برصغیر میں صحابہ رضی اللہ عنہم تابعین اور تبع تابعین کے…

برصغیر میں صحابہ رضی اللہ عنہم تابعین اور تبع تابعین کے اولین نقوش

  (مولانا) حذیفہ وستانوی استاذ جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم

صفحہ 4 از 5
محمد بن قاسمؒ جیسے مردِ مجاہد کے بعد، سرزمینِ ہند پر اعلاء کلمة اللہ کے لیے یزید بن مہلب نے بھی اپنی خدمات انجام دیں، قبل اس کے ہم دیگر مجاہدین و مصلحین کا اجمالی تذکرہ کریں، قبیلہ ثقیف کی قابلِ قدر خدمات جو انہوں نے سرزمینِ ہند پر اسلام پہنچانے کے سلسلے میں کی، جس کا آغاز 15ھ سے سیدنا عثمان بن ابی العاص اور سیدنا حکم بن ابی العاص اور سیدنا مغیرہ بن ابی العاص الثقیفیون رضی اللہ عنہم سے ہوتا ہے اور اختتام حجاج بن یوسف اور محمد بن قاسم رحمۃ اللہ پر ہوتا ہے؛ قبیلہ ثقیف کے اہلِ ہند پر احسانِ عظیم کے سلسلہ میں مؤرخ کبیر و محقق عظیم قاضی اطہر مبارکپوری کی عبارت پڑھنے کے قابل ہے۔
قاضی صاحب رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:
”ہندوستان طائف اور اس کے قبیلہ بنو ثقیف کا یہ احسان کبھی نہیں بھول سکتا ہے، جس نے ہندوستان کو اپنی دینی و روحانی توجہ کا مرکز بنا کر جب بھی اسے اقتدار ملا اس کی طرف رخ کیا، عہدِ فاروقی رضی اللہ عنہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بحرین و عمان کی گورنری پاتے ہی اپنے بھائیوں سیدنا حکم رضی اللہ عنہ اور سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کو یہاں اسلام کی برکت دے کر روانہ کیا اور اُموی دورِ خلافت میں حجاج بن یوسف ثقفی نے عراق کی گورنری پا کر، اپنے جواں سال بھتیجے محمد بن قاسمؒ کو خلافت کے زیرِ اہتمام باقاعدہ اسلامی فوج کے ساتھ ہندوستان روانہ کیا“۔ 
(عہد نبوی کا ہندوستان: صفحہ، 246)
مؤرخ کبیر رحمۃ اللہ کے قبیلہ بنوثقیف کے بارے میں، اہلِ ہند پر احسان عظیم ذکر کرنے کے ساتھ ہی ذہن اس واقعہ کی طرف منتقل ہوا ،جو نبی کریمﷺ کو امام ابنِ کثیر رحمۃ اللہ کی تحقیق کے مطابق ہجرت سے تین سال قبل یعنی 10 نبوی یا 11 نبوی میں طائف کے سفر کے دوران پیش آیا، جب کہ طائف کے اوباشوں نے نبی کریمﷺ کو ستایا تھا اور آپﷺ کو لہولہان کر دیا تھا، جس کے بارے میں خود نبی کریمﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے استفسار کرنے پر فرمایا تھا:
ما لقیت من قومک کان اشد منہ یوم العقبة إذ عرضت نفسی علی بن عبد یالیل بن عبد کلال فلم یجب إلی ما اردت۔ 
(البدایہ النہایة: جلد، 3 صفحہ، 110)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں (جنگِ احد کے بعد) ایک روز رسول اللہﷺ سے میں نے دریافت کیا 
”ھل أتیٰ علیک یوم کان اشد علیک من یوم احد“
(البدایة والنہایة)
 یا رسول اللہﷺ کیا آپﷺ پر اُحد سے زیادہ سخت دن کوئی گزرا، تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ہاں احد سے بھی زیادہ سخت دن مجھ پر وہ تھا جب کہ (قبیلہ بنوثقیف کے سردار) عبدیالیل اور عبد کلال کو اسلام کی دعوت دی، تو انہوں نے میرے گمان کے خلاف مجھے جواب دیا، جب محزون و ملول واپس ہوا، اور مقامِ ”قرن ثعلب“ پر پہنچا، تو میں نے سر اٹھایا، تو اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ بادل مجھ پر سایہ فگن ہے، پھر کچھ دیر بعد اسی بادل سے حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آواز دی اور کہنے لگے کہ اہلِ طائف نے آپﷺ کے ساتھ جو سلوک کیا اللہ رب العزت نے اس کو دیکھا اور مَلک الجبال کو آپﷺ کی خدمت میں بھیجا ہے، آپﷺ اس کو جو چاہے حکم دے دیں، پھر ”مَلک الجبال“ نمودار ہوئے اور ”سلام“ کیا اور کہنے لگے، اللہ رب العزت نے مجھے آپﷺ کی جانب ارسال فرمایا، اگر آپﷺ حکم دیں تو اہلِ طائف اور قبیلہ ثقیف کو دو پہاڑیوں کے درمیان پیس دیا جائے، مگر ہزار جان قربان حضرت محمدﷺ پر کہ آپﷺ نے جواب دیا: 
”ارجو أن یخرج اللہ من أصلابھم من یعبد اللہَ ولا یشرک بہ شیئاً“ 
ترجمہ: مجھے امید ہے کہ اللہ ان کی نسلوں سے ایسے لوگوں کو پیدا فرمائیں گے، جن کی زبان پر توحید کے زمزمے ہوں گے اور جن کے سینے شرک کی آلائشوں سے صاف و شفاف ہوں گے، بس اللہ کے رسولﷺ کی حیاتِ طیبہ میں پیش آنے والا سخت ترین دن کی یہ دعا عرشِ معلیٰ تک پہنچ گئی۔
مؤمن کی دعا پَر نہیں مگر طاقتِ پرواز رکھتی ہیں، ایک تو نبی اکرمﷺ کا دعا دینا ہی کافی تھا اور وہ بھی سخت غم اور حزن کی حالت میں بھلا ایسی دعا کی قبولیت میں کیا شک ہو سکتا ہے، اسی دعا کا نتیجہ تھا کہ حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ اور اخیر میں محمد بن قاسم نے، ہندوستان کی شرک و کفر کی مسموم فضاء میں توحیدِ خالص کے زمزمے اور صدائیں بلند کرنے کا فیصلہ کیا اور یوں عرب کے ریگستان سے طویل مسافت پر واقع ملک ہندوستان میں قبیلہ ثقیف اسلام کی بنیادیں قائم کرنے میں کامیاب ہوا، قیامت تک اہلِ ہند کے کارِ ہائے خیر کا ثواب قبیلہ ثقیف کے میزانِ حسنات میں لکھا جاتا رہے گا، ان شاء اللہ۔ اہلِ ہند اس قبیلہ کا جتنا بھی شکر و احسان مانیں کم ہے۔
 جزاھم اللہ عنا خیر الجزاء واحسن الجزاء فی الدنیا و الآخرة“۔ آمین یا رب العالمین!
صفحہ 4 از 5