لفظ شیعہ کے لغوی معنی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

لفظ شیعہ کے لغوی معنی

  توقیر احمد

صفحہ 5 از 5

یعنی میری مثال ایک درخت کی ہے کہ میں اس کی جڑوں اور علی اس کی شاخیں اور شیعہ اس کے پتے ہیں 
امام ابن جوزی اور امام شوکانی نے اسے موضوعات میں ذکر کیا ہے دیکھیں الموضوعات لابن الجوزی جلد 1 صفحہ 397 
الفوائد المجموعۃ للشوکانی صفحہ 379 
انت شیعتک فی الجنة 
یعنی تم اور تمہارے پیروکار جنتی ہیں
یہ روایت بھی موضوع ہے دیکھیں 
الموضوعات لابن الجوزی جلد 1 صفحہ 397 
میزان الاعتدال للذہبی جلد 1 صفحہ 421 
فوائدالمجموعہ الشوکانی صفحہ 379 
علاوہ ازیں بعض موضوع احادیث میں مذکور ہے کہ عنقریب ایک قوم پیدا ہوگی جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا شیعہ ہونے کا دعوی کرے گی اور انہیں رافضہ (لفظ رافضہ کا معنیٰ بعد میں تحقیقی  ذکر کیا جائے گا )کہا جائے گا  
امام ابن ابی عاصم نے رمضان سے متعلق چار روایات ذکر کی ہیں
السنہ ابن ابی عاصم جلد 2 صفحہ 475 
فوائد المجموعہ صفحہ 379 
مجمع الزوائد جلد 10 صفحہ 22 
معجم الکبیر جلد 12 صفحہ 242 
اہل تشیع کی کتب حدیث میں لفظ شیعہ 
شیعہ کی کتب حدیث میں بہت زیادہ احادیث و روایات میں یہ لفظ تکرار کے ساتھ ذکر ہوا ہے اور وہ لوگ ان تمام مرویات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی حسن حسین رضی اللہ عنہ اور بقیہ بارہ اماموں کی طرف منسوب کرتے ہیں 
  (شیعہ مذہب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بارہ اماموں کے فرامین کا نام سنت ہے) 
شیعہ کے ہاں اس لفظ یعنی شیعہ کا تکرار ایک اصطلاحی نام کے طور پر ہوتا ہے جو ان کے مذہب عقیدے اور ائمہ پر دلالت کرتا ہے کیوں کہ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود شیعہ مذہب کی بنیاد رکھی اور اسے اپنی نگہداشت میں پروان چڑھایا ہے 
(شیعہ مذہب کی معروف اور مستند کتاب اصول کافی میں جہاں یہ بات مذکور ہے کہ ائمہ شیعہ کی تعیین وتنصیص اللہ تعالی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ائمہ شیعہ نے کی ہے وہاں مؤلف نے 13 عنوان کے ضمن میں 110 احادیث ذکر کی ہیں )
بلکہ ان لوگوں کے غلو کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے ایسی روایات وضع کی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ لفظ شیعہ بطور ایک مخصوص مذہب قبل از نبوت بھی مشہور تھا جیسا کہ ان لوگوں کی کتب احادیث میں اس آیت وَ  اِنَّ مِنۡ شِیۡعَتِہٖ لَاِبۡرٰہِیۡمَ ﴿ۘ۸۳﴾
کی تفسیر میں منقول ہے کہ  حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شیعہ اور متبعین میں سے ہیں العیاذباللہ 
بلکہ ان لوگوں نے یہاں تک دعویٰ کیا ہے کہ اللہ تعالی نے تمام انبیاء سے ولایت علیؓ کا عہد و میثاق لیا ہے اور ولایت علی انبیاء کے تمام صحیفوں اور کتابوں میں مرقوم ہے 
 تفسیرالبرھان جلد 1 صفحہ 26 
اہل تشیع لوگوں نے اس طرح کے اور بھی بہت سارے دعوے کیے ہیں 
تاریخ اسلامی میں لفظ شیعہ
عہد اسلام کے اولین دور میں رونما ہونے والے تاریخی حوادثات میں لفظ شیعہ صرف اپنے لغوی معنی معاونت اور متابعت میں استعمال ہوا ہے بلکہ واقعہ تحکیم کے وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان جو عہد نامہ لکھا گیا تھا اس میں بھی لفظ شیعہ فقط اپنے لغوی معنیٰ میں ہی ذکر ہوا ہے اس وثیقےمیں جہاں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں اور متبعین کو لفظ شیعہ سے مخاطب کیا گیا ہے وہیں بعینہ یہی سیدنا معاویہ کے متبععین پر بھی لفظ شیعہ کا اطلاق کیا گیا ہے اور لفظ شیعہ کے استعمال کو صرف حضرت علی کے اتباع و انصار کے لیے  
مخصوص نہیں کیا گیا جیسا کہ تاکہ نوشتے میں مرقوم ہے 
