غالی رافضی کی امامت
فتح القدیر میں ہے کہ بدعتی اور نفس پرست کی اقتداء کرنا مکروہ ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو ہمارے قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتا ہے اور اپنی بدعت و گمراہی میں اتنا غلو نہیں کرتا ہے کہ اس کے کفر کا حکم لگایا جائے تو اس کے پیچھے نماز درست ہے۔ اور اگر ایسا غالی بدعتی یا نفس پرست ہے جس کا کرنے والا کافر ہو جاتا ہے، جیسے جہمیہ مقدریہ جو کہ خلق قرآن کے قائل ہیں، اور غالی رافضی جو سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی خلافت کے منکر ہیں، اس طرح کے گمراہ شخص کی امامت جائز نہیں۔ (امامت کے احکام و مسائل: صفحہ 92)