لفظ شیعہ کےاصطلاحی معنی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

لفظ شیعہ کےاصطلاحی معنی

  توقیر احمد

صفحہ 2 از 4

جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا ۔  
یعنی اللہ تعالی کے ہاں اصل دین اسلام ہے نہ کہ تشیع
٧۔ ۔۔ عہد نبوی میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین صرف ایک جماعت اور ایک گروہ تھے جن کا تشیع اور اتباع صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص وممیز تھا 
دوسری تعریف
معروف شیعہ عالم محمد بن محمد بن نعمان العکبری المفید (413 ھ) لفظ شیعہ کا اطلاق امیرالمومنین علیہ الصلاۃ والسلام کے ان متبعین پر ہوتا ہے جو ان سے محبت ولاء (ولایت کے لفظی معنی سرپرستی اور حق تصرف کے ہیں اور شیعہ اصطلاح میں عموماً ولایت یعنی معصومین (ع)  کا خداوند کی طرف سے مومنین کا سرپرست ہونا ہے۔ ولایت کامل کے لیے چار وصف ہیں: ولایت تشریعی، ولایت تفسیری، ولایت تکوینی، ولایت سیاسی۔)کا تعلق اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ بلا فصل ہیں اور ان سے پہلے خلافت پر متمکن ہونے والے اشخاص سے امامت اور خلافت کی نفی کرتے ہیں اور وہ یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ ان سب صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کے مقتداءمتبوع امام تھے وہ ان میں سے کسی اور کی اقتدا کی صورت میں اطاعت کرنے والے نہیں تھےپھر یہ مولف ذکر کرتا ہے کہ اس تعریف میں فرقہ امامیہ اور زیدیہ فرقہ جارودیہ شامل ہیں البتہ دیگر زیدی فرقہ اس تعریف کی رو سے شیعہ ہیں نہ انہیں یہ شیعی امتیاز اور تشخص حاصل ہے 
اوائل المقالات صفحہ 39 
تعریف جامع ومانع نہیں ہے 
١۔ ۔۔مفید کی اس تعریف میں اولاد علی رضی اللہ عنہ کی امامت پر ایمان رکھنے کا کوئی ذکر نہیں ہے حالانکہ ان لوگوں کا نظریہ ہے کہ جو شخص یہ عقیدہ نہیں رکھتا وہ شیعہ کہلانے کا حق دار نہیں ہے اسی طرح اس تعریف میں تشیع کےبعض ایسے اساسی پہلو کی صراحت سے بھی چشم پوشی کی گئی ہے جن سے فرقہ شیعہ متصف ہے 
مثال۔ مسئلہ وصیت ۔عصمت ائمہ وغیرہ جو اہل تشیع کے اصول و عقائد میں شامل ہیں 
٢۔ ۔۔اس تعریف میں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ مفید نے صراحت کی ہے کہ معتدل زیدی فرقہ شیعہ ہیں نہ ان پر یہ وصف تشیع صادق آتا ہے ہاں البتہ اس کی نظر میں صرف ایک غالی زیدی فرقہ جارودیہ (جارودیہ ایک زیدی فرقہ ہے جو ابوالجارود زیاد بن منذر ہمدانی الکو فی الاعمی کی طرف منسوب ہے اس ابوالجارود سے متعلق امام ابوحاتم فرماتے ہیں رافضی تھا  جو اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عیوب و نقائص میں احادیث بنا بنا کر لوگوں کو سنایا کرتا تھا فرقہ جارودیہ کا نظریہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعین وتسمیہ کے بغیر خلافت علی کی طرف اشارے اور بعض اوصاف کے ذریعے وصیت فرمائی تھی لیکن امت گمراہی کا شکار ہوگئی اور امر خلافت کسی دوسرے کو سونپ کر کفر کی مرتکب ہوگئی 
تفصیل دیکھیے رجال کشی میں صفحہ  151,229,230اس کتاب میں ابوالجارود کی مذمت میں چھ روایات منقول ہیں جن میں سے بعض مرویات میں اسےکذاب اور کافر تک کہا گیا ہے لیکن مفید اسے شیعہ گردانتے ہیں کیونکہ اس کی تعریف کی رو سے شیعہ سے مراد یہی غلو آمیز عقیدہ ہے 
الفہرست صفحہ 192 
جامع الرواة جلد 1 صفحہ 339 
الکنی والالقاب جلد 1 صفحہ 30 
تہزیب التہذیب جلد 3 صفحہ 386
المقالات والفرق صفحہ-18 
فرق الشیعہ صفحہ 21 
نشوان حورالعین صفحہ 156 
خطط والاثارجلد 2 صفحہ 352 
الملل والنحل جلد 1 صفحہ 159 
التنبیہ والرد صفحہ 30 
المنیه والامل  صفحہ-20 ۔90
مقالات الاسلامیین جلد 1 صفحہ 140 
   شیخ مفید نے اپنی اس تعریف میں تمام غالی فرقوں کے لیے تشیع کا دروازہ کھول دیا 
٣۔ ۔۔۔اسی طرح شیعہ المفید کا تعریف میں یہ کہنا ۔وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ (علی رضی اللہ عنہ)حقیقت   میں ان سب( صحابہ کرام )کے متبوع امام تھے اور اقتداء کی صورت میں ان
(خلفاےثلاثہ) میں سے کسی کے تابع نہیں تھے اس میں شیعہ مذہب کے ایک بنیادی عقیدے تقیہ کی طرف اشارہ ہے کیونکہ شیعہ کے نزدیک علی  رضی اللہ عنہ صرف ظاہری طور پر خلفائے ثلاثہ کے اطاعت گزار تجبکہ باطن میں وہ ان کے متبوع امام تھے لہذا شیعہ عالم مفید اور شیعہ کی نظر میں خلفائے ثلاثہ کے حق میں علی رضی اللہ عنہ کی بیعت واطاعت کی خاطر نہ تھی بلکہ وہ تقیہ کے طور پر دلی اعتقاد کے بغیر محض ظاہری طور پر ان کی موافقت تھی  
