برصغیر میں صحابہ رضی اللہ عنہم تابعین اور تبع تابعین کے…

برصغیر میں صحابہ رضی اللہ عنہم تابعین اور تبع تابعین کے اولین نقوش

  (مولانا) حذیفہ وستانوی استاذ جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم

صفحہ 5 از 5
خلاصہ کلام یہ کہ محمد بن قاسم الثقفیؒ کی شہادت کے (مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ کی تحقیق کے مطابق) تین سو برس تک مسلمانوں نے ہندوستان پر کوئی بڑی جنگی کاروائی نہیں کی، البتہ اس دوران چھوٹے چھوٹے حملے ہوتے رہے، مثلاً محمد بن قاسمؒ نے اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے، حکم کے دستِ راست بن کر فتوحات کا سلسلہ جاری رکھا، پھر اسی کے بعد خلافتِ بنو اُمیہ کا خاتمہ ہو گیا اور خلافتِ عباسیہ 132ھ بمطابق 750ء میں قائم ہوئی۔ خلافتِ عباسیہ کے دور میں ہشام 140ہجری میں سندھ کے علاقہ میں آیا اور کاٹھیاوار کے علاقہ کو اس نے فتح کیا اور اور گجرات میں سب سے پہلی مسجد بنوائی پھر شمال میں کشمیر کے بعض علاقوں کو فتح کیا۔ صاحب ”آبِ کوثر“ شیخ اکرم فرماتے ہیں کہ فتح سندھ کے سات سال تک تو عرب فاتحین کا پلہ بھاری رہا، مگر پھر یمنی اور حجازی آپسی عرب اختلاف کی وجہ سے غیروں نے فائدہ اٹھایا، چنانچہ جاٹوں نے شمالی سندھ میں اور جنوبی سندھ میں ”میڈ“ قوموں نے اپنا اثر و رسوخ قائم کر لیا اور 237ھ بمطابق 854ء کے آنے تک پھر ہباری خاندان کی موروثی حکومت شروع ہو گئی پھر قرامطہ اسماعیلی شیعہ کا 270ھ میں ملتان پر قبضہ ہو گیا، قرامطہ کے تسلط کے بعد سلطان محمد غزنوی 367ھ 997ء میں ہندوستان میں داخل ہوئے اور ایک عظیم اسلامی مملکت کی بنیاد ڈالی جو مختلف مراحل اور خاندانوں سے گذرتی ہوئی 1857ء تک باقی رہی سلطان ایک نیک دل عادل بادشاہ تھا سلطان غزنوی تاریخِ اسلام کا ایک درخشندہ ستارہ ہے جس نے مملکت اور عیش کو مقصد نہیں بلکہ احیاءِ اسلام اور اعلاء کلمة اللہ اور جہاد فی سبیل اللہ کو زندگی کا مقصد بنایا اور وہ اس میں الحمد للہ کامیاب رہا۔
 ”اللھم انزل شأبیب حرمتک علیہ“

صفحہ 5 از 5