لفظ شیعہ کے لغوی معنی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

لفظ شیعہ کے لغوی معنی

  توقیر احمد

صفحہ 3 از 5

 اور اس  ( نوح علیہ السلام  کی ) تابعداری کرنے والوں میں سے  ( ہی ) ابراہیم ( علیہ السلام بھی ) تھے ۔  
4۔۔۔اختلاف آمیز خواہشات کے لیے جیسے ارشاد باری تعالی ہے 

Surat No 6 : Ayat No 65 
قُلۡ ہُوَ  الۡقَادِرُ عَلٰۤی  اَنۡ یَّبۡعَثَ عَلَیۡکُمۡ عَذَابًا مِّنۡ فَوۡقِکُمۡ اَوۡ مِنۡ تَحۡتِ اَرۡجُلِکُمۡ اَوۡ یَلۡبِسَکُمۡ شِیَعًا وَّ یُذِیۡقَ بَعۡضَکُمۡ بَاۡسَ بَعۡضٍ ؕ اُنۡظُرۡ کَیۡفَ نُصَرِّفُ الۡاٰیٰتِ لَعَلَّہُمۡ یَفۡقَہُوۡنَ ﴿۶۵﴾

 آپ کہئیے کہ اس پر بھی وہی قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب تمہارے  اوپر سے بھیج دے یا تو تمہارے پاؤں تلے سے یا کہ تم کو گروہ گروہ کر کے سب کو بھڑا دے اور تمہارے ایک کو دوسرے کی لڑائی چکھا دے  آپ دیکھئے تو سہی ہم کس طرح دلائل مختلف پہلوؤں سے بیان کرتے ہیں ۔ شاید وہ سمجھ جائیں ۔  
ابن جوزی نزہۃ الاعین النواظر صف375 اور 370 

Surat No 19 : Ayat No 69 
ثُمَّ  لَنَنۡزِعَنَّ مِنۡ کُلِّ  شِیۡعَۃٍ اَیُّہُمۡ اَشَدُّ عَلَی الرَّحۡمٰنِ عِتِیًّا ﴿ۚ۶۹﴾

 ہم پھر ہر ہر گروہ سے انہیں الگ نکال کھڑا کریں گے جو اللہ رحمٰن سے بہت اکڑے اکڑے پھرتے تھے ۔  

Surat No 6 : Ayat No 159 
اِنَّ الَّذِیۡنَ فَرَّقُوۡا دِیۡنَہُمۡ  وَ کَانُوۡا شِیَعًا لَّسۡتَ مِنۡہُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ ؕ اِنَّمَاۤ  اَمۡرُہُمۡ اِلَی اللّٰہِ ثُمَّ یُنَبِّئُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿۱۵۹﴾

 بیشک جن لوگوں نے اپنے دین کو جدا جدا کر دیا اور گروہ گروہ بن گئے  آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں بس ان کا معاملہ اللہ تعالٰی کے حوالے ہے پھر ان کو ان کا کیا ہوا جتلا دیں گے ۔  

Surat No 34 : Ayat No 54 
وَ حِیۡلَ بَیۡنَہُمۡ وَ بَیۡنَ مَا یَشۡتَہُوۡنَ کَمَا فُعِلَ بِاَشۡیَاعِہِمۡ مِّنۡ قَبۡلُ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا فِیۡ شَکٍّ مُّرِیۡبٍ  ﴿۵۴﴾٪            

  ان کی چاہتوں اور ان کے درمیان پردہ حائل کر دیا گیا  جیسے کہ اس سے پہلے بھی ان جیسوں کے ساتھ کیا گیا وہ بھی  ( انہی کی طرح ) شک و تردد میں ( پڑے ہوئے ) تھے 
نوٹ ۔امام دامغانی نے لفظ شیعہ کا 5 معنی اشاعت کرنا بھی ذکر کیا ہے اور اس کے لیے مندرجہ ذیل آیت کریمہ سے استدلال کیا ہے

