ایک مجلس کی تین طلاق احادیث صحیحہ اور آثار صحابہ رضی اللہ…

ایک مجلس کی تین طلاق احادیث صحیحہ اور آثار صحابہ رضی اللہ عنہم کی روشنی میں

  ابوطلحہ قاسمی خیرآبادی

صفحہ 5 از 5
  1.  مجاہد کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاق دیدی ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما خاموش رہے، مجاہد کہتے ہیں کہ میں نے سوچا کہ ابن عباس بیوی کو اس آدمی کے نکاح میں لوٹادیں گے، پھر ابن عباس نے کہا: تم لوگ حماقت کا کام کرتے ہو، پھر آکر چلاتے ہو اے ابن عباس، اے ابن عباس، اللہ فرماتا ہے: ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجاً، اور تم اللہ سے نہیں ڈرے اسلئے میرے یہاں تمہارے لئے کوئی سبیل نہیں ہے، تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور تمہاری بیوی تم سے جدا ہوگئی۔ (اخرجہ ابوداؤد: 219، والدارقطنی: جلد، 4 صفحہ، 13)
  2. حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاق دیدی، حضرت ابن عباس نے کہا: تمہارے لئے کافی تھا کہ تین طلاق دے دیتے اور بقیہ نو سو ستانوے ترک کر دیتے۔ (دارقطنی: جلد، 4 صفحہ، 12)
  3. مدینہ میں ایک مسخرے آدمی نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاق دیدی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس استفتاء آیا، آپ نے کہا – کہ کیا تم نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے، اس آدمی نے کہا نہیں، میری نیت طلاق – کی نہیں تھی میں تو مذاق کررہا تھا، حضرت عمر نے اس کو کوڑے لگائے اور کہا کہ تین طلاق دیناکافی تھا۔ (عبدالرزاق فی ”المصنف“ 11340، والبیہقی: جلد، 7 صفحہ، 334)
  4. ایک آدمی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاق دی ہے، آپ نے فرمایا: تین طلاق نے بیوی کو تم پر حرام کردیا۔ یعنی بقیہ نوسو ستانوے لغو ہوگئیں۔ (بیہقی: جلد، 7 صفحہ، 335)
  5. محمد بن ایاس کہتے ہیں کہ: ابن عباس، ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم تینوں سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو قبل الدخول طلاق دے دی، تینوں نے کہا: عورت اس کے لیے حلال نہیں ہے جب تک کہ دوسرے شوہر سے شادی نہ کر لے (ابوداؤد: 2199) بیہقی کی روایت میں یہ زیادتی ہے کہ : ابن عباس اور ابوہریرہ نے اس آدمی کی مذمت نہیں کی کہ اس نے تین طلاق کیوں دی اور نہ ہی عبداللہ بن عمرو نے یہ کہا کہ تین طلاق دے کر تم نے بہت برا کام کیا۔ (اخرجہ البیہقی: جلد، 7 صفحہ، 330)
  6. حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی تماضر بنت الاصبغ کو کلمہ واحدة (ایک مجلس میں) تین طلاق دیدی، عبدالرحمن کے شاگرد ابوسلمہ کہتے ہیں کہ کسی روایت سے ہمیں یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ کسی صحابی رسول نے آپ پر نکیر کی ہے۔ (دارقطنی: جلد، 4 صفحہ، 12)
  7. مسلمہ بن جعفر احمسی کہتے ہیں کہ میں نے اپنے استاذ جعفر بن محمد سے پوچھا کہ : بعض حضرات کہتے ہیں کہ جس نے نادانی میں بیوی کو طلاق دے دی تواس کو سنت کی طرف لوٹایا جائیگا، یعنی ایک طلاق واقع ہوگی اور اس بات کو آپ سے روایت کرتے ہیں۔ جعفر بن محمد نے کہا: اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، ہم نے اس طرح کی بات نہیں کہی ہے بلکہ جس نے تین طلاق دی تواس کے قول کا اعتبار ہوگا۔ یعنی تین طلاق واقع ہوگی۔ (اخرجہ الامام البیہقی: جلد، 7 صفحہ، 340)

