لفظ شیعہ کے لغوی معنی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

لفظ شیعہ کے لغوی معنی

  توقیر احمد

صفحہ 2 از 5

اگاہ رہو اس امت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں پھر عمر رضی اللہ عنہ ہیں 
تو اب ہم کیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس بات کی تردید و تکزیب  کر سکتے ہیں اللہ کی قسم میں جھوٹ ہے انسان نہیں تھے 
منہاج السننہ لابن تیمیہ جلد 1 صفحہ 7۔ 8 
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے 80 کے قریب اسانید سے مروی ہے کہ انہوں نے کوفہ کے ممبر پر کھڑے ہو کر فرمایا تھا 
اس امت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین ابو بکر اور عمر ہیں اسے بخاری وغیرہ نے روایت کیا ہے 
منہاج السنہ جلد 4 صفحہ 137 
اس کے علاوہ اس بات کو شیعہ کتب میں بھی منقول کیا گیا ہے 
دیکھیں تلخیص الشافی جلد 2 صفحہ 328 
تثبیت دلائل النبوة لعبدالجبارالھمدانی جلد 1 صفحہ 63 
گویا امام شریک نے اس لغوی معنی کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہا ہے کہ جو شخص سیدنا علی رضی اللہ عنہا کا حقیقی پیروکار نہیں ہے وہ شیعہ کہلانے کا مستحق نہیں ہے کیونکہ لفظ شیعہ کا حقیقی معنی اطاعت اور متابعت ہے اسی لیے کئی ائمہ دین نے اس فرقہ شیعہ کے لیے رافضہ نام کو ترجیح دی ہے
الملطی التنبیہ والرد صفحہ 18 
الفرق بین الفرق صفحہ 21 
اسفرائینی التبصیر فی الدین صفحہ 16 
السکسکی البرھان صفحہ 36 
الفرمانی رسالہ فی بیان مزاھب بعض الفرق الضالہ الورقہ 2مخطوط
ابو الحسن العراقی ذکر الفرق الضوال الورقہ 12
مخطوط
 بنابریں جو لوگ اہل بیت کے حقیقی پیروکار تھے اور انہیں شیعہ کہا جاتا تھا جب انہوں نے دیکھا کہ اب یہ لفظ شیعہ عموما اہل بیت کے مخالف بدعتی لوگوں کا لقب بن گیا ہے تو انہوں نے مجبور اپنے لیے یہ لفظ کہلوانا ترک کر دیا جیسا کہ تحفہ اثنا عشریہ کے مؤلف نے کہا ہے جب شیع نام روافض اور اسماعیلیہ کا لقب مشہور ہوگیا تو اولین شیعہ نے اپنے لئے اس لفظ کا استعمال چھوڑ دیا اور اپنے آپ کو اہل سنت والجماعت کہنے لگے
تحفہ اثنا عشریہ صفحہ25۔ 26

قرآن مجید میں لفظ شیعہ کا ذکر اور اس کا معنی 

قرآن مجید میں مادہ شیع کا12 مرتبہ ذکر ہوا ہے امام ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ نے قرآن مجید میں اس لفظ کے معنی مختلف معنی ان کے معنی کا اجمالی تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے 
اہل تفسیر نے کہا ہے کہ مادہ شیع قرآن مجید میں چار معنی میں استعمال ہوا ہے
شذرات الذھب جلد جلد 4 صفحہ 329 
مرآۃ الجنان جلد3 ، 479 ۔492
معجم المولفین جلد 5 صفحہ 157 
1۔۔فرقے اور گروہ جیسے ارشاد باری تعالی ہے  


Surat No 6 : Ayat No 159 
اِنَّ الَّذِیۡنَ فَرَّقُوۡا دِیۡنَہُمۡ  وَ کَانُوۡا شِیَعًا لَّسۡتَ مِنۡہُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ ؕ اِنَّمَاۤ  اَمۡرُہُمۡ اِلَی اللّٰہِ ثُمَّ یُنَبِّئُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَفۡعَلُوۡنَ﴿۱۵۹﴾

بیشک جن لوگوں نے اپنے دین کو جدا جدا کر دیا اور گروہ گروہ بن گئے  آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں بس ان کا معاملہ اللہ تعالٰی کے حوالے ہے پھر ان کو ان کا کیا ہوا جتلا دیں گے ۔  

Surat No 15 : Ayat No 10 
وَ لَقَدۡ  اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ فِیۡ شِیَعِ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۱۰﴾

ہم نے آپ سے پہلے اگلی امتوں میں بھی  اپنے رسول ( برابر ) بھیجے ۔  

Surat No 28 : Ayat No 4 
اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِی الۡاَرۡضِ وَ جَعَلَ اَہۡلَہَا شِیَعًا یَّسۡتَضۡعِفُ طَآئِفَۃً  مِّنۡہُمۡ یُذَبِّحُ اَبۡنَآءَہُمۡ وَ یَسۡتَحۡیٖ نِسَآءَہُمۡ ؕ اِنَّہٗ کَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿۴﴾

