مسجد كا رقم تعزيہ ميں خرچ کرنا - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

مسجد كا رقم تعزيہ ميں خرچ کرنا


سوال: ایک متولی نے اپنی مسجد کا حساب پیش کیا، جس میں اندازاً 2 سے 3 ہزار کی رقم محرم کے تعزیہ بنانے میں اور محرم میں لائٹ اور زینت اور ڈھول بالبہ اور نیاز وغیرہ میں خرچ کی تھی۔ تو کیا متولی خود یا جماعت کی اجازت سے مسجد کی رقم ان کاموں میں خرچ کر سکتا ہے؟ ایسا شخص متولی بننے کے لائق ہے؟ اور اس خرچ کا ذمہ دار کون ہو گا؟

جواب: مسجد کی رقم اور اس کی آمدنی مسجد اور مسجد کی ضروریات میں ہی خرچ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر کاموں میں خرچ کرنا جائز نہیں ہے۔ جنہوں نے وہ رقم گناہ والے کاموں میں خرچ کی ہے وہ اس کے ضامن ہیں، انہیں وہ رقم مسجد میں جمع کر دینی چاہیے، ورنہ اللہ تعالیٰ جل شانہ کے یہاں سخت جواب دینا پڑے گا۔(فتاوىٰ دينيہ: جلد 2 صفحہ 260)