ابتداء شیعت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ابتداء شیعت

  توقیر احمد

صفحہ 10 از 12

(اس سلسلے میں بعض لوگوں نے جو ایک جماعت کے ظہور کا تذکرہ کیا ہے کہ وہ علی رضی اللہ عنہ کو امامت کا زیادہ حقدار خیال کرتی تھی تو اس کی کوئی پائیدار تاریخی دلیل نہیں ہے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اس کی اساس تاریخ یعقوبی کی ایک روایت ہے جس میں منقول ہے کہ صحابہ کرام کی ایک جماعت جن میں سلمان فارسی ابوذر عمار اور مقداد رضی اللہ عنہم شامل تھے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت سے پیچھے رہے اور علی رضی اللہ عنہ 

 کی طرف مائل ہوگئے

 تاریخ یعقوبی جلد 2 صفحہ 124 

 اسی طرح مسعودی میں موجود ہے۔

 دوسرا قول 

شیعہ مذہب کی ایجاد 37 ہجری کو ہوئی اس کے قائلین میں مشہور ترین 

 مختصر التحفة الاثنی عشریة کے مولف

 مختصر التحفة الاثنی عشریة ص5

Montgomery watt:Islam and intregration of Society p.104

 تیسراقول ۔

شیعہ مذہب شہادت حسین رضی اللہ عنہ کے فورا بعد معرض وجود میں آیا ایک مستشرق سٹروٹمین کہتا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا خون ایک نظریے کے طور پر شیعہ مذہب کی اولین بنیاد تھی 

 دائرة المعارف الاسماعیلیہ 14/59

 چوتھاقول ۔۔۔

ابن حزم فرماتے ہیں پھر عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے اور انہوں نے بارہ سال حکومت کی پھر ان کی شہادت کے ساتھ اختلاف شروع ہوا اور روافض  کی ابتداء ہوئی

 الفصل لابن حزم جلد 2 صفحہ 8 

شیعہ مذہب کا بیج بونے والا شخص عبداللہ بن سبا یہودی تھا اس نے اپنی سرگرمیوں کا آغاز عہد عثمان رضی اللہ عنہ کے آخری دور میں کیا تھا 

متقدمین اور معاصر علماء و محققین کی ایک جماعت نے ثابت کیا ہے کہ شیعہ مذہب کی اولین بنیاد اسی شخص ابن سبا نے رکھی تھی جس کا ذکر اہل سنت اور شیعہ کتب دونوں ہی میں تواتر کے ساتھ منقول ہے 

 التنبیہ الرد صفحہ 18  

 مقالات الاسلامیین جلد 1 صفحہ 86 

 الفرق بین الفرق صفحہ 233 

 الملل والنحل جلد 1 صفحہ 173 

 التبصیر فی الدین صفحہ 81 82 

 اعتقادات فرق المسلمین صفحہ86

 المنیۃ والامل صفحہ-29  

 لسان المیزان جلد 3 صفحہ 279 

 تہذیب تاریخ دمشق جلد7/831

 الانساب جلد 7 صفحہ 46 

 اللباب جلد 1 صفحہ 527 

 البداء تاریخ جلد 5 صفحہ 129 

 تاریخ طبری جلد 4 صفحہ 340 

 الکامل جلد 3 صفحہ 77 

 البدایہ و النہایہ جلد 7 صفحہ 168 

 العبر جلد 2صفحہ 160 

 تبصیر اولی النہی الورقة 14

 مجموع الفتاوی جلد 4 صفحہ 518

 تاریخ المذاہب الاسلامیہ جلد 1 صفحہ 31 

 عائشة والسیاسة صفحہ 60 

 قصیمی فی الصراع جلد 1 صفحہ 41 

 المنیۃ والامل صفحہ 125 

 مسائل الامامة صفحہ 22 23 

 المقالات والفرق صفحہ-20 

 فرق الشیعۃ  صفحہ22 

 رجال الکشی صفحہ 106 ۔108 

الروایات۔ 170 171 173 172

 ابن ابی الحدید نہج البلاغہ جلد 2 صفحہ 361 

 نوٹ۔ ۔۔عصر حاضر میں شیعہ میں ایک نیا گروہ نمودار ہوا ہے جو کسی حقیقی ثبوت اور دلیل کے بغیر محض قلم کے زور پر ابن سبا کے وجود سے انکار کے ساۓ میں مگن ہے 

 مرتضی عسکری عبداللہ بن سبا صفحہ 35 

بلکہ ان میں سے بعض نے تو یہ دعوی کیا ہے کہ عبداللہ بن سبا سے مراد عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ہیں 

