لفظ شیعہ کےاصطلاحی معنی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

لفظ شیعہ کےاصطلاحی معنی

  توقیر احمد

صفحہ 4 از 4

ترجمہ متعلقہ۔۔اوراسی یعنی امام باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ تحقیق رسول اللہ کا انتہائی حرص تھا کہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد علی رضی اللہ  لوگوں پر خلیفہ مقرر ہو حالانکہ اللہ کے نزدیک فیصلہ آپ کے ارادے کے خلاف تھا پس اللہ تعالی نے آپ کو فرمایا اے محمد خلافت علی کے معاملے میں تیرے ہاتھ میں کوئی چیز نہیں ہے یہ معاملہ میرے سپرد ہے یعنی خلافت کا فیصلہ علی کے بارے میں ہو یا کسی اور کے بارے 
اس کے بعد مفسر لکھتا ہے میں کہتا ہوں کہ ان یکون علی من بعدہ علی الناس کا معنی ہے کہ علی   لوگوں پر خلیفہ مقرر ہوں بغیر کسی رکاوٹ کے لیکن اللہ کا ارادہ اس کے خلاف تھا کہ جس کو چاہوں خلافت عطا کروں علی کو یا کسی اور کو
تفسیر الصافی ج 1/379
تفسیر العیاشی ج1/179
تفسیر فرات الکوفی ص93
تفسیر الآصفی ج 1/179
العیاشی ج1/198
الکافی ج2/288
البیضاوی ج2/43
مجمع البیان ج1/500۔501
تفسیر نورالثقلین ج1/288
کنز الدقائق ج2/222
البرھان فی تفسیر القران ج1 /314 
مستدرک سفینة البحار ج1/324
تاویل آیت الظاہرہ ج1/199 ۔362
تاویل مانزل من القران فی النبی وآلہ ج14/7
غایة المرام وحجِةالخصام ج4/13
تاویل الآیات ج2/235
٢۔ ۔۔اسی لئے ایک زیدی فرقہ سلمانیہ(سلمانیہ ایک زیدی فرقہ ہے جو سلیمان ابن جریر الزیدی کی طرف منسوب ہےاکثر مولفین اسے سلمانیہ کے نام سے ذکر کرتے ہیں مقالات الاسلامیین جلد 1 صفحہ 143 اعتقادات فرق المسلمین ‏78۔الملل والنحل جلد 1 صفحہ 160 التبصیر فی الدین صفحہ71بعض مولفین نے اسے جریریہ نام سے بھی موسوم کیا ہے الخطط للمقریزی جلد 2 صفحہ 352نیز الفرق بین الفرق صفحہ22المنیةالامل ص143نے دونوں ناموں سے موسوم کیا  ) کو شیعہ تسلیم نہیں کیا جاتا کیونکہ وہ خلافت علی کے لیے وصیت نبوی کے قائل نہیں بلکہ وہ کہتے ہیں کہ امامت ایک شورائی امر ہےجودو نیک مسلمان مردوں کے قائم کرنے سے بھی درست ہوتی ہے اور یہ کبھی افضل کی موجودگی میں مفضول کے لیے بھی درست ہوتی ہے یہ لوگ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت کو بھی صحیح سمجھتے ہیں 
 مقالات اسلامیین جلد 1 صفحہ 142  
٣۔۔۔ان نظریات  کے حامل فرقوں کوشیعت سے خارج بلکہ انہیں ناصبی قرار دیتے ہیں بلکہ نواصب سے بھی بدتر قرار دیتے ہیں  
(شیعہ نواصب کا ایک مختلف مفہوم بیان کرتے ہیں کہ جو شخص صرف ابوبکر و عمر سے محبت رکھتا ہے وہ بھی شیعہ کے نزدیک ناصبی بلکہ جو شخص سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ پر مقدم وا فضل رکھتا ہے وہ بھی ان کے نزدیک ناصبی  ہے )
طوسی التہذیب جلد 1 صفحہ 363 
الوسائل جلد 4 صفحہ 288 
السرائر صفحہ 471 
۴۔۔۔۔زیدی فرقے سلیمانیہ ۔صالحیہ۔ بتریہ( صالحیہ حسن بن صالح بن حی کے اتباع ہیں ۔بتریہ کثیر النوی الابتر کے متبعین ہیں یہ لوگ رجعت کے منکر ہیں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو اس وقت خلیفہ و امام تسلیم کرتے ہیں جب لوگوں نے ان کی بیعت کی تھی  مقالات الاسلامیین جلد 1 صفحہ 144 ۔الملل النحل جلد 1 صفحہ 161 )کو بھی نواصب سے بدتر شمار کیا جاتا ہے 
چوتھی تعریف