۴۔ ۔۔مذکورہ بالا تعریف میں مفید کا یہ کہنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت علی بلافصل کا اعتقاد رکھنا تو اس کی بنیاد خلفائے ثلاثہ کی صحت خلافت سے شیعہ کا انکار ہے اسی شیعہ عالم مفید نے اس بات کو اپنی ایک دوسری کتاب (مقدمۃ الارشاد صفحہ 8 )میں زیادہ تفصیل کے ساتھ اس طرح بیان کیا ہے امیرالمومنین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد 30 سال خلیفہ اور امام تھے اس مدت کے دوران میں چوبیس سال اور 6 مہینے تو اقتدار اور تصرف پر بظاہر قادر نہیں تھے اور اس دوران میں تقیہ اور مصلحت سے کام لیتے رہے پھر وہ پانچ سال اور 6 مہینے منافقین جن میں ناکثین قاسطین اور مارقین شامل تھے (معانی الاخبارصفحہ 204 ۔۔۔سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے مدینے میں علی کی بیعت کی اور بصرہ جاکر اسے توڑ دیا ناکثین ۔قاسطین ۔۔سے مراد معاویہ اور ان کے شامی اصحاب ہیں ۔مارقین۔ سے مراد خوارج ہیں )میں مصروف جہاد رہے نیز کئی گمراہ لوگوں کے فتنوں سے دوچار اور ان کے فساد سے نبرد آزما رہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نبوت کے تیرہ سال(ثلاث عشر سنة۔ ۔۔ثلاث عشرةسنة)  تصرف و اقتدار سے محروم اور ڈرے ہوئے قیدی کی طرح ادھر ادھر بھاگ کر بیچارگی کی زندگی بسر کرتے رہےاور اس دوران میں کفار کے خلاف جہاد اور مسلمانوں کا دفاع کرنے پر قادر نہیں تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی اور مدینے میں اقامت کے دوران مشرکین کے خلاف جہاد میں مشغول اور منافقین کی سازشوں میں مبتلار ہے حتی کہ وفات پا گئےاور اللہ تعالی نے آپ کو نعمتوں والی جنت میں جا ٹکرایا 
الارشادصفحہ 12 
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ مفید کی نظر میں صرف وہ شخص شیعہ کہلانے کا حقدار ہے جو یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ علی بن ابی طالب کی خلافت وفات رسول اللہ علیہ وسلم  سے لے کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی وفات تک تھی 
شیعہ عالم عبداللہ شبر مذہب شیعہ کی تعریف میں اس بات کی تاکید کرتے ہوئے کہتا ہے جان لو لفظ شیعہ کا اطلاق صرف اس شخص پر ہوتا ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ کے خلیفہ بلافصل ہونے کا معتقد ہے حق الیقین جلد 1 صفحہ 195 
(شیعہ کے حضرت علی کے بارے میں خلیفہ بلا فصل ہونے کے تین دعوے ہیں دعوت ذوالعشیرہ کے موقع پر
تفسیر قمی ج2/124
صافی ج4/56
مجمع البیان ج8/355
ترجمہ مقبول 748
 ۔غدیرخم کے موقع پر
تفسیر المتقین ص153
تفسیر انوارالنجف ص139تا144
تفسیر الصافی ج1/10
 ۔اور رجعت کے بعد
حق الیقین ص354 
عقائد اثنا عشریہ ص49
تفسیر نمونہ ج8/726 )
جب خلفائے ثلاثہ کی خلافت و امارت درست نہیں تو اس تعریف کی رو سے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صرف تین صحابہؓ پر شیعت کا اطلاق درست قرار پایا ہے جبکہ دیگر صحابہ شیعہ کی نظر میں معاذاللہ ان مشرکین کی مانند ہیں جو عہد رسالت میں موجود تھے نیز ان کی حکومت ایک کفریہ حکومت ہے اس کے دوران میں علی رضی اللہ عنہ علیہ اور نفاق کے پردے میں چھپ کر زندگی بسر کرتے رہے 
خود فیصلہ کیجئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ناکام نبی اور رسول کون گزرا معاذاللہ ۔اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ حق کو چھپاتے رہے اور باطل کا ساتھ دیتے رہے مصلحت کی خاطر معاذاللہ اللہ رب العزت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اسلام کی اس سے بڑھ کر کیا گستاخی ہو سکتی ہے 
  تیسری تعریف  
مفید اگرچہ شیعہ کی تعریف میں مسئلہ وصیت خلافت کی صراحت نہیں کرتا لیکن ایک دوسرا شیعہ عالم طوسی (ابوجعفر محمد بن الحسین بن علی الطوسی ۔تہذیب الاحکام ۔الاستبصار کامولف) (389ھ۔ 460ھ) شیعیت کی تعریف میں یہ عقیدہ رکھنا ضروری قرار دیتا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ اللہ تعالی کی خلافت وصیت  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق مسلمانوں کے خلیفہ تھے معلوم ہوا طوسی وصیت خلافت کو شیعی مذہب کی بنیاد قرار دیتا ہے 
تعریف جامع اورمانع نہیں 

صفحہ 2 از 4