Surat No 24 : Ayat No 19 
اِنَّ الَّذِیۡنَ یُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِیۡعَ الۡفَاحِشَۃُ فِی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ۙ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ؕ وَ اللّٰہُ  یَعۡلَمُ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۹﴾

جو لوگ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہیں  اللہ سب کچھ جانتا ہے اور تم کچھ بھی نہیں جانتے ۔  
قاموس القران صفحہ 271 امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ لفظ شیعہ کے اس استعمال کی علت و سبب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کیونکہ لفظ شیعہ میں تفرقہ اور انتشار کا معنہ پایا جاتا ہے جو اتحاد اور اجتماع کی ضد ہے اس لئے لفظ شیع کا اطلاق صرف گمراہ فرقوں پر ہوتا ہے کیونکہ وہ اختلاف وہ اثرات کا شکار ہوتے ہیں 
بدائع الفوائد جلد 1 صفحہ 155 
خلاصہ۔۔۔ہم نے مندرجہ بالا سطور میں قرآن مجید میں لفظ شیعہ کے مختلف معنی اور مدلولات کا تفصیلی تذکرہ کیا ہے جنہیں دیکھنے سے یہ بات بداہیتا معلوم ہوجاتی ہے کہ موجودہ شیعی نقطہ نظر قطعاان معانی اور مفاہیم کے ساتھ میل نہیں کھاتا لیکن تعجب انگیز امر یہ ہے کہ آج شیعہ لوگ مختلف حیلوں اور تاویلات کے ذریعے اپنے فرقے کو ان الفاظ کا مصداق قرار دینے کی مقدور بھر کوشش کرتے ہیں اور اس طرح وہ قرآنی الفاظ کی تحریف اور ان میں الحاد کرتے ہوئے ان کی غلط تاویل اور ان میں خود ساختہ معنی پیدا کرنے کی غیر محمود روش کا ارتکاب کرتے ہیں چیا کہ کتب احادیث میں اس آیت کریمہ 

وَ  اِنَّ مِنۡ شِیۡعَتِہٖ  لَاِبۡرٰہِیۡمَ ﴿ۘ۸۳﴾

مطلب یوں مرقوم ہے

 ای ان ابراھیم من شیعة علی 

تفسیر البرھان ۴/ ٢٠
تفسیرقمی ٢/ ٣٢٣
بحار الانوار۔ ٦٨/ ١٢۔ ١٣
سفینۃ البحار جلد 1 صفحہ 732 
معالم الزلفی صفحہ 307 
مجمع البحرین جلد 2 صفحہ 356 


ان لوگوں نے کذب و افترا کرتے ہوئے یہ تفسیر حضرت جعفر صادق کی طرف منسوب کی ہے لیکن ان کا علم وراع اور عقیدہ  اس سے انکار کرتا ہے 
یعنی ابراہیم علی کے شیعہ گروہ میں سے ہیں العیاذ باللہ 
حالانکہ یہ مانا قرآنی سیاہ اور اصول دین کی قطان مخالف اور ایسے غالی روافض کے عقیدے سے پھوٹا ہے جو آئمہ کو انبیاء کرام پر فوقیت اور فضیلت دیتے ہیں  
اصول الدین صفحہ 298  
الشفاءصفحہ 290 
منہاج السنة جلد 1 صفحہ 177 
اس تاویل بلکہ تحریف کی رو سے تو ابراہیم جو خلیل الرحمٰن اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تمام انبیاء سے افضل ہیں شیعان علی میں سے اور ان کے پیروکار بن جاتے ہیں یہ امرعقل و نقل اور تاریخ بلکہ ہر لحاظ سے بدیہی البطلان ہے یہ جھوٹ ایسے شخص نے گھڑا ہے جس کو جھوٹ گھڑنا بھی نہیں آتا 
علماء سلف اور اہلسنت کے نزدیک اس آیت 

 وَ  اِنَّ مِنۡ شِیۡعَتِہٖ  لَاِبۡرٰہِیۡمَ ﴿ۘ۸۳﴾

صفحہ 3 از 5