جو شخص یہ ایمان رکھتا ہے کہ علیؓ ہی  تصریح نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق خلیفہ تھے صرف اس پر شیعہ نام کا اطلاق ہوتا ہے 
محمد جواد مغنیۃ ۔الشیعۃ فی المیزان صفحہ 15 
تعریف جامع ومانع نہیں
یہ تعریف بھی شیعہ کو جامع اور مانع نہیں ہے کیونکہ شیعہ محققین و مفسرین ومحدثین نے خود اس کی مخالفت فرمائی ہے 
١۔ ۔۔ خلافت اللہ تعالی کے رازوں میں سے ایک راز تھا جس کا کبھی بھی اعلان نہیں کیا گیا یہ راز صرف اللہ رب العزت نے اپنے نبی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ میرے بعد ابوبکر خلیفہ بلافصل بنے گا اور اس کے بعد عمرؓ خلیفہ بنے گااور ہوا بھی ایسا ہی 
تفسیر قمی ج2 /376
ترجمہ مقبول ص 894
تفسیر نور الثقلین ج5 /367
تفسیرکبیرمنہج الصادقین فی الزام المخالفین
ج9 /331/332/334
تفسیر الصافی ج5 /154
البرھان فی تفسیر القران ج4 /352
مجمع البیان فی تفسیرالقران ج10/314
تفسیر البصائر 
کتاب الاربعین ج2 /106
مستدرک سفینة البحارج4 /155
آیت۔ ۔۔۔ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ ۖ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ ۚ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
٢۔ ۔قابل غور بات یہ ہے کہ مسئلہ وصیت خلافت جدید و قدیم ہر دور میں بڑی توجہ کا حامل رہا ہے یہاں تک کہ کلینی نےاپنی کتاب الکافی میں مسئلہ نص سے متعلق 13 ابواب قائم کیے ہیں اس میں اس نے 109 احادیث ذکر کی ہیں اور بے انتہا تضادات پائے جاتے ہیں 
 ٣۔ ۔ایک طرف تو وصیت خلافت میں انتہا کی مبالغہ آرائی کی گئی ہے جبکہ دوسری طرف مقدمہ شیعت کے مصنف نے  اماموں کا خلیفہ نہ بنناحکمت خداوندی لکھا ہے
۴۔ ۔۔ عہد حاضر میں ایک رافضی نے خلافت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے سلسلہ میں اثبات الوصیت سے متعلق جن روایات سے استدلال کیا ہے ان میں سے ایک روایات غدیر کے بارے میں اس نے 16 جلدوں میں ایک کتاب الغدیر(عبدالحسین الامینی النجفی)  کے نام سے تالیف کی ہے
اسی طرح شیعہ کے دوسرے عقائد جیسے مسئلہ رجعت ہے اس کے بارے میں انہوں نے اپنی احادیث میں کہا ہے کہ جو شخص ہمارے عقیدہ رجعت پر ایمان نہیں رکھتا وہ ہم میں سے نہیں ہے 
الفقیہ جلد 3 صفحہ 291 
وسائل الشیعہ جلد 7 صفحہ 438 
تفسیر صافی جلد 1 صفحہ 348 
الانوار جلد 53 صفحہ 96 
ان تمام مبالغہ آرائیوں کے باوجود ان کی کسی تعریف میں میں بھی  ان عقائدکا ذکر تک موجود نہیں ہے
اسی طرح عقیدہ متعہ ہے اس کے بارے میں ان کا عقیدہ ہے کہ جو شخص ہمارے متعہ کو حلال نہیں سمجھتا وہ ہم میں سے نہیں ہے 
نتیجہ۔ معلوم ہوا کہ شیعہ قوم اپنے مذہب کی تعریف کے سلسلے میں کسی معقول اور صحیح منہج پر گامزن نہیں ہے بلکہ انتہا درجے کے تضادات کا شکار ہے جوکہ سلجھائے نہیں سلجھتے 
۵۔۔احزاب آیت 72 
البصائر میں جناب امام محمد باقر سے منقول ہے امانت سے مراد ولایت ہے آسمان و زمین اور پہاڑ اس کے حاصل ہونے یعنی اٹھانے سے انکار کیا  اور یہ جو فرمایا کہ حملہ الانسان یہاں انسان سے مراد ابوبکر ہے 
المعلم جناب امام جعفر صادق سے منقول ہے کہ امانت سے مراد امامت ہے اور انسان سے مراد ابو شرور منافق ہے 
