ایک مجلس کی تین طلاق احادیث صحیحہ اور آثار صحابہ رضی اللہ…

ایک مجلس کی تین طلاق احادیث صحیحہ اور آثار صحابہ رضی اللہ عنہم کی روشنی میں

  ابوطلحہ قاسمی خیرآبادی

صفحہ 2 از 5

یعنی طلاق کی بابت جو اللہ سے ڈرے اوراس کے بنائے ہوئے طریقے کے مطابق طلاق دے تو ممکن ہے کہ اللہ اس پر رحم و کرم اور نرمی کا معاملہ کریں اور کوئی سبیل پیدا فرما دیں بایں طور کہ طلاق کے بعد اللہ تعالیٰ شوہر کے دل میں بیوی کی محبت پیدا کردیں اور شوہر بیوی کو چاہنے لگے اور رجعت کرلے، اور ظاہر ہے کہ تین طلاق دینے کی صورت میں رجعت نہیں کرسکتا۔

مندرجہ بالا آیتوں میں سے کسی ایک بھی آیت میں تیسری قسم کا بیان ہے ہی نہیں کہ جس نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاق دیدی تو اس کا کیا حکم ہے، قرآن نے اس کا ذکر ہی نہیں چھیڑا ہے بلکہ اس کا ذکر صرف احادیث صحیحہ شریفہ میں آیا ہے، اس لیے ایک مجلس کی تین طلاق کو تین ماننے پر قرآن کریم سے استدلال جس طرح غلط ہے اس سے کہیں زیادہ غلط یہ نظریہ ہے کہ ”ایک مجلس کی تین طلاق کو ایک مانا جائے، تین ماننا قرآن کے خلاف ہے“ اس لئے کہ جب قرآن میں سرے سے اس کا ذکر ہی نہیں ہے تو ایک ماننے کو قرآن کے حکم کے موافق اور تین ماننے کو قرآن کے خلاف بتانا کہاں کا انصاف ہے؟ اور تمام اصولیین کے نزدیک یہ قاعدہ مسلم ہے کہ جب کوئی حکم قرآن میں مذکور نہ ہو تو احادیث کی طرف رجوع کیاجائے گا اور احادیث کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا اور اس صورت میں حدیث ”جاء بحکم لم یُذکَر فی القرآن الکریم“ کے قبیل سے ہوگی۔

طلاق ثلاثہ اور ائمہ مجتہدین

پہلے ہم ایک مجلس کی تین طلاق کی بابت ائمہ اربعہ رحمہم اللہ (جو اسلام کے سب سے اعلیٰ اور ممتاز ترین ماہر قانون تھے) کا نظریہ ذکر کریں گے کہ ان حضرات نے مجلس کی تین طلاق کو ایک مانا ہے یا تین۔ پھر ان احادیث و آثار کو ذکر کریں گے جن میں ایک مجلس کی تین طلاق کا ذکر ملتا ہے کہ ان احادیث و آثار میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کیا فیصلے اور فتاوے صادر فرمائے ۔

امام نووی ایک مجلس کی تین طلاق کے بارے میں ائمہ اربعہ کا نظریہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ: علماء کا اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے جو اپنی بیوی سے انت طالق ثلاثا کہے (میں تجھے تین طلاق دیتا ہوں) امام شافعی، امام مالک، امام ابوحنیفہ، امام احمد اور جمہور علماء سلف و خلف اس بات کے قائل ہیں کہ تینوں واقع ہوجائیں گی۔ (شرح نووی علی صحیح مسلم: جلد، 5 صفحہ، 328  تحقیق حازم محمد و اصحابہ، طباعت: 1995)

امام نووی کے اس بیان سے معلوم ہوگیا کہ ائمہ اربعہ نے ایک مجلس کی تین طلاق کو تین ہی مانا ہے، ایک نہیں مانا، لیکن افسوس غیر مقلدین پر نہیں ہے بلکہ حیرت اور تعجب ان لوگوں پر ہے جو اپنے آپ کو مقلد بھی ظاہر کرتے اور کہتے ہیں۔ پھر بھی ائمہ اربعہ کے مسلک کو پس پشت ڈال دیتے ہیں اور مجلس کی تین طلاق کو ایک ماننے پر اصرار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تین ماننا اسلامی انصاف اور قانون کو مسخ کرنا ہے۔ اب ہم ان احادیث کو ذکر کریں گے جن میں ایک مجلس کی تین طلاق کا ذکر ملتا ہے۔

