شيخ احمد سرہندی حضرت مجدد الف ثانی رحمۃاللہ علیہ کا فتویٰ -…

شيخ احمد سرہندی حضرت مجدد الف ثانی رحمۃاللہ علیہ کا فتویٰ


روافض زندیق ہے، ان کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں

اس میں شک نہیں کہ شیخین (سیدنا صدیقِ اکبرؓ و سیدنا فاروقِ اعظمؓ) اکابر صحابہؓ میں سے ہیں بلکہ افضل الصحابہؓ ہیں، پس ان کو کافر ٹھہرانا بلکہ ان کی تنقیص کرنا کفر و زندقہ اور گمراہی کا باعث ہے۔

محیط میں امام محمدؒ فرماتے ہیں کہ رافضیوں کے پیچھے نماز جائز نہیں، کیونکہ وہ خلافت سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے منکر ہیں، حالانکہ صحابہ کرامؓ کا آپؓ کی خلافت پر اتفاق ہے۔

خلاصہ میں کہ جو سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی خلافت کا انکار کرے وہ کافر ہے، اور ہر صاحبِ خواہش اور صاحبِ بدعت کے پیچھے نماز مکروہ ہے اور رافضیوں کے پیچھے بھی نماز جائز نہیں۔

پھر صاحبِ خلاصہ کہتے ہیں کہ ہر وہ خواہش جو کفر کی حد تک پہنچا دے اُس خواہش والے کے پیچھے نماز جائز نہیں، اگر کفر کی حد تک نہ پہنچائے تو نماز جائز ہے لیکن مکروہ۔ اور اصح قول پر یہی حکم اُس شخص کا ہے جو سیدنا فاروقِ اعظمؓ کی خلافت سے انکار کرتا ہے۔

لہٰذا جب ان دونوں حضرات کی خلافت سے انکار کفر ٹھہرا تو اُس کا کیا حال ہو گا جو ان کو گالی دے یا ان پر لعنت بھیجے؟

اس تقریر سے صاف ظاہر ہوا کہ شیعہ کو کافر ٹھہرانا احادیثِ صحاح کے مطابق اور طریق سلفؒ کے موافق ہے۔(رد روافض: صفحہ 38)