ترجمہ مقبول صفحہ 682 سورہ البصائر میں جناب امام محمد باقر سے منقول ہے امانت سے مراد ولایت ہے آسمان و زمین اور پہاڑ اس کے حاصل ہونے یعنی اٹھانے سے انکار کیا  اور یہ جو فرمایا کہ حملہ الانسان یہاں انسان سے مراد ابوبکر ہے 
المعلم جناب امام جعفر صادق سے منقول ہے کہ امانت سے مراد امامت ہے اور انسان سے مراد ابو شرور منافق ہے 
ترجمہ مقبول صفحہ 682 سورہ احزاب آیت نمبر 72 
تفسیر المتقین صفحہ 554  سورہ احزاب آیت 72 
تفسیر صافی بحوالہ عیون الاخبار معانی الاخبار صفحہ 411 وو
تفسیر صافی جلد 4 ۔207 ۔
تفسیر نور التقلین جلد 4 صفحہ 312 صفحہ 314 
البرہان فی تفسیر القرآن جلد 3 صفحہ 341 اور صفحہ 342 
تفسیر المیزان جلد 16 صفحہ 532 
تفسیر نمونہ جلد 9 صفحہ752 
تفسیر قمی سورہ احزاب آیت 72 
تفسیر ضیاء الایمان صفحہ 681 سورہ احزاب آیت 72 
اصول کافی باب 107 جلد 1 صفحہ 509 
پانچویں تعریف 
احمد بن علی بن احمد بن عباس بن محمد النجاشی 450ھ
شیعہ کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں
شیعہ وہ ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول کسی امر میں لوگ اختلاف کرے تو وہ علی رضی اللہ تعالی عنہ کے قول کو اختیار کرتے ہیں اور جب لوگ علی رضی اللہ تعالی عنہ سے منقول کسی امر میں اختلاف کریں تو وہ شیعہ جعفر بن محمد کے قول کو اختیار کرتے ہیں 
رجال النجاشی ص 5
تعریف جامع اور مانع نہیں  
١۔۔۔۔شیعہ عقائد و نظریات کا کوئی تذکرہ تعریف میں نہیں ہے 
٢۔ ۔حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ  اور حضرت جعفر بن محمد رحمہ اللہ کے علاوہ کسی امام کا تذکرہ نہیں ہے 
٣۔۔۔اس تعریف کی رو سے جعفر ابن محمد کے اقوال حتمی ہونے چاہیے  لیکن شیعہ ان کی مرویات و اقوال سے اختلاف کرتے ہیں 
۴۔ ۔۔اس تعریف میں اسلامی نظریہ سے بغاوت کی گئی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ افضل ہیں 
اور جعفر ابن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ دونوں سے زیادہ افضل اور معتبر ہیں 
  ۵۔۔۔جب لوگ جعفر ابن محمد کی مرویات واقوال سے اختلاف کریں تو کس کی پیروی کریں 
چھٹی تعریف
شیعان علی رضی اللہ عنہ تو صرف وہ ہیں جن کا پیٹ اور شرمگاہ پاکیزہ ہوتی ہے وہ عبادت میں بڑی کوشش کرتے ہیں اپنے خالق حقیقی کے لئے ہر عمل کرتے ہیں اسی سے ثواب کی امید رکھتے اور اسی کے عذاب سے ڈرتے ہیں پس جب تو انہیں دیکھیں تو یہی لوگ شیعان جعفر ہیں
سفینة البحار جلد 1 صفحہ732  
ساتویں تعریف
تم طرح طرح کے نظریات و عقائد کا شکار نہ بنو اللہ کی قسم ہمارے شیعہ تو صرف وہی ہیں جو اللہ جل شانہ کی اطاعت کرتے ہیں 
الکافی ایک صفحہ 73 
آٹھویں تعریف
ابوحاتم رازی جو کبار اسماعیلی مبلغین میں سے ہیں کہتےہیں 
شیعہ اس گروہ کا لقب ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ ہی میں امیر المومنین علی بن ابی طالب صلواۃ اللہ علیہ کے ساتھ محبت و الفت میں معروف ہوگئے جیسے سلمان فارسی ابوذرغفاری مقداد بن اسود اور عمار بن یاسر ہیں انہیں شیعان علی اور اصحاب علی کے نام سے پکارا جاتا تھاپھر یہ ہر اس گروہ کا لقب بن گیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آج تک علی رضی اللہ عنہ کی دوسروں پر فوقیت کا قائل ہے پھر اس ایک گروہ سے بہت زیادہ فرق نمودار ہوئے جو مختلف ناموں اور متعدد القابات سے موسوم ہوئے جیسے رافضہ زیدیہ کیسانیہ وغیرہ لقب ہیں یہ سب لوگ اپنے اپنے مذاہب اور آراء میں اختلاف کے باوجود ایک ہی لفظ شیعہ میں داخل ہیں 
