ایک مجلس کی تین طلاق احادیث صحیحہ اور آثار صحابہ رضی اللہ…

ایک مجلس کی تین طلاق احادیث صحیحہ اور آثار صحابہ رضی اللہ عنہم کی روشنی میں

  ابوطلحہ قاسمی خیرآبادی

صفحہ 3 از 5

اس کے بعد بھی یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ اس تین طلاق سے کیا مراد ہے، ثلاث مجموعہ مراد ہے کہ ایک ہی مجلس میں تینوں طلاق دی تھی یا ثلاث مفرقہ مراد ہے کہ الگ الگ مجلس میں طلاق دی تھی، مجلس کی تین طلاق کا انکار کرنے والے ثلاث مفرقہ ہی مراد لیتے ہیں؛ لیکن امام بخاری کی تبویب سے معلوم ہوتا ہے کہ رفاعہ نے ایک مجلس میں تینوں طلاق دی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تینوں طلاق کے واقع ہونے کا فیصلہ فرمایا جیسا کہ حلالہ کی بات سے پتہ چلتا ہے، لہٰذا تین طلاق کے منکرین کی بات یہاں بھی غلط ثابت ہوگئی اور مجلس کی تین طلاق کا جواز اور ثبوت اس حدیث سے بھی ثابت ہوگیا۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے ”فتح الباری“: جلد، 9 صفحہ، 367 ، 468)

فاطمہ بنت قیس کہتی ہیں: طلقنی زوجی ثلاثًا وہو خارج الی الیمن فأجاز ذلک رسول اللہ صلی اللّہ علیہ وسلم (میرے شوہر حفص بن عمرو نے مجھے تین طلاق دیدی اور وہ یمن کے سفر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جائز یعنی نافذ قرار دیا) (اخرجہ ابن ماجہ، 2024)

اس روایت میں اضطراب دکھلانے کی بے جا کوشش کی جاتی ہے کہ بعض روایت میں ہے کہ پہلے فاطمہ کو دو طلاق دی گئی تھی پھرتیسری طلاق دی، اور بعض روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حفص نے طلاق البتہ دی تھی اور بعض روایت میں مطلق طلاق کا ذکر ہے تعداد کا ذکر ہی نہیں ہے۔ (دیکھئے: التعلیق المغنی علی الدار قطنی: جلد، 4 صفحہ، 11)

لیکن صحیح بات یہ ہے کہ حفص نے تین طلاق دیا تھا اور ایک ہی مجلس میں تینوں طلاق دیا تھا، اس لیے کہ دار قطنی کی روایت میں ہے کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کے پاس کچھ لوگوں نے ایک مجلس کی تین طلاق کے مکروہ ہونے کا تذکرہ کیا، ابوسلمہ نے کہا کہ حفص بن عمرو نے فاطمہ بنت قیس کو ایک مجلس میں تین طلاق دیا تھا لیکن کسی روایت سے ہمیں معلوم نہیں ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نکیر فرمائی ہو۔ (اخرجہ الدارقطنی: جلد، 4 صفحہ، 11)

الغرض مذکورہ روایت میں اضطراب نہیں ہے بلکہ دار قطنی کی روایت کی وجہ سے تین طلاق کی روایت کو ترجیح دی جائے گی اور حدیث مضطرب میں سے کسی ایک کو دوسرے پر راجح قرار دینے کے بعد اس کا اضطراب ختم ہو جاتا ہے، رہا یہ سوال کہ دارقطنی کی روایت کو ترجیح کیوں دی گئی تواس کا جواب یہ ہے کہ اس صورت میں اس کے الفاظ کا اختلاف ختم ہو جاتا ہے اور ان کے درمیان تطبیق ہو جائے گی ورنہ کم از کم دارقطنی کی روایت کو ترک کرنا پڑے گا اگر ترجیح کی کوئی دوسری صورت اختیار کی گئی۔

نیز امام ابن ماجہ کی تبویب سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ حفص نے ایک ہی مجلس میں تینوں طلاق دی تھی؛ موصوف اس حدیث پر یوں عنوان لگاتے ہیں: من طلق ثلاثًا فی مجلس واحد جس نے ایک مجلس میں تین طلاق دی،اور حضرت فاطمہ بنت قیس کی تطلیق کی مذکورہ روایت کو بہ سند ذکر کیا ہے۔

