مفتی اسماعیل کچهولوی کا فتویٰ - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

مفتی اسماعیل کچهولوی کا فتویٰ


تعزیہ میں شرکت کرنے والے کی امامت کا حکم

سوال:ایک شخص دینی علوم کا حامل ہے، یعنی حافظ یا قاری جیسی سندیں اس کے پاس ہیں، پھر بھی وہ شخص راتب میں بیٹھتا ہے، ڈھول بجاتا ہے۔ تو کیا ایسے شخص کے لیے ایسا کرنا جائز ہے؟ ایسا شخص لوگوں کی امامت کر سکتا ہے؟

جواب:ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ جل شانہ اور رسولﷺ کے احکام کی فرمانبرداری کرے، اور عالم یا دینی علوم کے حامل یا امام کو تو اور زیادہ توجہ رکھنی چاہیے، اور عمل کرنا چاہیے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ جل شانہ نے سے بہت بڑے مرتبہ سے نوازا ہے۔ ڈھول بجانا، راتب کی محفل قائم کرنا یا اس میں شرکت کرنا، تعزیہ میں شرکت کرنا گناہ کے کام ہیں اور یہ شرک تک لے جانے والی چیزیں ہیں۔ اس میں شریک ہونا یا ڈھول بجا کر لوگوں کو ناچنے پر آمادہ کرنا یہ حضور اکرمﷺ سے محبت کی نشانی نہیں ہے، بلکہ حضرت حسینؓ کے قاتلین کے ساتھ کامل مشابہت ہے کہ جنہوں نے حضور اکرمﷺ کے جگر کے ٹکڑے کو ظلماً شہید کر دیا اور اس کی خوشی میں ناچے۔ اس لیے ہر مسلمان کو ایسے فعل سے بچنا چاہیے اور اس سے توبہ کرنی چاہیے، جب تک یہ شخص توبہ نہ کرے وہ امامت کے لائق نہیں ہے، اس کی امامت مکروہِ تحریمی ہو گی۔ (فتاویٰ دینیہ: جلد 2 صفحہ 57)