طلاق ثلاثہ کے ان ناقابل تردید حقائق و شواہد کے باوجود، ایک مجلس کی تین طلاق کو ایک ماننے پر اصرار کے پس پردہ نفسانی خواہشات کی پیروی کے علاوہ اور کون جذبہ ہوسکتا ہے۔ اور اب تو مسلمانوں کا ایک روشن خیال طبقہ مسلم پرسنل لا میں تبدیلی کا مطالبہ بھی کرنے لگا ہے اور بڑے جذباتی انداز میں تین طلاق کے حکم کو کالعدم قرار دینے اور عورتوں کو طلاق کا حق دینے کی تحریک چلارہا ہے، ایسے تجدد پسندوں میں تقلید کے مخالفین نمایاں نظر آتے ہیں۔

اگر ایسے دانشور حضرات واقعی مسلمانوں کے ہمدرد ہوتے اور اسلام کی حقیقت پر دل سے ایمان رکھتے تو طلاق ثلاثہ کو ختم کرنے کا مطالبہ کرنے کے بجائے مسلمانوں میں دینی بیداری پیدا کرنے کی تحریک چلاتے کہ تین طلاق دینا اگرچہ جائز ہے لیکن اسلام نے اس حرکت کو مبغوض ترین عمل قرار دیا، اس جائز پر عمل نہ کرنا ہی افضل ہے کسی ایسے عمل کے جواز سے جس کی قباحت بھی واضح انداز میں بیان کردی گئی ہے بچنا اصل امتحان اور دینی بیداری کا ثبوت ہے، مگر جدید ذہن کے دانشوروں کو تو اسلام میں تحریف کرنے کا اتنا ارمان ہے کہ وہ کسی طرح سے بھی اسلام کو جدید نصرانیت سے ہم آہنگ کرنے کے مشتاق ہیں ان کو اسلام کی کاملیت اور جامعیت پر فخر نہیں بلکہ مغربیت کی نقالی کرنے اور اسلامی قوانین پر اعتراض کرکے اپنے آپ کو روشن خیال مسلمان ثابت کرنے کا جنون ہے۔

ان حضرات سے میری تو یہی گذارش ہے کہ رسماً اسلام کو تھامے رکھنے کے بجائے یہ نفس پرست مفکرین اپنا کوئی نیا راستہ ہی اختیار کرلیں نہ مسلمانوں کو ان کے مشوروں کی ضرورت ہے نہ اسلام کو ان کی حاجت ہے نہ ہی ایسے افراد مغربیت کیلئے موزوں ہیں اسلئے کہ خمیر میں ہندستانیت ہے، مزاج میں مغربیت ہے، زبان پر مسلمانوں سے ہمدردی اور دل میں لیڈرشپ اور اقتدار کی ہوس۔ یہ زرخرید ذہن والے صرف اخبار کی سرخیوں میں رہنے اور ملت کے نام پر فتنہ انگیزی میں مشغول رہنے کے شوقین ہیں۔ بہرحال یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ایسے افراد ہر دور میں گذرے ہیں۔

جہاں تک عورت کو حق طلاق دینے کی بات ہے تو اسلام نے کب منع کیا ہے، اگر آپ واقعی اتنے حساس ہیں تو اپنی بیوی کو حق طلاق تفویض کر دیجئے اپنے بچوں کو حکم دیں کہ وہ نکاح کرتے وقت اپنی بیوی کو طلاق دینے کا اختیار سونپ دیں۔ پھر عورت کی بالادستی کا یورپی منظر اپنے گھروں میں عملاً دیکھیں۔ انشاء اللہ ایک بھی عالم دین نہیں کہنے جائے گا کہ آپ نے عورت کو طلاق دینے کا حق کیوں دیدیا ہے۔

رہ گئی یہ بات کہ علماء کرام قانون بناکر عورتوں کو اسلام کی طرف سے طلاق دینے کا ویسا ہی حق دیدیں جیسا کہ یورپ میں یہ کورٹ میرج میں مرد و عورت دونوں کو ایک دوسرے کو طلاق دینے کا حق ہوتا ہے، تو اسلام بہر صورت ایسا حق عورتوں کو نہیں دے سکتا وہ مردوں کو قوام کہتا ہے تواس کے بعد عورتوں کو قوام بنانا خلاف فطرت بھی ہے اور خلاف عقل بھی ہے۔ پہلے یہ دانشوران قوم مرد و عورت کی تخلیقی حقیقت، مزاج و طبیعت کو سنجیدگی سے مطالعہ و تحقیق کے ذریعہ جانیں پھر اس موضوع پر لب کشائی کریں۔


صفحہ 5 از 5