ایک مجلس کی تین طلاق احادیث صحیحہ اور آثار صحابہ رضی اللہ…

ایک مجلس کی تین طلاق احادیث صحیحہ اور آثار صحابہ رضی اللہ عنہم کی روشنی میں

  ابوطلحہ قاسمی خیرآبادی

صفحہ 4 از 5

ترجمہ: حضرت سہل بن سعد کہتے ہیں کہ ان دونوں (عویمر اور ان کی بیوی) نے لعان کیا اور میں بھی لوگوں کے ساتھ حاضر خدمت تھا، جب میاں بیوی لعان سے فارغ ہوگئے تو عویمر نے کہا: اے اللہ کے رسول (…) ! اگر میں نے اس کو نکاح میں روک لیا تب تو میں نے اس پر غلط الزام لگایا ہے (اور الزام جھوٹا نہ ہونے کی وجہ سے) حضرت عویمر نے بیوی کو تین طلاق دیدی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حکم صادر ہونے سے پہلے ہی۔ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ عویمر نے بیوی کو تین طلاق دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تینوں کو نافذ بھی کر دیا۔

یہ حدیث اس بات پر نص ہے کہ حضرت عویمر نے لعان کے بعد ایک ہی مجلس میں تین طلاق دی تھی، جیسا کہ ظاہر لفظ سے پتہ چلتا ہے، لیکن اس پر اشکال یہ ہوتا ہے کہ لعان میں میاں بیوی کے درمیان جدائی نفس لعان سے ہو جاتی ہے طلاق دینے کی ضرورت نہیں ہے اس لیے جب عویمر اور ان کی بیوی لعان سے فارغ ہو گئے تو ان کے درمیان فرقت ہوگئی اب عویمر کا طلاق دینا غیر محل (اجنبیہ) میں تھا۔

(دیکھئے  نیل الاوطار: جلد، 4 صفحہ، 321 تحقیق عادل عبدالموجود و اصحابہ، مطبوعہ بیروت، طباعت، 200)

حافظ ابن حجر نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ اس حدیث سے ایک مجلس کی تین طلاق کے جواز پر استدلال اس بات سے ہے کہ جب حضرت عویمر نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک مجلس میں تین طلاق دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکیر نہیں فرمائی، اگر تین طلاق دینا (ایک مجلس میں) ناجائز اورحرام ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور نکیر فرماتے، قطع نظر اس سے کہ فرقت تو نفس لعان سے ہوگئی یا نہیں، ان کی بیوی محل طلاق تھی یا نہیں۔ (دیکھئے : فتح الباری: جلد، 9 صفحہ، 367)

 سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ جب حضرت علی  شہید کردئیے گئے تو حسن بن علی کی بیوی عائشہ خثعمیہ نے آکر حضرت حسن سے کہا: آپ کو خلافت مبارک ہو، حضرت حسن نے کہا: امیر المومنین کی شہادت پر مجھے مبارک باد دیتی ہے، جا! تجھے طلاق دیتا ہوں (ایک روایت میں تین طلاق کا ذکر ہے۔ دیکھئے : دارقطنی: جلد، 4 صفحہ، 30) اور حضرت حسن نے کہا: اگر میں نے اس کو طلاق بائن نہ دی ہوتی تو میں اس سے رجعت کرلیتا، مگر میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو آدمی اپنی بیوی کو تین طلاق دے ہر طہر میں ایک طلاق، یا ہر مہینے کے شروع میں ایک طلاق یا بیک وقت (ایک مجلس میں) تین طلاق دے تواس کے لیے وہ عورت حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ دوسرے شوہر سے نکاح کرلے۔ (اخرجہ الدارقطنی: جلد، 4 صفحہ، 31 والبیہقی: جلد، 7 صفحہ، 337)

اس روایت سے معلوم ہوا کہ اکٹھی تین طلاق دے چکنے کے بعد رجوع کرنا ایسا ہی حرام ہے جیساکہ متفرق طور پر تین طہر میں تین طلاقیں دینے کے بعد حرام ہے، اگر دفعة تین طلاقیں دینے کے بعد بھی رجوع کی کوئی امکانی صورت باقی ہوتی تو حضرت حسن ضرور مراجعت فرما لیتے۔

اس حدیث پر جو اعتراض کیاگیا ہے وہ بقول مولانا شمس الحق صاحب عظیم آبادی غیر مقلد یہ ہے کہ اس کی سند میں دو راوی ضعیف ہیں، پہلا راوی عمروبن ابی قیس ہے اور دوسرا راوی سلمہ بن فضل ہے اور یہ بھی ان کے بقول ضعیف ہے۔ (دیکھئے: التعلیق المغنی علی الدارقطنی: جلد، 4 صفحہ، 31)

لیکن غیرمقلد صاحب کا یہ اعتراض اصول حدیث کے پیش نظر کوئی وزن نہیں رکھتا اور مذکورہ حدیث حسن سے کسی طرح کم نہیں ہے؛ کیوں کہ عمروبن ابی قیس سے امام بخاری نے تعلیقاً روایت کیا ہے اور امام ابوداؤد، نسائی، ترمذی اور ابن ماجہ نے ان سے استدلال کیا ہے، ابن حبان اور ابن شاہین ان کو ثقات میں لکھتے ہیں اور امام بزار ان کو مستقیم الحدیث سے یاد کرتے ہیں۔ (ملاحظہ ہو: تہذیب التہذیب: جلد، 8 صفحہ، 94)

اسی طرح سلمہ بن فضل کی امام ابن معین نے ایک روایت میں توثیق کی ہے، علامہ ابن سعد ان کو ”ثقہ صدوق“ کہتے ہیں، امام ابوداؤد بھی ان کو ثقہ کہتے ہیں، امام احمد فرماتے ہیں کہ مجھے ان کے بارے میں خیر ہی معلوم ہے۔ (دیکھئے : تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد، 4 صفحہ، 153)

آثار صحابہ رضی اللہ عنہم

ایک مجلس کی تین طلاق کے جواز اور وقوع پر احادیث صحیحہ مرفوعہ سے استدلال کے بعداب ہم صحابہ کرام کے فتاویٰ اورآثار کو ذکر کررہے ہیں کہ صحابہ کرام نے مجلس کی تین طلاق کو ایک نہیں مانا ہے بلکہ تین مانا ہے اور وہ آثار درج ذیل ہیں:

صفحہ 4 از 5