یقیناً فرعون نے زمین میں سرکشی کر رکھی تھی  اور وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا اور ان میں سے ایک فرقہ کو کمزور کررکھا تھا    اور ان کے لڑکوں کو تو ذبح کر ڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا بیشک و شبہ وہ تھا ہی مفسدوں میں سے ۔  

Surat No 30 : Ayat No 32 
مِنَ الَّذِیۡنَ فَرَّقُوۡا دِیۡنَہُمۡ  وَ کَانُوۡا شِیَعًا ؕ کُلُّ حِزۡبٍۭ بِمَا لَدَیۡہِمۡ فَرِحُوۡنَ ﴿۳۲﴾

 ان لوگوں میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور خود بھی گروہ گروہ ہوگئے  ہر گروہ اس چیز پر جو اس کے پاس ہے مگن ہے ۔  
2۔۔۔اہل اور نسب کے لیے جیسے ارشاد باری تعالی ہے 

Surat No 28 : Ayat No 15 
وَ دَخَلَ الۡمَدِیۡنَۃَ عَلٰی حِیۡنِ غَفۡلَۃٍ مِّنۡ اَہۡلِہَا فَوَجَدَ فِیۡہَا رَجُلَیۡنِ یَقۡتَتِلٰنِ ٭۫ ہٰذَا مِنۡ شِیۡعَتِہٖ وَ ہٰذَا مِنۡ عَدُوِّہٖ ۚ فَاسۡتَغَاثَہُ  الَّذِیۡ مِنۡ شِیۡعَتِہٖ عَلَی الَّذِیۡ مِنۡ عَدُوِّہٖ ۙ فَوَکَزَہٗ مُوۡسٰی فَقَضٰی عَلَیۡہِ ٭۫ قَالَ ہٰذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ ؕ اِنَّہٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۵﴾

 اور موسیٰ  ( علیہ السلام )  ایک ایسے وقت شہر میں آئے جبکہ شہر کے لوگ غفلت میں تھے  یہاں دو شخصوں کو لڑتے ہوئے پایا ، یہ ایک تو اس کے رفیقوں میں سے تھا اور  یہ دوسرا اس کے دشمنوں میں سے ، اس کی قوم والے نے اس کے خلاف جو اس کے دشمنوں میں سے تھا اس سے فریاد کی ،  جس پر موسیٰ ( علیہ السلام ) نے اس کے مکا مارا جس سے وہ مر گیا موسیٰ ( علیہ السلام ) کہنے لگے یہ تو شیطانی کام ہے  یقیناً شیطان دشمن اور کھلے طور پر بہکانے والا ہے ۔  
3۔۔۔اہل ملت کے لیے جیسے ارشاد باری تعالی ہے 

Surat No 19 : Ayat No 69 
ثُمَّ  لَنَنۡزِعَنَّ مِنۡ کُلِّ  شِیۡعَۃٍ اَیُّہُمۡ اَشَدُّ عَلَی الرَّحۡمٰنِ عِتِیًّا ﴿ۚ۶۹﴾

 ہم پھر ہر ہر گروہ سے انہیں الگ نکال کھڑا کریں گے جو اللہ رحمٰن سے بہت اکڑے اکڑے پھرتے تھے ۔ 

 Surat No 54 : Ayat No 51 
وَ لَقَدۡ  اَہۡلَکۡنَاۤ   اَشۡیَاعَکُمۡ فَہَلۡ مِنۡ مُّدَّکِرٍ ﴿۵۱﴾

 اور ہم نے تم جیسے بہتیروں کو ہلاک کر دیا ہے  پس کوئی ہے نصیحت لینے والا ۔  

Surat No 34 : Ayat No 54 
وَ حِیۡلَ بَیۡنَہُمۡ وَ بَیۡنَ مَا یَشۡتَہُوۡنَ کَمَا فُعِلَ بِاَشۡیَاعِہِمۡ مِّنۡ قَبۡلُ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا فِیۡ شَکٍّ مُّرِیۡبٍ  ﴿۵۴﴾٪          

 ان کی چاہتوں اور ان کے درمیان پردہ حائل کر دیا گیا  جیسے کہ اس سے پہلے بھی ان جیسوں کے ساتھ کیا گیا وہ بھی  ( انہی کی طرح ) شک و تردد میں ( پڑے ہوئے ) تھے 

Surat No 37 : Ayat No 83 
وَ  اِنَّ مِنۡ شِیۡعَتِہٖ  لَاِبۡرٰہِیۡمَ ﴿ۘ۸۳﴾

صفحہ 2 از 5