الزینہ صفحہ 659 
نوویں تعریف
 ابوالحسن اشعری کے نزدیک شیعہ کی تعریف ابو الحسن اشعری کہتے ہیں 
انہیں اس لئے شیعہ کہا گیا ہے کیونکہ انہوں نے علی رضی اللہ عنہ کی اطاعت گذاری اختیار کی اور وہ انہیں دیگر تمام اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر فوقیت دیتے ہیں 
المقالات الاسلامیہ جلد 1 صفحہ 65
الصلة بین التصوف و التشیع  صفحہ-20 
دسویں تعریف
ابن حزم فرماتے ہیں جو شخص اس امر میں شیعہ کی موافقت کرتا ہے کہ یقینا علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تمام لوگوں سے افضل ہیں اور ان سب سے زیادہ امامت و خلافت کا حق رکھتے ہیں اور ان کے بعد ان کی اولاد خلافت کی سب سے زیادہ حقدار ہے تو وہ شیعہ ہے اگرچہ اس کے علاوہ دیگر  مسائل میں شیعہ کی مخالفت کرتا ہے جن میں مسلمانوں کے مابین اختلاف ہے لیکن اگر وہ ہمارے ذکر کردہ شیعہ عقائد میں شیعہ سے اختلاف رکھتا ہے تو وہ قطعاً شیعہ نہیں ہے 
الفصل جلد 2 صفحہ 107
الملل والنحل صفحہ-10 جلد2  
گیارہویں تعریف
علامہ شہرستانی فرماتے ہیں 
شیعہ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے بالخصوص علی رضی اللہ عنہ کی معاونت اور متابعت کی اور وہ صراحت نبوی کے مطابق خواہ وہ جلی ہویامخفی ان کی خلافت و امامت کے قائل ہیں نیز وہ لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ کسی بھی حال میں امامت اولاد علی رضی اللہ سےخارج نہیں ہوتی اور اگر خلافت ان سے کبھی نکلی تو یا تو وہ کسی دوسرے کے ظلم و زیادتی کی بنا پر ہوگی یا پھر خود انکی طرف سے تقیے کی بنا پر ایسا ہوگاوہ کہتے ہیں کہ امامت کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس کا تعلق مصلحت سے ہو اور عام لوگوں کے اختیار و انتخاب پر موقوف ہو اور ان کے امام مقرر کرنے سے کوئی امام بن جائے بلکہ یہ ایک اصولی معاملہ اور دین کا بنیادی رکن ہے جس سے چشم پوشی کرنا انبیاء و رسل کے لئے جائز نہیں ہے اور نہ اسے عام لوگوں کے سپرد کرنا اور معلق رکھنا ہی روا ہے ان سب لوگوں شیعہ فرقوں کو یہ امر متحد کرتا ہے کہ خلافت کے تعیین اور وصیت کرنا واجب ہے انبیاء اور ائمہ کا معصوم ہونے کا عقیدہ رکھنا اور ولاء اور براء کا قولا فعلا اور عقیدتا تقیہ کی حالت کے سوا قائل ہونا ضروری ہےالبتہ بعض زیدی فرقہ چند عقائد میں ان کی مخالفت کرتے ہیں    
الملل والنحل جلد 6 صفحہ 146 
بارہویں تعریف
علامہ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں کہ شیعہ حضرت علی رضی اللہ عنہ  کی محبت اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر ان کو فوقیت دینے کا نام ہے لہذا جس نے ان کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ پر فوقیت دی وہ شیعت میں غالی ہےاور اسے رافضی بھی کہا جاتا ہے اور اگر ایسا نہیں یعنی حضرت علی کو ان پر فوقیت نہیں دیتا تو وہ شیعہ ہے لیکن اگر وہ حضرت علی کی محبت کے ساتھ دوسروں پر سب و شتم کرتا ہے یا کھل کر بغض کا اظہار کرتا ہے تو وہ رفض میں غالی ہےاور اگر اس کے ساتھ دنیا میں ان کی رجعت کا بھی قائل ہے تو یہ غلو میں اور زیادہ سخت ہے 
مقدمہ فتح الباری صفحہ 459 


صفحہ 4 از 4