 غاط السلاطین صفحہ 274

 الصلة بین التصوف والتشیع صفحہ ۔40 ۔41  

اس دعوے کا مقصد صرف یہ دھوکا دینا ہے کہ یہود مسلمانوں کے خلاف کسی سازش میں شریک نہیں اسی طرح ایسے دعووں سے مقصود رافضیت کو شریعت میں ڈالنا اور اپنے مخالفین کے اس دعوے کی تردید کرنا ہے کہ شیعت کی اساس یہودیت پر استوار ہے 

اہل سنت اور شیعہ دونوں کے علماءسابقین ابن سبا کو ایک حقیقی شخصیت قرار دینے پر متفق ہیں تو پھر کچھ لوگ فریقین کے درمیان ایک اتفاقی امر کی کس طرح نفی کر سکتے ہیں یہ کہنا کہ ابن سبا سے مراد درحقیقت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ہی عقل و نقل اور تاریخ کی روشنی میں یہ بات قطعا پایا ثبوت کو نہیں پہنچتی پھر جن عقائد کا اظہار ابن سبا نے کیا ہے انہیں کس طرح عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے ذمہ لگایا جا سکتا ہے کیا یہ محض صحابہ کرام کو ناکردہ گناہوں کا الزام دینا اور ان پر طعن نہیں ہے ؟؟؟ہمیں اس مسئلہ کی مزید بحث و تحقیق کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس کے متعلق مستقل کتب و تحقیقات شائع ہو چکے ہیں جن میں اس مسئلے کا مکمل احاطہ کیا گیا ہے 

١ ۔۔ڈاکٹر سلمان عودہ۔ ۔۔عبداللہ ابن سبا واثرہ فی احداث الفتنة

٢ ۔ڈاکٹر عمار طالبی ۔۔آرا الخوارج 

٣ ۔۔۔عزت عطیہ ۔۔البدعہ 

  ۔۴ ۔۔ابن سبا حقیقتا لا خیال

 نوٹ ۔۔علمی بحث و تحقیق کا اصولی تقاضا یہ ہے کہ خود انکے اصولی مصادر پر اعتماد کیا جائے 

چونکہ ابن سبا کے شخصی وجود کے انکار کی صدا ئے بازگشت بھی شیعہ کی طرف سے سنائی دیتی ہے لہذا جب ان کے خلاف ان ہی کی معتبر کتب سے احتجاج و استدلال کیا جائے تو اس سے خود بخود ان کا یہ دعوی ساقط ہو جائے گا 

کتب شیعہ سے ابن سبا کی آراء اور نظریات کی تفصیل ذکر کرنے سے شیعہ مذہب کے اصولوں کی تصویر کشی ہوتی ہے اور خود شیعہ کے اپنے کلام سے ان کی بنیادوں پر روشنی پڑتی ہے اور یہی ہمارا اصول وموضوع ہے تو آئیے دیکھتے ہیں شیعہ کتب ابن سبا کے بارے میں کیا کہتی ہیں 

 شیعہ کتب کی روشنی میں عبداللہ بن سباء کے  عقائد 

شیعہ مذہب کا نامور عالم اور فقیہ سعد بن عبداللہ القمی  ابن سبا کے وجود کا اعتراف اور اس کے چند ساتھیوں کا نام تک ذکر کرتا ہے جو اس کے ساتھ مل کر سازشیں کرتے تھے پھر اسکے فرقہ کو سبائیہ نام سے ملقب کرتا اور کہتا ہے کہ دین اسلام میں سب سے پہلے غلو کا اظہار کرنے والا یہی فرق تھا اور بعدازاں ابن سبا کو وہ پہلا شخص قرار دیتا ہے جس نے ابو بکر عمر عثمان اور صحابہ رضی اللہ عنہم پر اعلانیہ طعن وتشنیع کا اظہار کیا اور ان سے برات ظاہر کی اور دعوی کیا کہ علی رضی اللہ عنہ  نے اسے اس کام کاحکم دیا ہے پھر سعد قمی ذکر کرتا ہے کہ جب علی رضی اللہ عنہ کو اس کے عقائد کی خبر ہوئی تو انہوں نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا لیکن پھر چھوڑ دیا اور صرف اسے مدائن کی طرف جلاوطن کرنے پر اکتفا کیا جس طرح اہل علم کی ایک جماعت سے منقول ہے 

 المقالات والفرق ص20

صفحہ 10 از 12