شیعہ کا چندہ مسجد میں لینا
سوال: تبرائی رافضی شیعہ اثنا عشریہ جن کی معتبر کتابوں میں جن سے وہ اپنے احکام و مسائل اخذ کرتے ہیں یہ مذکور ہے کہ موجودہ قرآن مجید محرف اور مبدّل ہے اور اس میں کمی بیشی کی گئی ہے اور ان کی روایات متواتر صحیحہ کے مطابق شیعہ مشائخ کا اعتقاد ہے کہ موجودہ قرآن کامل مکمل نہیں بلکہ حرف و مبدل و مغیر ہے، اور شیعوں نے لکھا ہے کہ ہماری دو ہزار سے زیادہ روایتیں تحریفِ قرآن پر دلالت کرتی ہیں۔ اور شیعوں کا یہ عقیدہ ہے کہ اصلی قرآن اور پورا قرآن امام مہدی کے پاس ہے۔ جب امام مہدی آئیں گے۔ امام محمد باقر نے فرمایا: چون قائم ما ظاهر شود عائشہ ؓو را زنده کنند بر او حد بزند: اور حضرت عباسؓ و عقیلؓ کے متعلق فرماتے ہیں کہ ان کا ایمان پورا نہیں تھا، ضعیف الیقین و اور ذلیل النفس تھے۔ (معاذ اللہ )
اب ان عبارات اور عقائد کی موجودگی میں یہ مسلمان ہیں یا کافر؟ ان کے ساتھ مناکحت جائز ہے یا نہیں؟ ان کا ذبیحہ حرام ہے یا حلال؟ اور ان کی نمازِ جنازہ پڑھنا یا ان کو اپنے جنازہ میں شریک کرنا جائز ہے یا نہیں؟ نیز اگر شیعہ مسجد کی تعمیر کے لئے چندہ دیں تو ان سے وصول کیا جائے یا نہیں؟
جواب: رافضی تبرائی شیعہ جن کی معتبر کتابوں میں مذکورہ عبارات ہیں، خارج از اسلام ہیں۔ جن علماء نے ان کی تکفیر میں تامل کیا ہے ان کو ان کے تقیہ اور کتمان کی وجہ سے حقیقت کما ینبغی معلوم نہیں ہو سکی مگر آج ان کی کتابیں نایاب نہیں رہیں، ان کے مذہب کی حقیقت منکشف ہو گئی ہے، اس لیے تمام محققین ان کی تکفیر پر متفق ہو چکے ہیں۔
ضروریاتِ دین کا انکار قطعاً کفر ہے، قرآن شریف ضروریاتِ دین میں سے اعلیٰ و ارفع چیز ہے۔ شیعوں کی کتابوں میں معتبر ہیں اور متواتر زائد از دو ہزار روایتیں پائی جاتی ہیں کہ موجودہ قرآن پورا نہیں۔ ایک صحیح واضح روایت بھی کسی ایک امام سے نہیں ملتی جو اس بات پر دلالت کرے کہ موجودہ قرآن کامل مکمل صحیح ہے۔
المختصر شیعی تبرائیوں اور رافضیوں کا کفر بر بنائے عقیدہ تحریفِ قرآن محل تردد نہیں۔ اس کے علاوہ دوسرے وجوہ کفر بھی ہیں مثلاً عقیده بداء و قذف ام المؤمنین وغیرہ۔
لہٰذا شیعوں رافضیوں سے مناکحت ناجائز اور ان کا ذبیحہ حرام ہے اور ان کا چندہ لینا ناجائز اور ان کا جنازہ پڑھنا یا ان کو اپنے جنازہ میں شریک کرنا قطعاً ناجائز ہے۔ سنی کے جنازہ میں بددعا کرتے ہیں اور ان کا یہ عقیدہ ہے کہ جو لوگ ابوبکرؓ کو پہلا خلیفہ مانتے ہیں وہ کتے اور ولد الزنا سے بھی بدتر ہیں۔
(آتشکده ایران اور شیعہ کی اصلیت: صفحہ 83)