بن ابی طالب کی امامت کے لزوم کا قول ذکر کیا اور ان کے دشمنوں سے براة ظاہر کی اور انہیں کافر قرار دیااور حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد ان کی رجعت کا سب سے پہلا قائل ہوا اسی بنیاد پر شیعہ کے مخالفین نے کہا ہے کہ رافضی مذہب دراصل یہودیت سے ماخوذ ہے 

 المقالات والفرق صفحہ-20 

پھر قمی ذکر کرتا ہے کہ جب ابن سبا کو علی رضی اللہ عنہ کی وفات کی اطلاع ملی تو اس نے دعوی کیا کہ وہ فوت نہیں ہوئے بلکہ دوبارہ دنیا میں واپس آکر اپنے دشمنوں سے لڑیں گےپھر وہ اس عقیدہ و نظریہ میں غلو کرنے لگا 

 المقالات والفرق صفحہ-21 

یہ ہےوہ حقیقت جووہ ابن سبا سے متعلق بیان کرتا ہے یہ قمی شیعہ کے نزدیک ثقہ اور معرفت روایات میں وسیع النظر ہے 

 الفہرست صفحہ 105 

جامع روایات جلد 1 صفحہ 352 

ان کے نزدیک اس کی معلومات نہایت اہمیت کی حامل ہیں کیونکہ ایک تو وہ زمانے کے اعتبار سے متقدم ہے اور دوسرا  جیسا کہ شیعہ المصدوق بیان کرتا ہے کہ یہ شیعہ کے امام معصوم حسن عسکری سے ملا اور اس نے اس سے سماع کیا ہے 

 اکمال الدین صفحہ 425 435 

اسی طرح ایک اور شیعہ عالم نوبختی ابن سبا سے متعلق گفتگو کرتا ہے اور اس کے بارے میں قمی کے الفاظ سے حرف بحرف اتفاق کرتا ہے

 فرق الشیعۃ صفحہ 22 23 

نوبختی بھی شیعہ کے نزدیک ثقہ اور معتبر عالم ہے  

 الفہرست صفحہ 75 

 جامع روایات جلد 1 صفحہ 228 

 الکنی والالقاب جلد1 صفحہ 141 

 مقتبس الاثر جلد 16 صفحہ 125 

ایک تیسرا علم شیعہ الکشی اپنی معروف کتاب رجال الکشی میں جوشیعہ کی قدیم ترین اور علم رجال میں مواقع المدد کتاب ہے ابن سباءکے ذکر میں چھ روایات نقل کرتا ہے 

 رجال الکشی صفحہ 106 ۔108 ۔305

الروایات۔ 170۔ 171۔ 172۔ 173 174۔ 

یہ شیعہ کے نزدیک ثقہ اور اخبار و رجال شیعہ پر بہترین نظر رکھنے والا عالم ہے 

 الفرق صفحہ 171 

یہ روایات بیان کرتے ہیں کہ ابن سبا نے نبوت کا دعوی کیا اور یہ نظریہ اپنایا کہ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ ہی خدا ہیں نیز ان روایات میں منقول ہے کہ علی رضی اللہ  نے ابن سبا کو ان عقائد سے توبہ کرنے کا حکم دیا لیکن وہ تائب نہ ہوا تو انہوں نے اس کو آگ میں جلا دیا اسی طرح الکشی نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ وہ ائمہ و خلفاء پر لعنت کرتا اور علی رضی اللہ عنہ  پر جھوٹ بولا کرتا تھا 

جیسے علی بن حسین فرماتے ہیں ہم پر جھوٹ گھڑنے والے پر اللہ کی لعنت ہو جب مجھے عبداللہ ابن سبا کا خیال آیا تو میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے کیونکہ اس نے بہت خطرناک دعویٰ کیا ہے نہ جانے کیوں اس نے ایسا کہا ہے اس پر اللہ کی لعنت اللہ کی قسم علی رضی اللہ عنہٗ تو محض ایک اللہ کے نیک بندے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی تھے انہیں اللہ تعالی کی طرف سے جتنی بھی عزت و کرامت ملی ہے وہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت گزاری کی  بدولت نصیب ہوئی ہے 

 رجال کشی صفحہ 108 

پھر الکشی ان روایات کو ذکر کرنے کے بعد کہتا ہے 

اہل علم نے ذکر کیاہے کہ عبداللہ بن سبا یہودی تھا پھر مسلمان ہوا اور علی رضی اللہ عنہ سے محبت کا اظہار کرنے لگا جب وہ یہودی تھا تو یوشع بن نون کے حق میں غلو کرتے ہوئے کہتا تھا کہ موسی علیہ الصلاۃ والسلام کے وصی ہیں پھر وفات نبوی کے بعد مسلمان ہوکر علی رضی اللہ عنہ کے متعلق یہی بات کہنے لگا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی ہیں اسی نے سب سے پہلے علی رضی اللہ عنہ کی امامت کے لزوم کی بات کی ان کے دشمنوں سے براة کااظہار کیا ان کے مخالفین سے دشمنی کا اظہار کیااور انہیں کافر کہا اسی بنا پر شیعہ کے مخالفین نے کہا ہے کہ رفض و تشیع دراصل یہودیت سے ماخوذ ہے

 رجال کشی صفحہ 108

  رجال الکشی کی تصحیح وتشریح طوسی نے کی ہے جو شیعہ کے نزدیک صحاح اربع میں سے دو کتابوں کا مصنف ہے اور ایسے ہی شیعہ کی کتب رجال میں ںسے بھی دو کتابوں کا مولف ہے  

 مقدمہ رجال الکشی صفحہ 18 صفحہ 17 

 لوءلوء البحرین صفحہ 403 

اس کے علاوہ اور شیعہ کتب رجال کی کتابوں میں عبداللہ بن سبا کا ذکر موجود ہے 

 مسائل الامامة صفحہ22 ۔23

 وفیات الاعیان ص 91۔92

 انباءالرواة 2/128/129

 منتھی المقال 

 منہج المقال فی تحقیق احوال الرجال

 جامع الرواة 1/476

 الحلی ۔الرجال ص 2/71

 قاموس الرجال ص 5/461

 رجال الطوسی ص 51

 من لایحضرالفقیہ 1/213

 الخصال ص628

 تہزیب الاحکام 2/322

 بحار الانوار 25/286

 تنقیح المقال 2/183

 مقتبس الاثر 21/230

 الشیعة فی التاریخ ص 213

  ابتداء شیعت میں راجح قول

صفحہ 11 از 12