ھذاماتقاضی علیہ علی بن ابی طالب ومعاویة بن سفیان وشیعتھما وان علیا وشیعتہ رضوا بعبداللہ بن قیس ورضی معاویة وشیعتہ بعمروبن العاص فاذاتوفیی احدالحکمین فلشیعتہ وانصارہ ان یختاروامکانہ وان مات احد الامرین قبل انقضاء الاجل المحدودفی ھذہ القضیة فلشیعتہ ان یختاروامکانہ رجلایرضون عدلہ
اخبار الطوال صفحہ 194 ۔ 196 
تاریخ طبری جلد 5 صفحہ 53 ۔54 
 مجموعۃ الوثائق السیاسیة صفحہ 281۔ 82 
یہ وہ معاہدہ ہے جو علی ابن ابی طالب اور معاویہ بن ابی سفیان اور ان دونوں کے اتباع وانصار کے درمیان طے پایاعلی رضی اللہ عنہٗ  اور ان کے پیروکاروں نے عبداللہ بن قیس کو اپنا حکم پسند کیا اور معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے متبعین عمر ابن عاص کو اپنا حکم بنا کر راضی ہیں اگر دونوں منصفین میں سے کوئی ایک فوت ہوگیا تو اس کے شیعہ اور انصار کو اس کی جگہ کسی دوسرے شخص کو منتخب کرنے کا اختیار ہوگا  اور اگر اس فیصلے کی معینہ مدت پوری ہونے سے قبل ہی دونوں امرا علی و معاویہ رضی اللہ عنہما میں سے کوئی ایک وفات پا گیا تو ہر ایک کے شیعہ و انصار کو اس کی جگہ کوئی ایسا شخص منتخب کرنے کا حق حاصل ہوگا جس کے عدل و انصاف کو وہ پسند کرتے ہو 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حکیم بن افلح رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں
لانی نھیتھا یعنی عائشة ان تقول فی ھاتین الشیعتین شیئا
مسلم جلد 2 صفحہ168۔ 170 
یعنی میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان دونوں گروہوں سے متعلق کوئی بات کرنے سے منع کیا تھا 
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی تاریخی لحاظ سے اس اثر سے یہ استدلال کیا ہے کہ اس دور میں شیعہ نام سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے متعلقین اور اعوان و انصار کے لیے مخصوص نہیں تھا 
منہاج السنہ جلد 2 صفحہ 68
ایک تاریخی آثر یہ بھی ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ  نے جب بسربن ارطاة کو یمن کی طرف بھیجا تو انہیں کہا 
امض حتی تاتی صنعا فان لنا بھا شیعة 
تاریخ یعقوبی جلد 2 صفحہ 198 
جاؤ حتیٰ کہ تم صنعا پہنچ جاؤ کیونکہ وہاں ہمارے شیعہ قیام پذیر ہیں 
معلوم ہوتا ہے کہ شیعہ مذہب کے دعویداروں کا عملی اکھٹ اور اس لفظ کو اپنے لیے بطور امتیازی نام  اختیار کرنے کا آغاز حضرت حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد شروع ہوا معروف شیعہ مورخ مسعودی رقمطراز ہیں ٦۵ھ میں کوفہ میں شیعہ حرکت میں ائے 
مروج الذھب جلد 3 صفحہ 100
پھر توابین کی جماعت قائم ہوئی اور اس کے بعد مختار کی جماعت کیسانیہ کھڑی ہوئی اور شیعہ کا گروہ تشکیل پانے لگا وہ اپنے مذہب کے اصول وقواعد بنانے لگے اور اس نام یعنی شیعہ کو اپنی شناخت بنانا شروع کردیا
یہاں سے یہ خوب واضح ہوتا ہے کہ اس وقت شیعہ نام ہر اس گروہ کے لیے استعمال ہوتا تھا جو کسی شخص کو اپنا قائداور سردار بنا کر اس کے ارد گرد جمع ہو جاتا تھا لیکن بادشاہ لوگ ان تاریخی حقائق سے چشم پوشی کرتے ہوئے اور یہ دعوی کرتے ہیں کہ اس امت میں سب سے پہلے انہیں کا نام شیعہ تھا 
المقالات و الفرق صفحہ 15 
فرقہ شیعہ صفحہ 18 
لیکن یہ لوگ یہ بات دانستہ فراموش کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے انصار پر لفظ شیعہ کا اطلاق کیا ہے البتہ تاریخی واقعات کی رو سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد لفظ شیعہ لقب ان کے متبعین کے حق میں مخصوص ہوا 
میراث عندالجعفریہ صفحہ 22 
 جبکہ بعض دیگر علماء کی رائے میں یہ نام شہادت حسین رضی اللہ عنہ کے بعد ان کے اتباع کے لیے معروف ہوا ہے 
علی سامی النشار جلد 2 صفحہ 35 


صفحہ 5 از 5