شروع میں حضرت ابن عمر کی تطلیق (طلاق دینے) کی جو حدیث گزری ہے اس کے بعض طرق میں حدیث کے آخر میں یہ الفاظ ہیں:

فقلت (ابن عمر): یا رسول اللّٰہ أرأیت لو أنی طلقتہا ثلاثًا أکان یحل لی أن أراجعہا؟ قال: لا، کانت تبین منسک، وتکون معصیة (اخرجہ البیہقی: جلد، 7 صفحہ، 334)

صحیحین کے الفاظ یہ ہیں:

وکان عبداللہ (بن عمر) اذا سئل عن ذلک قال: ان کنت طلقتَہا ثلاثا فقد حرمت علیک حتی تنکح زوجاً غیرہ․

بیہقی کی روایت کی وجہ سے یہ بات متعین ہوجاتی ہے کہ اس میں حضرت ابن عمر نے ثلاث مجموعہ کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ہے کہ کلمہ واحدہ میں تین طلاق دینے کے بعد رجعت کرنا درست ہے یا نہیں (یعنی تینوں طلاق واقع ہوگئی یا نہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا کہ اب رجعت نہیں کرسکتے؛ اس لیے کہ طلاق کے بعد رجعت کا حق ختم ہو جاتا ہے اور تین طلاق دینا (ایک مجلس میں) گناہ ہے۔

اس روایت میں ثلاث مجموعہ کے متعین ہونے کی وجہ یہ ہے کہ حضرت ابن عمر نے حالت حیض میں بیوی کو ایک طلاق دی، اور آپ کا ارادہ یہ تھا کہ حیض سے پاک ہو جانے کے بعد طہر میں پھر طلاق دوں گا پھر حیض سے پاک ہو جانے کے بعد تیسری طلاق دوں گا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حیض میں طلاق دینے پر نکیر فرمائی کہ تم کو پہلی طلاق حیض کے بجائے طہر میں دینا چاہئے تھا، سنت طریقہ یہی ہے، تم رجعت کرلو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنت طریقے کی وضاحت بھی فرما دی تاکہ بقیہ دو طلاق کے استعمال میں ابن عمر غلطی نہ کریں اگرچہ ان کا ارادہ پہلے ہی سے تھا کہ بقیہ دو طلاق طہر میں دوں گا۔ (امام ابن تیمیہ نے ”منتقی الاخبار“ میں ابن عمر کے تطلیق کے قصے میں دار قطنی کے حوالے سے جو حدیث ذکر کی ہے اس کا مفاد وہی ہے جو ابھی ہم نے ذکر کیا ہے۔ ملاحظہ ہو: منتقی الاخبار مع شرحہ نیل الاوطار: جلد، 4 صفحہ، 321 رقم 2852) اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ثلاث مفرقہ کا حکم خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہی حضرت ابن عمر کو بتا دیا تھا، دوبارہ ابن عمر جیسا شخص اس کے بارے میں پھر سوال کرے یہ ممکن نہیں ہے۔

بیہقی کی روایت پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس میں ایک راوی عطاء خراسانی ہے اور یہ ضعیف ہے لیکن صحیح بات یہ ہے کہ ابن معین، امام ابوحاتم، امام نسائی، دارقطنی اور ابن سعد وغیرہ نے ان کی توثیق کی ہے اور عطاء سنن اربعہ اور مسلم کے رجال میں سے ہیں، لہٰذا ان کو ضعیف کہنا غلط ہے۔ (دیکھئے تہذیب التہذیب: جلد، 7 صفحہ، 213 اور 214 ، عطاء خراسانی کا ترجمہ)

حضرت عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ کے لعان کی حدیث صحیحین وغیرہ میں ہے، اس حدیث کے آخر میں حاضر واقعہ حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:

فتلاعنا و أنا مع الناس عند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فلما فرغا قال عویمر: کذبت علیہا یارسول اللہ ان أمسکتہا، فطلقہا ثلاثًا قبل أن یأمرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

(بخاری، 5259 مسلم، 1492)

ابوداؤد کے الفاظ یہ ہیں:

فطلقہا ثلاث تطلیقات عند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فأنفذہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

(سنن ابی داؤد: حدیث، 2250)

صفحہ 3 از 5