طلاق ثلاثہ اور احادیث

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک صحابی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں، اس عورت نے دوسرا نکاح کرلیا، دوسرے شوہر نے بھی (قبل الوطی) طلاق دے دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا وہ پہلے مرد کے لیے حلال ہوگئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں جب تک دوسرا شوہر پہلے شوہر کی طرح لطف اندوز نہ ہولے۔

(صحیح بخاری: 5261، صحیح مسلم: 1433)

ایک مجلس کی تین طلاق کو ایک ماننے والے حضرات کہتے ہیں کہ اس حدیث میں ”طلق امرأتہ ثلاثًا“ میں ثلاث سے مراد ثلاث مفرقہ ہے یعنی یہ تینوں طلاقیں ایک مجلس میں نہیں دی گئی تھیں اس لئے اس حدیث سے ایک مجلس کی تین طلاق کے جواز پر استدلال فاسد ہے۔

لیکن ان حضرات کا ثلاث سے ”ثلاثل مفرقہ“ (تین طہر میں ایک ایک کرکے طلاق دینا)مراد لینا غلط ہے بلکہ ثلاث سے مراد ثلاث مجموعہ (ایک ہی دفعہ تینوں طلاق دینا) ہے کہ صحابی نے دفعة واحدہ (ایک مجلس میں) تینوں طلاق دی تھی، ثلاث مفرقہ مراد لینا خلاف ظاہر ہے اوراس پر کوئی قرینہ بھی موجود نہیں ہے، اس کے برعکس ثلاث مجموعہ مراد لینا ظاہر لفظ کے عین مطابق ہے۔ نیز ثلاث مجموع کے متعین ہونے کی تائید امام بخاری جیسے حدیث داں اور محدث کے ترجمة الباب سے ہوتی ہے۔ موصوف اس حدیث پریوں باب قائم کرتے ہیں: باب من جَوّز الطلاقَ الثلاث، اور شارح بخاری حافظ ابن حجر ترجمة الباب کی اس طرح وضاحت کرتے ہیں:

ہذا یرجح أن المراد بالترجمة بیان من أجاز الطلاق الثلاث ولم یکرہہ، اس سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ ترجمة الباب کا مقصداس امر کا بیان ہے کہ تین طلاقوں کو جائز قرار دیا اور اس کو مکروہ نہیں سمجھا۔

(فتح الباری: جلد، 9 صفحہ، 367)

ایک مجلس کی تین طلاق کے جائز اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہونے کی دوسری دلیل یہ ہے کہ حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ رفاعہ قزطی کی بیوی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اور کہا کہ اے اللہ کے رسول: ان رفاعة طلقنی فَبَتَّ طلاقی کہ رفاعہ نے مجھے طلاق قطعی دیدی (عدت گزرنے کے بعد) میں نے عبدالرحمن بن الزبیر سے نکاح کرلیا لیکن ان کے اندر قوت رجولیت ختم ہوگئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید تمہاری خواہش یہ ہے کہ پھر رفاعہ کی زوجیت میں چلی جاؤ، ایسا نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ (عبدالرحمن) تم سے اور تم اس سے لطف اندوز نہ ہولو۔ (بخاری: 5270)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی پہلی حدیث اور یہ حدیث دونوں الگ الگ ہے، حافظ ابن حجر نے اسی کو راجح قرار دیا ہے اور دونوں حدیث کو الگ الگ واقعے پر محمول کیا ہے۔

مجلس کی تین طلاق کا انکار کرنے والے اس حدیث کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس میں طلاق البتہ کا ذکر ہے تین طلاق کا ذکر نہیں ہے، لیکن یہ کہنا کم علمی کی دلیل ہے اس لیے کہ خود امام بخاری نے کتاب اللباس میں اس حدیث کو ذکر کیا ہے اور اس میں ”ثلاث تطلیقات“ ہے کہ رفاعہ نے تین طلاق دی تھی۔ طلاق البتہ (مغلظہ) نہیں دی تھی یہ راوی کا اپنا بیان ہے۔

صفحہ 2 از 5